Book Name:Sirat ul jinan jild 6

میں  ڈوبتا معلوم ہوتا ہے۔(مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۶ ،  ص۶۶۲ ،  جمل ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۶ ،  ۴ / ۴۵۲-۴۵۳ ،  ملتقطاً)

{وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا:اور اس چشمے کے پاس ہی ایک  قوم کو پایا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس چشمے کے پاس ہی ایک ایسی قوم کو پایا جو شکار کئے ہوئے جانوروں  کے چمڑے پہنے تھے ،  اس کے سوا اُن کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھے اور دریائی مردہ جانور اُن کی غذا تھے۔ یہ لوگ کافر تھے۔  اللہ تعالیٰ نے اِلہام کے طور پرفرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں  سزا دے اور اُن میں  سے جو اسلام میں  داخل نہ ہو اس کو قتل کردے یا اگر وہ ایمان لائیں تو ان کے بارے میں  بھلائی اختیار کر اور انہیں  اَحکامِ شرع کی تعلیم دے ۔ بعض مفسرین کے نزدیک  اللہ تعالیٰ نے یہ کلام اپنے کسی نبی عَلَیْہِ  السَّلَام سے فرمایا اور انہوں  نے حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے یہ بات کہی۔( مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۶ ،  ص۶۶۲)

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا(۸۷)وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اﰳلْحُسْنٰىۚ- وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا اسے تو ہم عنقریب سزادیں  گے پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا وہ اسے بری مار دے گا۔  اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کہا : بہرحال جس نے ظلم کیا تو عنقریب ہم اسے سزا دیں  گے پھروہ اپنے رب کی طرف لوٹایاجائے گا تو وہ اسے بہت برا عذاب دے گا۔اور بہر حال جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اس کو آسان کام کہیں  گے۔

{قَالَ:کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ذوالقر نین نے  اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملنے کے بعد ان نبی عَلَیْہِ  السَّلَام سے عرض کی یا اپنے پاس موجود خاص ساتھیوں  سے کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں  گے ،  یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے  ،  پھر وہ قیا مت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں  کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں  گے اور اس کو ایسی چیزوں  کا حکم دیں  گے جو اس پر سہل ہوں  دشوار نہ ہوں ۔( ابو سعود ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸ ،  ۳ / ۴۰۳ ،  مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸ ،  ص۶۶۲ ،  جلالین ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸ ،  ص۲۵۱ ،  ملتقطاً)

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا(۸۹)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ(۹۰) كَذٰلِكَؕ-وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ایک سامان کے پیچھے چلا۔یہاں  تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں  رکھی۔  بات یہی ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:پھر وہ ایک راستے کے پیچھے چلا۔ یہاں  تک کہ جب سورج طلوع ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک ایسی قوم پرطلوع ہوتا ہوا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں  رکھی تھی۔ بات اسی طرح ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے۔

{ثُمَّ:پھر۔} یعنی حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ   مشرق کی طرف ایک راستے کے پیچھے چلے۔( جلالین ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۹ ،  ص۲۵۱)

{سِتْرًا:آڑ۔} مفسرین فرماتے ہیں  کہ وہ قوم اس جگہ پر تھی جہاں  ان کے اور سورج کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی اور نہ وہاں  زمین کی نرمی کی وجہ سے کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں  کے لوگوں  کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت زمین کے اندر بنائے ہوئے تہ خانوں  میں  گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے۔(خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ۳ / ۲۲۴ ،  روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ۵ / ۲۹۴ ،  ملتقطاً)

{ كَذٰلِكَ:بات اسی طرح ہے۔} یعنی حضرت ذوالقر نین کی بادشاہی کی وسعت اور ان کا بلند مرتبہ جو ہم نے بیان کیا ان کا معاملہ اسی طرح ہے۔ مفسرین نے ’’  کَذٰلِکَ ‘‘ کے معنی میں  یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے جیسا مغربی قوم کے ساتھ سلوک کیا تھا ایسا ہی اہلِ مشرق کے ساتھ بھی کیا کیونکہ یہ لوگ بھی ان کی طرح کافر تھے توجوان میں  سے ایمان لائے اُن کے ساتھ احسان کیا اور جوکفر پراڑے رہے انہیں  سزا دی۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۱ ،  ۵ / ۲۹۵)

{وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا:اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ حضرت ذوالقر نین کے پاس جو فوج  ، لشکر ،  آلاتِ جنگ اور سامانِ سلطنت وغیرہ تھا سب ہمارے علم میں  ہے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جب ہم نے حضرت ذوالقرنین کو اقتدار عطا کیا تو اس وقت ا س کے پاس جتنی ملک داری کی قابلیت اور اُمورِ مملکت سر انجام دینے کی لیاقت تھی سب ہمیں  معلوم تھی۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۱ ،  ۳ / ۲۲۴)

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا(۹۲)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًاۙ-لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ایک ساما ن کے پیچھے چلا ۔یہاں  تک کہ جب دو پہاڑوں  کے بیچ پہنچا ان سے ادھر کچھ ایسے لوگ پائے کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر وہ ایک اور راستے کے پیچھے چلا ۔ یہاں  تک کہ جب دو پہاڑوں  کے درمیان پہنچا تو اس نے ان پہاڑوں  کے آگے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

{ثُمَّ:پھر۔} حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جب مشرق و مغرب تک پہنچ گئے تو اب کی بار انہوں  نے شمال کی جانب سفر شروع فرمایا یہاں  تک کہ وہ دو پہاڑوں  کے درمیان تک جا پہنچے اور یہ سب  اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علم اور قدرت کی وجہ سے واقع ہوا۔( تفسیرکبیر ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۲ ،  ۷ / ۴۹۸ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۲-۹۳ ،  ۳ / ۲۲۴)

{وَجَدَ:اس نے پایا۔} جب حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ شمال کی جانب ا س جگہ پہنچے جہاں  انسانی آبادی ختم ہو جاتی تھی تووہاں  دو بڑے عالیشان پہاڑ دیکھے جن کے اُس طرف یاجوج



Total Pages: 235

Go To