Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کیونکہ ان کی سانسیں  بھی گنی جا رہی ہیں ۔ چنانچہ حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُاپنے وعظ میں  فرمایا کرتے کہ’’ جلدی کرو جلدی کرو ،  یہ چند سانس ہیں  اگر رک گئے تو تم وہ اعمال

نہیں  کر سکو گے جو تمہیں   اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا اور اپنے گناہوں  پر روتا ہے ،  پھر آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے یہ آیت پڑھی’’اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ عَدًّا‘‘ہم تو ان کیلئے گنتی کررہے ہیں ۔ اس سے مراد سانس ہیں  اور آخری عدد جان کا نکلنا ہے  ، پھر گھر والوں  سے جدائی ہے اور قبر میں  داخل ہونے کی آخری گھڑی ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت ومابعدہ  ،  الباب الثانی فی طول الامل وفضیلۃ قصر الامل۔۔۔ الخ  ،  بیان المبادرۃ الی العمل وحذر آفۃ التاخیر ،  ۵ / ۲۰۵-۲۰۶)

              اللہ تعالیٰ ہمیں  گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرنے میں  جلدی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن ہم پرہیزگاروں  کو رحمٰن کی طرف لے جائیں  گے مہمان بناکر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں  کو رحمٰن کی طرف مہمان بنا کرلے جائیں  گے ۔

{یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ:یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں  کو لے جائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ اپنی قوم کو ترغیب دینے اور ڈرانے کے طور پر وہ دن یاد دلائیں  جس دن ہم پرہیزگاروں  اور اطاعت شِعاروں  کو ان کے اس رب کی بارگاہ میں  مہمان بناکر جمع کریں  گے جو اپنی وسیع رحمت کے ساتھ انہیں  ڈھانپے ہوئے ہے۔(روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۵ / ۳۵۶)

اہلِ جنت کے اِعزاز و اِکرام سے متعلق4روایات:

            اس آیت میں  قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ کے پرہیز گار اور اطاعت گزار بندوں  کے اعزاز و اکرام کا ذکر ہوا اور قبروں  سے اٹھ کر میدانِ محشر میں  جانے  ،  وہاں  ٹھہرنے  ، پھر وہاں  سے جنت میں  جانے کے عرصہ کے دوران ان کے اعزاز واکرام کا ذکر کثیر اَحادیث میں  بھی کیا گیا ہے ان میں  سے4 روایات درج ذیل ہیں ۔

(1)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے  ،  نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  اللہ کی قسم! پرہیزگاروں  کوان کے قدموں  پرنہیں  لایا جائے گا اور نہ ہی انہیں  ہانک کر لایا جائے گا بلکہ انہیں  جنت کی اونٹنیوں  پر لایا جائے گا جن کی مثل مخلوق نے دیکھی ہی نہ ہوگی ،  ان کے کجاوے سونے کے ہوں  گے اور ان کی مہاریں  زبرجد کی ہوں  گی۔پرہیز گار ان پربیٹھے رہیں  گے یہاں  تک کہ وہ جنت کادروازہ کھٹکھٹائیں  گے۔( البعث لابن ابی داؤد ،  ص۵۲ ،  الحدیث: ۵۶)

(2)…حضرت ابوسعید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : پرہیزگاروں  کو ان اونٹنیوں  پر سوار کر کے لایا جائے گا جن کے کجاوے زمرد اوریاقوت کے ہوں  گے اور جو رنگ وہ چاہیں  گے اسی کے ہوں  گے۔(درمنثور ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۵ / ۵۳۸)

(3)…حضرت ربیع رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : جب پرہیزگار لوگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضر ہوں  گے تو ان کی عزت کی جائے گی ،  انہیں  نعمتیں  بخشی جائیں  گی ،  انہیں  سلام پیش کیا جائے گا اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔( درمنثور ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۵ / ۵۳۸)

(4)…جامع البیان میں  ہے کہ مومن جب قبر سے نکلے گا تو ایک حسین اور خوشبودار صورت اس کااستقبال کرے گی اور مومن سے کہے گی کہ کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ مومن کہے گا نہیں  ،  بے شک! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے تجھے بہت پاکیزہ خوشبودی اور تیری بہت حسین صورت بنائی ۔ وہ صورت کہے گی تو بھی دنیا میں  اسی طرح تھا ،  میں  تیرا نیک عمل ہوں   ، میں  دنیا میں  بہت عرصہ تک تجھ پر سوار رہا اور آج تومجھ پر سوار ہوجا۔( جامع البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۸ / ۳۸۰)

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مجرموں  کو جہنم کی طرف ہانکیں  گے پیاسے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مجرموں  کو جہنم کی طرف پیاسے ہانکیں  گے۔

{ وَ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا:اور مجرموں  کو جہنم کی طرف پیاسے ہانکیں  گے ۔} قیامت کے دن پرہیزگار مسلمان تو مہمان بنا کر  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  جمع کئے جائیں  گے جبکہ کافروں  کا حال یہ ہو گا کہ انہیں  ان کے کفر کی وجہ سے ذلت و توہین کے ساتھ پیاسے جانوروں  کی طرح جہنم کی طرف ہانکاجائے گا۔

کافروں  کی سزا کے بارے میں  سن کر مسلمانوں  کو بھی ڈرنا چاہئے:

            یاد رہے کہ ایسی آیات جن میں  کافروں  کی کوئی سزا بیان کی گئی ہو ان میں  مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی عبرت اور نصیحت ہوتی ہے اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب بھی اس طرح کی آیات پڑھے یا سنے تو اپنے بارے میں   اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرے ۔ ایسی آیات سن کر ہمارے بزرگانِ دین کا کیا حال ہوتا تھا اس سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو ،  چنانچہ حضرت مسور بن مخرمہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ شدّتِ خوف کی وجہ سے قرآنِ پاک میں   سے کچھ سننے پر قادر نہ تھے  ،  یہاں  تک کہ ان کے سامنے ایک حرف یا کوئی آیت پڑھی جاتی تو وہ چیخ مارتے اور بے ہوش ہوجاتے ،  پھر کئی دن تک انہیں  ہوش نہ آتا۔ ایک دن قبیلہ خثعم کا ایک شخص ان کے سامنے آیا اور اس نے یہ آیات پڑھیں  ،  ’’یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ(۸۵) وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا‘‘یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں  کو رحمٰن کی طرف مہمان بناکرلے جائیں  گے ۔ اور مجرموں  کو جہنم کی طرف پیاسے ہانکیں  گے۔( مریم:۸۵ ،  ۸۶) یہ سن کر آپ نے فرمایا ’’ آہ! میں  مجرموں  میں  سے ہوں  اور متقی لوگوں  میں  سے نہیں  ہوں   ،  اے قاری ! دوبارہ پڑھو ۔ اس نے پھر پڑھا تو آپ نے ایک نعرہ مارا اور آپ کی روح قَفسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔(احیاء علوم الدین ، کتاب الخوف والرجاء ، الشطر الثانی ، بیان احوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدّۃ الخوف ،  ۴ / ۲۲۷)

 



Total Pages: 235

Go To