Book Name:Sirat ul jinan jild 6

السَّلَام کو ند اکی جاتی ہے کہ  اللہ تعالیٰ فلاں  بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَاماس سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَامآسمانی مخلوق میں  ندا کرتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ فلاں  بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ،  چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں  ،  پھر زمین والوں  میں  اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔( بخاری ،  کتاب بدء الخلق ،  باب ذکر الملائکۃ ،  ۲ / ۳۸۲ ،  الحدیث: ۳۲۰۹)

             اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اَولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ اور خواجہ غریب نواز اور داتا گنج بخش علی ہجویری اور دیگر معروف اَولیاء کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی عام مقبولیت ان کی محبوبیت کی دلیل ہے۔

            نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ولی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ خَلقت اسے ولی کہے اور اس کی طرف قدرتی طور پر دل کو رغبت ہو۔ دیکھ لیں  ،  آج اولیاء  اللہ اپنے مزارات میں  سور ہے ہیں  اور لوگ ان کی طرف کھچے چلے جا رہے ہیں  حالانکہ انہیں  کسی نے دیکھا بھی نہیں ۔

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا(۹۷)وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍؕ-هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں  یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں  کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں  کو اس سے ڈر سناؤ۔ اور ہم نے ان سے پہلی کتنی سنگتیں  کھپائیں  کیا تم ان میں  کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک سنتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں  ہی آسان فرمادیا تاکہ تم اس کے ذریعے متقیوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس کے ذریعے ڈر سناؤ۔ اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں  ہلاک کردیں ۔ کیا اب تم ان میں  کسی کو پاتے ہو یا ان کی معمولی سی آواز بھی سنتے ہو ؟

{فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ:تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں  ہی آسان فرمادیا۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان عربی میں  ہی آسان فرما دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے پرہیزگار لوگوں  کو ( اللہ تعالیٰ کی رحمت و رضا کے حصول اور جنت کی )خوشخبری دیں  اور کفارِ قریش کے جھگڑالو لوگوں  کو اس کے ذریعے  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر سنائیں ۔

سورہِ مریم کی آیت97سے متعلق 3اہم باتیں :

            یہاں  اس آیت سے متعلق تین اہم باتیں  ملاحظہ ہوں  ،

(1)… بنیادی طور پر  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے قرآن مجیدآسان فرمادیااور یہ آسان فرمانا اس اعتبار سے ہے کہ اسے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زبان ’’عربی ‘‘میں  نازل کیا گیا جس کی وجہ سے فہم ِقرآن آسان ہو گیا۔

(2)…اس آیت میں عذابِ الہٰی سے ڈرنے والوں  کو خوشخبری دینے اور جھگڑالو قوم کو ڈرانے کے ذریعے تبلیغ کرنے کا فرمایاگیا ، اس سے معلوم ہوا کہ متقی لوگوں  کو  اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ، رضا اور جنت کی بشارت سناکراور جھگڑالو قوم کو  اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب کا ڈر سنا کر تبلیغ کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

(3)…قرآن مجید (سر زمینِ عرب میں ) عربی زبان میں  نازل کیا گیا ،  اس سے معلوم ہواکہ دنیامیں  جس قوم اور علاقے میں  اسلام کی تبلیغ کرنی ہو تواس کے لئے وہاں  کی زبان سیکھی جائے تاکہ وہ لوگ اپنی زبان میں  کی جانے والی تبلیغ کو آسانی سے سمجھ سکیں  اور اسلام کے قریب ہو ں ۔

{وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ:اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں  ہلاک کردیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے کفارِ قریش سے پہلے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے بہت سی امتیں  ہلاک کر دیں ۔ کیا اب تم ان میں  کسی کو پاتے ہو یا ان کی معمولی سی آواز بھی سنتے ہو ؟وہ سب نیست و نابود کر دیئے گئے اسی طرح یہ لوگ اگر وہی طریقہ اختیار کریں  گے تو ان کا بھی وہی انجام ہو گا ۔

سورۂ طٰہٰ

سورۂ طٰہٰ کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ طہ ،  ۳ / ۲۴۸)

رکوع اور  آیات کی تعداد:

            اس میں  8رکوع اور 135 آیتیں  ہیں ۔

’’ طٰہٰ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            طٰہٰ ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک ناموں  میں  سے ایک نام ہے ،  اور ا س سورت کی ابتداء میں  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اس نام سے نداء کی گئی اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’طٰہٰ‘‘ رکھا گیا ہے۔

سورۂ طٰہٰ کے فضائل:

(1) …حضرت معقل بن یسار رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مجھے سورۂ بقرہ ذکر سے عطا کی گئی ہے  ،  سورۂ طٰہٰ اور سورۂ والطور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تختیوں  سے عطا کی گئی ہیں  ،  سورۂ فاتحہ اور سورہ ٔبقرہ کی آخری آیتیں  عرش کے نیچے موجود خزانوں  سے عطا کی گئی ہیں  اور مُفَصَّل (سورتیں ) اضافی دی گئی ہیں ۔(معجم الکبیر ،  



Total Pages: 235

Go To