Book Name:Sirat ul jinan jild 6

كَلَّاؕ-سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: ہرگز نہیں  کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں  گے اور ان کے مخالف ہوجائیں  گے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہرگز نہیں ! عنقریب وہ (جھوٹے معبود) ان کی عبادت کا انکار کردیں  گے اور وہ ان کے مخالف ہو جائیں  گے۔

{كَلَّاؕ-سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ:ہرگز نہیں ! عنقریب و ہ ان کی عبادت کا انکار کردیں  گے۔}اس آیت میں  کافروں  کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسا ہو ہی نہیں  سکتا بلکہ عنقریب وہ بت جنہیں  یہ پوجتے تھے ان کی عبادت کا انکار کردیں  گے اور انہیں  جھٹلائیں  گے اور ان پر لعنت کریں  گے۔  اللہ تعالیٰ انہیں  بولنے کی قوت دے گا اور وہ کہیں  گے :یارب! انہیں  عذاب دے کہ انہوں  نے تیرے سوا کسی اور کی عبادت کی ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۳ / ۲۴۶ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ص۶۸۳ ،  ملتقطاً)

کفار کی جاہلانہ اور اَحمقانہ حرکت:

            اس سے معلوم ہو اکہ کفار کی یہ انتہا درجے کی جاہلانہ اور احمقانہ حرکت ہے کہ انہوں  نے اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں  کوخدا بنالیا اور یہ سمجھنا شروع کردیا کہ ہمارے ہاتھوں  سے بنائے ہوئے خدا ہمیں  عزت بخشیں  گے اور ہمیں  نفع دیں  گے  ،  حالانکہ ان کے بنائے ہوئے خدا نہ تو انہیں  دنیا میں  کسی قسم کانفع اور عزت بخش سکتے ہیں  اور نہ آخرت میں  بلکہ بروزِ قیامت تو وہ خود ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں  گے اور کہیں  گے کہ ہمیں  تمہاری عبادت کی خبر ہی نہیں  اور ان کی بندگی سے اپنی براء ت اور بیزاری کا اظہار کردیں  گے اور ان کے دشمن بن جائیں  گے اور یوں  عزت بڑھانے کی بجائے ان کی ذلت اور رسوائی کاسبب بنیں  گے ۔ اس انسان پر انتہائی افسوس ہے جو عقل و شعور رکھنے کے باوجود بے جان اور بے فائدہ بتوں  کی پوجا تو کرے اور اس رب تعالیٰ کی عبادت نہ کرے جو خود بھی زندہ ہے اور دوسروں  کو زندگی عطا بھی کرتا ہے اور ہر طرح کی ذلت سے بچانے اور عزت عطا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں  پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں  خوب اچھالتے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں  پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں  خوب ابھارتے ہیں ۔

{اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ:کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں  پر شیطان بھیجے ۔} گزشہ آیاتِ مبارکہ میں   اللہ تعالیٰ نے کافروں  کی گمراہیوں  اور آخرت میں  ان کے حسرت ناک انجام کابیان فرمایا اور اب اس کاسبب بیان کیا جا رہا ہے کہ آخر کس وجہ سے وہ حق کے خلاف اس طرح کی باتیں  کرتے تھے اور دلائل ہونے کے باوجود سمجھتے نہیں  تھے ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا آپ نے دیکھا نہیں  کہ ہم نے کافروں  پر شیطانوں  کو چھوڑ دیا اور ان پر شیطانوں  کو مُسلَّط کر دیا جو کہ انہیں  طرح طرح کے وسوسے دلا کر گناہوں  پر خوب ابھارتے ہیں  ۔ اس آیت میں  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ اس وجہ سے پریشان نہ ہوں  کہ کفار آپ کی دعوت قبول کیوں  نہیں  کر رہے کیونکہ آپ کی دعوت میں  کوئی کمی نہیں  بلکہ ان کافروں  پر شیطان مُسلَّط ہیں  جو انہیں  گناہوں  پر ابھار رہے ہیں  جس کی وجہ سے یہ آپ کی دعوت قبول نہیں  کر رہے۔

 آیت’’اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے چار باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… بد عملی کی وجہ سے انسان پر شیطان مُسلَّط ہوتا ہے۔

(2)… بر ے ساتھی  اللہ تعالیٰ کا عذاب ہیں ۔

(3)…بری باتوں  کی رغبت دینا شیطان اور شیطانی لوگوں  کا کام ہے۔

(4)… شیطان کسی کو کفر پرمجبور نہیں  کرتا بلکہ کفر پر ابھارتا ہے ،  اس کے برخلاف انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے وارث کسی کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں  کرتے بلکہ وہ بھی صرف انہیں  ایمان کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں  ۔ اب جوعقل والے ہیں  وہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت کوقبول کرتے ہیں  اور جوشہوت پرست اور نفس کے بندے ہوتے ہیں  وہ شیطان کی دعوت کوقبول کرتے ہیں  اور کھلم کھلا  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے مقابلہ پر تُل جاتے ہیں  اور جہنم کی اَبدی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ(۸۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم ان پر جلدی نہ کرو ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم ان پر جلدی نہ کرو ،  ہم تو ان کیلئے گنتی کررہے ہیں ۔

{فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ:تو تم ان پرجلدی نہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ مسلمانوں  کو کافروں  کے شر سے بچانے اور زمین کو ان کے فساد سے پاک کرنے کی خاطر کافروں  کی ہلاکت کی دعا کرنے میں  جلدی نہ فرمائیں  ،  ہم تو ان کے لئے گنتی کر رہے ہیں ۔

             اس سے جزا کے لئے اعمال کی گنتی کرنا مراد ہے یافنا کے لئے سانسوں  کی گنتی کرنا ،  یا دنوں  ،  مہینوں  اور برسوں  کی وہ مدت گنتی کرنا مراد ہے جو ان کے عذاب کے واسطے مقرر ہے ۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ۵ / ۳۵۵ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ص۶۸۳ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ۳ / ۲۴۶ ،  ملتقطاً)

نیک عمل کرنے میں  جلدی کرنی چاہئے:

            اس آیت میں  کلام اگرچہ کفار کے بارے میں  ہے البتہ اس میں  مسلمانوں  کے لئے بھی یہ نصیحت ہے کہ وہ نیک اعمال کرنے میں  تاخیر سے کام نہ لیں  بلکہ ان میں  جلدی کریں  



Total Pages: 235

Go To