Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہے۔ نیز پل صراط کی باریکی پر چلنا تو ایک طرف رہا ،  اس وقت تیری کیا حالت ہوگی ،  جب تو اپنا ایک پاؤں  اِس پل پر رکھے گا اور اس کی تیزی کو محسوس کرے گا ،  لیکن (نہ چاہتے ہوئے بھی) دوسرا قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا اور تیرے سامنے لوگ پھسل پھسل کر گر رہے ہوں  گے اور جہنم کے فرشتے انہیں  کانٹوں  اور مڑے ہوئے سرے والے لوہے سے پکڑ رہے ہوں  گے اور تو ان کی طرف دیکھ رہا ہوگا کہ وہ کس طرح سر نیچے اور پاؤں  اوپر کئے ہوئے جہنم میں  جارہے ہوں  گے تو یہ کس قدر خوفناک منظر ہوگا اور تجھے سخت مقام پر چڑھائی کرنی اور تنگ راستے سے گزرنا ہوگا۔ تو اپنی حالت کے بارے میں  سوچ کہ جب تو اس پر چلے گا اور چڑھے گا اور بوجھ کی وجہ سے تیری پیٹھ بھاری ہو رہی گی اور اپنے دائیں  بائیں  لوگوں  کو جہنم میں  گرتے ہوئے دیکھ رہا ہو گا۔ رسول کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  اے میرے رب! بچالے  ، اے میرے رب ! بچالے ،  پکار رہے ہوں  گے ،  تباہی اور خرابی کی پکار جہنم کی گہرائی سے تیری طرف آرہی ہوگی ،  کیونکہ بے شمار لوگ پل صراط سے پھسل چکے ہوں  گے  ، اس وقت اگر تیرا قدم بھی پھسل گیا تو کیا ہوگا…؟اس وقت ندامت بھی تجھے کوئی فائدہ نہ دے گی اور تو بھی ہائے خرابی ،  ہائے ہلاکت پکار رہا اور یوں  کہہ رہا ہو گا کہ میں  اسی دن سے ڈرتا تھا  ، کاش !میں  نے اپنی (اس) زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ کاش! میں  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا ہوتا۔ ہائے افسوس ! میں  نے فلاں  کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا ۔ کاش! میں  مٹی ہو گیا ہوتا۔ کاش ! میں  بھولا بسرا ہوجاتا۔ کاش! میری ماں  نے ہی مجھے پیدا نہ کیا ہوتا۔ اس وقت آگ کے شعلے تجھے اچک لیں  گے اور ایک منادی اعلان کردے گا’’اِخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ‘‘ دھتکارے ہوئے جہنم میں  پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔( مومنون:۱۰۸) اب چیخنے چلانے ،  رونے ،  فریاد کرنے اور مدد مانگنے کے سوا تیرے پاس کوئی راستہ نہ ہوگا۔

