Book Name:Sirat ul jinan jild 6

لئے باقی رہتے ہیں  اور کام آتے ہیں   ، اسی طرح ہر وہ نیکی جو دنیا میں  برباد نہ ہو جائے وہ باقیاتِ صالحات میں  داخل ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ۳ / ۲۴۵ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ص۶۸۲ ،  ملتقطاً)

            یہاں  باقیات صالحات سے متعلق ایک حدیث پاک ملاحظہ ہو ،  چنانچہ حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی   عَنْہُْ فرماتے ہیں : نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک دن تشریف فرما تھے ،  آپ نے ایک خشک لکڑی لے کر درخت کے پتے گرائے  ،  پھر فرمایا ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا  اللہ وَ اللہ اَکْبَرْوَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسُبْحَانَ  اللہ ‘‘کہنے سے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں  جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں ۔ اے ابودرداء! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ ،  اس سے پہلے کہ تمہارے اور ان کلمات کے درمیان کوئی چیز (یعنی موت )حائل ہوجائے تم ان کلمات کو یاد کرلو یہ باقیاتِ صالحات ہیں  اور یہ جنت کے خزانوں  میں  سے ہیں ۔( ابن عساکر ،  حرف العین ،  عویمر بن زید بن قیس۔۔۔ الخ ،  ۴۷ / ۱۵۰)

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ(۷۷) اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ(۷۸) كَلَّاؕ-سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ(۷۹) وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا(۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں  سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں  گے۔کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمٰن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے۔ ہرگز نہیں  اب ہم لکھ رکھیں  گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں  گے۔ اور جو چیزیں  کہہ رہا ہے ان کے ہمیں  وارث ہوں  گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں  کے ساتھ کفر کیا اور کہتا ہے  ، مجھے ضرو ر مال اور اولاد دئیے جائیں  گے۔ کیااسے غیب کی اطلاع مل گئی ہے یا اس نے رحمٰن کے پاس کوئی عہد کررکھاہے؟ہرگز نہیں ! اب ہم لکھ رکھیں  گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں  گے۔اور وہ جو چیزیں  کہہ رہا ہے اس کے ہم وارث ہوں  گے اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا۔

{اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا:تو کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں  کے ساتھ کفر کیا۔}صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں  ہے کہ حضرت خباب بن ارت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُکا زمانہ ٔجاہلیت میں  عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں  تمہارا قرض ادا نہ کروں  گا جب تک کہ تم محمد (مصطفیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) سے پھر نہ جاؤ اور کفر اختیار نہ کرو۔ حضرت خباب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے فرمایا: ایسا ہر گز نہیں  ہو سکتا یہاں  تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اُٹھے۔ وہ کہنے لگا: کیا میں  مرنے کے بعد پھر اُٹھوں  گا؟ حضرت خباب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے کہا :ہاں ۔ عاص نے کہا: تو پھر مجھے چھوڑ یئے یہاں  تک کہ میں  مرجاؤں  اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں  اور مجھے مال و اولاد ملے جب ہی میں  آپ کا قرض ادا کروں  گا۔ اس پر یہ آیاتِ کریمہ نازل ہوئیں ۔( بخاری ،  کتاب الاجارۃ ،  باب ہل یؤاجر الرجل نفسہ من مشرک۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۶۸ ،  الحدیث: ۲۲۷۵ ،  مسلم ،  کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار ،  باب سؤال الیہود النبیصلی  اللہ علیہ وسلم عن الروح۔۔۔ الخ ،  ص۱۵۰۲ ،  الحدیث: ۳۵(۲۷۹۵))

                چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی3 آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں  کے ساتھ کفر کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر میں  دوبارہ زندہ ہوا تو آخرت میں  مجھے ضرو ر مال اور اولاد دئیے جائیں  گے۔ کیا اسے غیب کی اطلاع مل گئی ہے اور اُس نے لوحِ محفوظ میں  دیکھ لیا ہے کہ آخرت میں  اسے مال اور اولاد ملے گی یا  اللہ تعالیٰ نے اس سے کوئی وعدہ کیا ہوا ہے جس سے اسے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ قیامت میں  بھی خوشحال ہوگا ۔ہر گز نہیں   ،  وہ نہ توغیب جانتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی عہد ہے بلکہ یہشخص جھوٹا اور بدکار ہے اور جوبات یہ کہہ رہاہے اُسے ہمارے فرشتوں  نے لکھ لیا ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اس کابدلہ دیں  گے اور ہم اسے مال و اولاد کے بدلے خوب لمبا عذاب دیں  گے جس کا وہ مستحق ہے اور اس کی ہلاکت کے بعدمال و اولاد سب سے اس کی ملکیت اور اس کا تَصَرُّف اُٹھ جائے گا اور اس کے ہم وارث ہوں  گے اور وہ قیامت کے دن ہمارے پاس تنہا اور خالی ہاتھ آئے گا اور آخرت میں  دنیا سے زیادہ ملنا تو دور کی بات  ،  دنیا میں  جو مال اور اولاد اس کے ساتھ ہے اُس وقت وہ بھی اس کے ساتھ نہ ہوگا۔(مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۷-۸۰ ،  ص۶۸۲-۶۸۳ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۷-۸۰ ،  ۳ / ۲۴۵-۲۴۶ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۷-۸۰ ،  ۵ / ۳۵۴ ،  ملتقطاً)

سورۂ مریم کی آیت نمبر 77 تا 80 سے حاصل ہونے والی معلومات:

            ان آیات سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… شریعت کے احکام کا مذاق اڑانا کفار کا طریقہ ہے۔ اس سے وہ لوگ اپنے طرزِ عمل پر غور کر لیں  جو حدود و قصاص اور نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلق شریعت کے اَحکام کا مذاق اڑاتے اور انہیں  انسایت سوزاَحکام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

(2)… مرنے کے بعد اور قیامت کے دن کفار کا مال و اولاد انہیں  کچھ کام نہ آئے گا۔ یاد رہے کہ مومن کامال اور اس کی اولاد کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہو گا بلکہ اسے مرنے کے بعد  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر راہِ خدا میں  خرچ کیا ہوا مال بھی کام آئے گا اور اس کی نیک اولاد سے بھی اسے فائدہ حاصل ہو گا۔

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ(۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور  اللہ کے سوا اور خدا بنالئے کہ وہ انہیں  زور دیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے  اللہ کے سوا کئی اور معبود بنالئے تا کہ وہ ان کیلئے سفارشی بن جائیں ۔

{وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً:اور انہوں  نے  اللہ کے سوا کئی اور معبود بنالئے ۔} اس سے پہلی آیات میں  حشر و نشر کا مسئلہ بیان ہوا اور اب یہاں  سے بتوں  کے پجاریوں  کا رد کیا جا رہا ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قریش کے مشرکوں  نے  اللہ تعالیٰ کی بجائے بتوں  کو اپنا معبود بنالیا اور وہ اس امید پر ان کی عبادت کرنے لگے کہ وہ ان کیلئے سفارشی بن جائیں  اور ان کی مدد کریں  اور انہیں  عذاب سے بچائیں ۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۱ ،  ۳ / ۲۴۶ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۱ ،  ص۶۸۳ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To