Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے جو دنیا میں  اسے حلال کاموں  سے روک کر اور حرام کاموں  کی ترغیب دے کر ،   اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منع کر کے اور اس کی نافرمانی کا حکم دے کر گمراہ کرتا رہتا ہے یہاں  تک کہ وہ اسے کفر کی اندھیری وادیوں  میں  دھکیل کر حالت ِکفر میں  مرواتا ہے اور پھر یہی شیطان قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ہو گا کہ ان دونوں  کو ایک ساتھ زنجیر میں  جکڑ کر جہنم میں  ڈال دیا جائے گا۔

             اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ(۳۶)وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۷)حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ‘‘(زخرف:۳۶-۳۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں  تو وہ اس کا ساتھی رہتا ہے۔ اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں  اوروہ یہ سمجھتے رہتے ہیں  کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔یہاں  تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاسآئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے توتُو کتنا ہی برا ساتھی ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِۚ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ‘‘(حم السجدہ:۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے کافروں  کیلئے کچھ ساتھی مقرر کر دئیے توانہوں  نے ان کے لئے ان کے آگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں  اور انسانوں  کے گروہوں  پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشکوہ نقصان اٹھانے والے تھے۔

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتا ہے یہاں  تک کہ وہ اس پر عمل نہیں  کرتا اور جب بھی وہ کسی برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں  تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔(مسند الفردوس ،  باب الالف ،  ۱ / ۲۴۵ ،  الحدیث: ۹۴۸)

            اس میں  خاص طور پر کفار اور عمومی طور پرتمام مسلمانوں  کے لئے نصیحت ہے کہ وہ ایسے کام کرنے سے بچیں  جن کی وجہ سے شیطان کو ان کا ساتھی بنا دیا جائے کیونکہ شیطان انتہائی برا ساتھی ہے جیساکہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا‘‘(النساء:۳۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو کتنا برا ساتھی ہوگیا۔

             اور جس کا ساتھی شیطان ہو وہ اپنے انجام پر خود ہی غور کرلے کہ کیساہو گا۔

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ(۶۹) ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم ہر گروہ سے نکالیں  گے جو ان میں رحمٰن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا۔ پھر ہم خوب جانتے ہیں  جو اس آگ میں  بھوننے کے زیادہ لائق ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم ہر گروہ سے اسے نکالیں  گے جو ان میں  رحمٰن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا۔ پھر ہم انہیں  خوب جانتے ہیں  جو آگ میں  جلنے کے زیادہ لائق ہیں ۔

{ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ:پھر ہم ہر گروہ سے اسے نکالیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جہنم کے آس پاس کفار کو جمع کرنے کے بعد ہم کفار کے ہر گروہ سے اسے نکالیں  گے جو ان میں  رحمٰن کی نافرمانی کرنے پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا تاکہ جہنم میں  سب سے پہلے اُسے داخل کیا جائے جو سب سے زیادہ سرکش اور کفر میں  زیادہ شدید ہو اور بعض روایات میں  ہے کہ کفار سب کے سب جہنم کے گرد زنجیروں  میں  جکڑے طوق ڈالے ہوئے حاضر کئے جائیں  گے پھر جو کفر و سرکشی میں  زیادہ سخت ہوں  گے وہ پہلے جہنم میں  داخل کئے جائیں  گے اور انہیں  باقی کافروں  کے مقابلے میں  عذاب بھی زیادہ سخت ہوگا۔(خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ۳ / ۲۴۲)

کفار کے عذاب میں  فرق ہو گا:

            یاد رہے کہ کفر اگرچہ یکساں  ہے کہ ’’اَلکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ‘‘ یعنی کفر ایک ہی ملت ہے ،  مگر کفار مختلف قسم کے ہیں  کہ بعض ان میں  سے وہ ہیں  جو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں  کو بھی گمراہ کیا اور بعض وہ ہیں  جو کسی کی پیروی کر کے گمراہ ہوئے تو ان میں  ہر قسم کے کافر کو اس قسم کا عذاب ہو گا جس کا وہ مستحق ہے جیسے گمراہ گَر کافروں  کو پیروی کرنے والے کفار کے مقابلے میں  دگنا عذاب ہو گا ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ‘‘(نحل: ۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنہوں  نے کفر کیا اور  اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں  عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں  گے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے

’’وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ‘‘ (عنکبوت:۱۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں  گے اور اپنے بوجھوں  کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں  گے ۔

{ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ:پھر ہم انہیں  خوب جانتے ہیں ۔} یعنی ہم خوب جانتے ہیں  کہ کون سا کافر جہنم کے کس طبقہ کے لائق ہے اور کون سا کافر جہنم کے شدید عذاب کا مستحق ہے اور کون سا



Total Pages: 239

Go To