            اے بندے! تو اس وقت تو اپنی عقل کو کس طرح دیکھتا ہے حالانکہ یہ تمام خطرات تیرے سامنے ہیں ؟ اگر تیرا ان باتوں  پر عقیدہ نہیں  تو ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ تو دیر تک (یعنی ہمیشہ کیلئے) کفار کے ساتھ جہنم میں  رہنا چاہتا ہے اور اگر تو ان باتوں  پر ایمان رکھتا ہے لیکن غفلت کا شکار ہے اور اس کے لیے تیاری میں  سستی کا مظاہرہ کررہا ہے تواس میں  تیرا نقصان اور سرکشی کتنی بڑی ہے۔ ایسے ایمان کا تجھے کیا فائدہ جو  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کی نافرمانی چھوڑنے کے ذریعے تجھے اس کی رضا جوئی کی خاطر کوشش کی ترغیب نہیں  دیتا ،  اگر بالفرض تیرے سامنے پل صراط سے گزرنے کے خوف سے پیدا ہونے والی دل کی دہشت کے سوا کچھ نہ ہو ،  اگرچہ تو سلامتی کے ساتھ ہی گزرجائے تو یہ ہولناک خوف اور رعب کیا کم ہے۔(احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت ومابعدہ ،  الشطر الثانی ،  صفۃ الصراط ،  ۵ / ۲۸۵)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  مزید فرماتے ہیں : قیامت کے ہولناک حالات میں  وہی شخص زیادہ محفوظ ہوگا جو دنیا میں  اس کی فکر زیادہ کرے گا کیونکہ  اللہ تعالیٰ ایک بندے پر دو خوف جمع نہیں  کرتا ،  تو جو آدمی دنیا میں  ان خوفوں  سے ڈرا وہ آخرت کے دن ان سے محفوظ رہے گا ،  اور خوف سے ہماری مراد عورتوں  کی طرح کا خوف نہیں  ہے کہ سنتے وقت دل نرم ہوجائے اور آنسو جاری ہو پھر جلد ہی اسے بھول جاؤ اور اپنے کھیل کود میں  مشغول ہوجاؤ  ، کیونکہ اس بات کا خوف سے کوئی تعلق نہیں  بلکہ جو آدمی کسی چیز سے ڈرتا ہے وہ اس سے بھاگتا ہے اور جو شخص کسی چیز کی امید رکھتا ہے وہ اسے طلب کرتا ہے  ، تو تجھے وہی خوف نجات دے گا جو  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکے اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرے۔ نیزعورتوں  کی طرح دل نرم ہونے سے بھی بڑھ کر بے وقوفوں  کا خوف ہے کہ جب وہ ہَولناک مَناظِر کے بارے میں  سنتے ہیں  تو فوراً ان کی زبان پر اِستعاذہ (یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہ)جاری ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں  میں   اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتا ہوں  ،   اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ یااللّٰہ! بچالینا ،  بچالینا۔ اس کے باوجود وہ گناہوں  پر ڈٹے رہتے ہیں  جو ان کی ہلاکت کا باعث ہیں ۔ شیطان ان کے پناہ مانگنے پر ہنستا ہے جس طرح وہ اس آدمی پر ہنستا ہے جسے صحرا میں  کوئی درندہ پھاڑنا چاہتا ہو اور اس کے پیچھے ایک قلعہ ہو  ، جب وہ دور سے درندے کی داڑھوں  اور اس کے حملہ کرنے کو دیکھے تو زبان سے کہنے لگے کہ میں  اس مضبوط قلعے میں  پناہ لیتا ہوں  اور اس کی مضبوط دیواروں  اور سخت عمارت کی مدد چاہتا ہوں  اور وہ یہ کلمات اپنی جگہ بیٹھے ہوئے صرف زبان سے کہتا رہے تو یہ بات کس طرح اسے درندے سے بجائے گی…؟ تو آخرت کا بھی یہی حال ہے کہ اس کا قلعہ صرف سچے دل سے ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کہنا ہے اور سچائی کا معنی یہ ہے کہ اس کا مقصود صرف  اللہ تعالیٰ ہو اور اس کے علاوہ کوئی مقصود و معبود نہ ہو ،  اور جو شخص اپنی خواہش کو معبود بنالیتا ہے تو وہ توحید میں  سچائی سے دور ہوتا ہے اور اس کا معاملہ خود خطرناک ہے۔ اگر تم ان باتوں  سے عاجز ہو تو  اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کرنے والے بن جاؤ ،  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت کی تعظیم کے حریص ہوجاؤ۔ امت کے نیک لوگوں کے دلوں  کی رعایت کا شوق رکھنے والے ہوجاؤ اور ان کی دعاؤں  سے برکت حاصل کرو تو ممکن ہے کہ تمہیں  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور ان نیک لوگوں  کی شفاعت سے حصہ ملے اور اس وجہ سے تم نجات پاجاؤ اگرچہ تمہاری پونجی کم ہو۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت ومابعدہ ،  الشطر الثانی ،  صفۃ الصراط ،  ۵ / ۲۸۶-۲۸۷)

                اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض کرتے ہیں  اور انہی کے الفاظ میں  ہم بھی  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض گزار ہیں  کہ

یا الہٰی جب چلوں  تاریک راہِ پل صراط     آفتابِ ہاشمی نورُالہُدیٰ کا ساتھ ہو

یا الہٰی جب سرِ شمشیر پر چلنا پڑے          رَبِّ سَلِّمْ  کہنے والے غمزُدا کا ساتھ ہو

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم ڈر والوں  کو بچالیں  گے اور ظالموں  کو اس میں  چھوڑ دیں  گے گھٹنوں  کے بل گرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم ڈر نے والوں  کو بچالیں  گے اور ظالموں  کو اس میں  گھٹنوں  کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں  گے۔

{ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا:پھر ہم ڈر نے والوں  کو بچالیں  گے ۔} اس سے پہلی والی آیت کی تفسیر میں  ایک قول گزرا کہ جہنم پر وارد ہونے سے مراد پل صرا ط سے گزرنا ہے  ،  اُس کے مطابق اِس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ جب تمام مخلوق پل صراط سے گزرے گی اور کفار و گناہگار مسلمان جہنم میں  گر رہے ہوں  گے اس وقت  اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان میں  سے ان لوگوں  کو جہنم میں  گرنے سے بچا لے گا جنہوں  نے دنیا میں  پر ہیز گاری اختیار کی اوروہ کافروں  کو جہنم میں  گھٹنوں  کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔ یاد رہے کہ بعض گنہگار مسلمان جو پل صراط سے جہنم میں  گرجائیں  گے انہیں  گناہوں  کی سزا پوری ہونے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا جبکہ کافرہمیشہ جہنم میں  ہی رہیں  گے ۔

 



Total Pages: 239

Go To