Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اس سے اچھا نہیں  دیکھا تھا۔ میں  نے حضرت امام مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے عرض کی: یہ کتنا خوبصورت ہے۔ انہوں  نے فرمایا ’’اے ابو عبداللّٰہ! یہ میری طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ میں  نے عرض کی: آپ اس میں  سے ایک جانور اپنی سواری کے لئے رکھ لیں ۔ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا: مجھے  اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں  اس مبارک مٹی کو جانور کے (اوپر سوار ہو کر اس کے) کھروں  سے روندوں  جس میں   اللہ تعالیٰ کے حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(کا روضۂ انور) موجود ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب العلم ،  الباب الثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامہما۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۴۸)

ہاں  ہاں  رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ      او پاؤں  رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے

 وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میں  نے تجھے پسند کیا اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  نے تجھے پسند کیا تواب اسے غور سے سن جو وحی کی جاتی ہے۔

{وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ:اور میں  نے تجھے پسند کیا ۔}  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشاد فرمایا کہ میں  نے تیری قوم میں  سے تجھے نبوت و رسالت کے لئے پسند کر لیا اور تجھے اپنے ساتھ کلام کرنے کے شرف سے مشرف فرمایا تواب اسے غور سے سن جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے۔( جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ص۲۶۱ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ۳ / ۲۵۰ ،  ملتقطاً)

            حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اس فضیلت کا ذکر ایک اور مقام پر صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا:

’’یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ ﳲ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ‘‘(اعراف:۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے موسیٰ! میں  نے اپنی رسالتوں  اور اپنےکلام کے ساتھ تجھے لوگوں  پر منتخب کرلیاتو جو میں  نے تمہیں  عطا فرمایاہے اسے لے لو اور شکر گزاروں  میں  سے ہوجاؤ۔

            نیز حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جو ندا سنی اس کی کیفیت کے بارے میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ ندا اپنے بدن کے ہر جُزْو سے سنی اور سننے کی قوت ایسی عام ہوئی کہ پورا جسمِ اَقدس کان بن گیا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۳ / ۲۵۰)

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْۙ-وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک میں  ہی ہوں   اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں  تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک میں  ہی  اللہ ہوں   ، میرے سوا کوئی معبود نہیں  تو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔

{اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ:بیشک میں  ہی  اللہ ہوں ۔}ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  بیشک میں  ہی  اللہ ہوں  اور میرے سوا کوئی معبود نہیں  ،  تو تم میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھو تاکہ تم اس میں  مجھے یاد کرو اور میری یاد میں  اخلاص ہوا ور میری رضا کے علاوہ کوئی دوسری غرض مقصود نہ ہو ،  اسی طرح اس میں  ریا کا دخل نہ ہو۔آیت کے آخری حصے ’’وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ‘‘ کا ایک معنی یہ بھی بیان کیاگیا ہے کہ تم میری نماز قائم رکھو تاکہ میں  تجھے اپنی رحمت سے یاد فرماؤں۔(خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۳ / ۲۵۰ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۶۸۸ ،  ملتقطاً)

آیت’’وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 3 باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… ایمان کے بعد سب سے اہم فریضہ نماز ہے۔

(2)… نماز کی ادائیگی اخلاص کے ساتھ ،   اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی یاد کیلئے ہونی چاہیے نہ کہ لوگوں  کو دکھانے کیلئے۔

(3)… نمازادا کرنے والے بندے کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اپنی رحمت کے ساتھ یاد فرماتا ہے ۔

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں  اسے سب سے چھپاؤں  کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک قیامت آنے والی ہے ۔ قریب ہے کہ میں  اسے چھپارکھوں  تاکہ ہر جان کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے۔

{اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ:بیشک قیامت آنے والی ہے ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک قیامت لازمی طور پر آنے والی ہے اور قریب تھا کہ  اللہ تعالیٰ اسے سب سے چھپا کر رکھتا اور یہ فرما کر بندوں  کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ دیتا کہ بے شک قیامت آنے والی ہے ،  یعنی لوگوں  کو اِس بات کا علم ہی نہ ہوتا کہ کوئی قیامت کا دن بھی ہے (اگر ایسا ہوتا تو لوگ بالکل ہی غفلت و لاعلمی میں  مارے جاتے)۔ لیکن اس کے برعکس انہیں  قیامت آنے کی خبر دی گئی ہے جس میں  حکمت یہ ہے کہ لوگوں  کو معلوم ہو جائے کہ ہر جان کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیاجائے گا البتہ اِس کے ساتھ انہیں  مُتَعَیَّن وقت نہیں  بتایا گیا (کہ وہ بھی کئی اعتبار سے اکثر لوگوں  کیلئے غفلت کا سبب بن جاتا لہٰذا) اِس کی جگہ بغیر مُعَیَّن وقت بتائے محض قیامت کی خبر دیدی تاکہ اُس کے کسی بھی وقت آنے کے خوف سے لوگ گناہوں  کوترک کردیں  ،  نیکیاں  زیادہ کریں  اور ہر وقت توبہ کرتے رہیں ۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۶۸۸ ،  ملتقطاً)

موت اور قیامت کا وقت چھپائے جانے کی حکمت:

            یاد رہے کہ اس آیت میں  یہ تو بتایا گیا ہے کہ قیامت آئے گی لیکن یہ نہیں  بتایا گیا کہ کب آئے گی ،  اسی طرح دیگر آیات میں  یہ تو بتایا گیا ہے کہ ہر جاندار کو موت آئے گی لیکن یہ نہیں  بتایا گیاکہ کب اور کس وقت آئے گی ،  اس سے معلوم ہوا کہ قیامت اور موت دونوں  کے آنے کا وقت بندوں  سے چھپایا گیا ہے اور ان کا وقت چھپانے میں  بھی حکمت ہے ،  جیسے قیامت



Total Pages: 235

Go To