Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ:حالانکہ رحمٰن کے لائق نہیں۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنا اولاد سے پاک ہونا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ رحمٰن کے لائق نہیں  کہ اولاد اختیار کرے۔ وہ اس سے پاک ہے اور اس کے لئے اولاد ہونا ممکن نہیں  محال ہے کیونکہ بیٹاباپ کا جز ،  اس کی شبیہ ونظیر اور اس کا مددگار ہوتا ہے جبکہ  اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا جز ہو یا اس کی مثل بنے یا کوئی اس کا مددگار ہو۔

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان: آسمانوں  اور زمین میں  جتنے ہیں  سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آسمانوں  اور زمین میں  جتنے ہیں  سب رحمٰن کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں  گے۔

{اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:آسمانوں  اور زمین میں  جتنے ہیں ۔} یہ آیت مبارکہ  اللہ تعالیٰ کے علاوہ دیگر بناوٹی معبودوں کی نفی کی دلیل بھی بن سکتی ہے اور اس بات کی بھی دلیل بن سکتی ہے کہاللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ پہلی صورت میں  اس آیت کا معنی یہ ہو گا کہ کفار زمین پر جن لوگوں  کو اور آسمان پر جن فرشتوں  کو اپنا معبود مانتے ہیں  وہ سب تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے اور صرف اسے ہی سجدہ کرتے ہیں  تو پھر وہ معبود کس طرح ہو سکتے ہیں ۔ دوسری صورت میں  اس آیت کا معنی یہ ہو گا کہ قیامت کے دن تمام جن و اِنس اور فرشتے نیز کفار زمین پر جن لوگوں  کو اور آسمان پر جن فرشتوں  کو  اللہ تعالیٰ کی اولاد بتاتے ہیں  وہ سب  اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں  حاضر ہوں  گے اور یہ بات واضح ہے کہ جو کسی کا بندہ ہوتا ہے وہ اس کی اولاد نہیں  ہوتا اور جو اولاد ہو وہ اس کا بندہ نہیں  ہوتا کیونکہ بندہ ہونا اور اولاد ہونا دونوں  جمع ہو ہی نہیں  سکتے نیز کوئی اپنی اولاد کا مالک نہیں  ہوتا جبکہ  اللہ تعالیٰ توہر چیز کا مالک ہے اور جو خود  اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے تو وہ اس کی اولاد ہرگز نہیں  ہو سکتا۔

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ(۹۴) وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا(۹۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے۔ اور ان میں  ہر ایک روزِ قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس نے انہیں  گھیر رکھا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے خوب گن رکھا ہے ۔ اور ان میں  ہر ایک روزِ قیامت اس کے حضور تنہا آئے گا۔

{لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ:بیشک اس نے انہیں  گھیر رکھا ہے۔} یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے علم و قدرت نے سب کو گھیر رکھا ہے اور ہر ذی روح کے سانسوں  کی  ،  دنوں  کی  ،  تمام اَحوال کی اور جملہ معاملات کی تعداد اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے شمار میں  ہے ،  اس پر کچھ مخفی نہیں  سب اس کی تدبیر و قدرت کے تحت ہیں ۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۳ / ۲۴۷-۲۴۸)

{وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا:اور ان میں  ہر ایک روزِ قیامت اس کے حضور تنہا آئے گا۔} یعنی قیامت کے دن ہر ایک  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ،  مال  ، اولاد اور معین و مددگار کے بغیر تنہا حاضر ہوگا۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ص۶۸۵)

 اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  حاضری کے وقت بہت بڑاخطرہ ہو گا:

            یاد رہے کہ بروزِ قیامت جب بندہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے حاضر ہو گا تو اس وقت دنیا کا مال ،  اولاد ،  دوست اَحباب اور عزیز رشتہ داروں  میں  سے کوئی اس کے ساتھ نہ ہو گا اور نہ ہی کوئی  اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کی مدد کر سکے گا اور اس وقت بہت بڑا خطرہ ہو گا کیونکہ یہ بھی ہو سکتاہے کہ کہا جائے ’’ہم نے دنیا میں  تمہاری پردہ پوشی کی اور آج بھی تجھے بخش رہے ہیں ۔ اس وقت بہت زیادہ خوشی اور سُرور حاصل ہو گا اور پہلے اور بعد والے تم پر رشک کریں  گے ،  ،  یا ،  ،  فرشتوں  سے کہاجائے گا کہ اس برے بندے کو پکڑ کر گلے میں  طوق ڈالو اور پھر اسے جہنم میں  ڈال دو۔ اس وقت تو اتنی بڑی مصیبت میں  مبتلا ہو گا کہ اگر آسمان و زمین تجھ پر روئیں  تو انہیں  مناسب ہے۔ نیز تجھے اس بات پر بہت زیادہ حسرت ہوگی کہ تم نے  اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری میں  کوتاہی کی اور تم نے کمینی دنیا کے لئے اپنی آخرت بیچ ڈالی اور اب تیرے پاس کچھ نہیں ۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت ومابعدہ ،  الشطر الثانی ،  صفۃ المساء لۃ ،  ۵ / ۲۸۰)

ہم ہیں  اُن کے وہ ہیں  تیرے تو ہوئے ہم تیرے     اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے

ان کی امّت میں  بنایا انھیں  رحمت بھیجا   یوں  نہ فرما کہ تِرا رحم میں  دعویٰ کیا ہے

صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب      بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمٰن محبت کردے گا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبت پیدا کردے گا۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک وہ جو ایمان لائے۔} اس سے پہلی آیات میں  مختلف اَقسام کے کافروں  کا رد کیا گیا اور ان کے دُنْیَوی و اُخروی اَحوال کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا اور اب نیک اعمال کرنے والے مسلمانو ں  کاذکر کیا جا رہاہے  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب  اللہ تعالیٰ انہیں  اپنا محبوب بنا لے گا اور اپنے بندوں  کے دلوں  میں  ان کی محبت ڈال دے گا۔( تفسیرکبیر ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ۷ / ۵۶۷ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ۳ / ۲۴۸ ،  ملتقطاً)

محبوبیت کی دلیل اور ولی کی علامت:

            حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ  



Total Pages: 235

Go To