Book Name:Sirat ul jinan jild 6

و تکبر کے ساتھ اُن دلائل کے جواب میں  غریب فقیر مسلمانوں  سے کہا کہ اے مسلمانو! تم اپنی معاشی حالت پر غور کرو اور ہماری معاشی حالت دیکھو ،  ہم اعلیٰ قسم کی رہائش گاہوں  میں  رہتے ہیں   ، اعلیٰ قسم کے لباس پہنتے ہیں  ،  اعلیٰ قسم کاکھانا کھاتے ہیں  اور ہماری محفلیں  بھی تمہاری محفلوں  سے زیادہ بارونق ہیں  اور تمہارا حال ہم سے انتہائی برعکس ہے ،  اس سے تم سمجھ جاؤ کہ اگرہم باطل پرہوتے تو ہمارا حال بد تر اور تمہارا حال ہم سے بہتر ہوتا ۔‘‘

            یاد رہے کہ اس آیت کامُدّعا یہ ہے کہ جب آیات نازِل کی جاتی ہیں  اور دلائل و بَراہین پیش کئے جاتے ہیں  تو کفار ان میں  غورو فکر کرتے ہیں  اور نہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں  اور اس کی بجائے وہ مال ودولت اور لباس و مکان پر فخر و تکبر کرتے ہیں  ۔

دُنْیَوی ترقی کو اُخروی بہتری کی دلیل بنانا درست نہیں :

             اس آیت میں  جو دلیل بیان ہوئی یہ کفار کی وہ دلیل ہے جو فی زمانہ کفار اور ان سے مَرعوب مسلمان بھی مسلمانوں  کے سامنے پیش کرتے ہیں  اور کافروں  کی دُنْیَوی اور سائنسی اِیجادات میں  ترقی کی مثالیں  پیش کرکے مسلمانوں  کے دلوں  میں  دین ِاسلام سے متعلق شکوک و شُبہات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں  ،  اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیوی عیش وعشرت کو آخرت کی بہتری کی دلیل بنانا کفار کا طریقہ ہے حالانکہ یہ چیزیں  کبھی آخرت کا وَبال بن جاتی ہیں ۔  اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں  کو عقلِ سلیم عطا فرما ئے اور انہیں  اپنی حقیقی بہتری کو پہچاننے کی توفیق نصیب کرے۔اٰمین۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا(۷۴)ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں  کھپا دیں  کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں  بہتر تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں  ہلاک کردیں جو سازوسامان میں  اور دکھائی دینے میں  ان سے زیادہ اچھے تھے۔

{وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ:اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں  ہلاک کردیں ۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے ان کافروں  کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دنیوی مال ودولت یاعزت وشہرت ہونا کسی کے حق پر ہونے کی کوئی دلیل نہیں  ،  تم سے پہلے تم سے زیادہ مالد ارلوگ آئے اور انہوں  نے تم سے بھی زیادہ خوبصورت اور مضبوط رہائش گاہیں  بنائیں  جیسے فرعون ہامان ،  قارون اور ان کے ساتھی وغیرہ  ،  مگر  اللہ تعالیٰ نے ان کے خوبصورت اور مضبوط مکانات تباہ وبرباد کردئیے اور ان کو نشانِ عبرت بنادیا۔ لہٰذا تم بھی غور کرو اور اپنی اصلاح کرلو کیونکہ دنیا کا مال ودولت ہونا کامیابی کے لیے کافی نہیں ۔ اسی کی کچھ جھلک ہم اپنے قریب زمانے میں  بھی دیکھ سکتے ہیں  کہ ایک سلطنت کبھی اتنی بڑی تھی کہ اس کی حکومت میں  سورج غروب نہ ہوتا تھا لیکن آج وہ چھوٹے سے رقبے پر رہ گئی  ،  یونہی ایک ملک آدھی دنیا کا مالک بننے کا دعویٰ کرتا پھر رہا تھا لیکن بالآخر تباہ و برباد ہوا اور کمزور سے ملک سے ذلیل و خوار ہوکر نکالا گیا اور اب دوبارہ وہ اپنی روٹی پانی کی فکر میں  پڑا ہوا ہے۔

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّاۚ۬-حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَؕ-فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ جو گمراہی میں  ہو تو اسے رحمٰن خوب ڈھیل دے یہاں  تک کہ جب وہ دیکھیں  وہ چیز جس کا انہیں  وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب یا قیامت تو اب جان لیں  گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرماؤ : جو گمراہی میں  ہو تو اسے رحمٰن خوب ڈھیل دیدے یہاں  تک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھیں  جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یا تو عذاب اوریا قیامت تو وہ جان لیں  گے کہ کس کا درجہ برا اور کس کی فوج کمزور ہے ؟

{قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ:تم فرماؤ : جو گمراہی میں  ہو ۔} اس آیت میں  کافروں  کے نظریے کا ایک اور جواب دیا گیا ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ مال و مَنال پر فخر کرنے والے اِن کافروں  سے ارشاد فرما دیں  کہ جو گمراہی میں  ہو تو اسے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ دنیا میں  لمبی عمر اور زیادہ مال دے کر خوب ڈھیل دیتا ہے یہاں  تک کہ جب وہ گمراہ لوگ اس چیز کو دیکھیں  گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یا تو دنیا میں  قتل و قید کا عذاب اوریا قیامت کا دن جس میں  وہ جہنم میں  داخل ہوں  گے تواس وقت وہ جان لیں  گے کہ مسلمانوں  اور کافروں  میں  سے کس کا درجہ برا اور کس کی فوج کمزور ہے؟( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۵ ،  ۳ / ۲۴۵ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۵ ،  ۵ / ۳۵۲-۳۵۳ ،  ملتقطاً)

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًىؕ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا(۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں  نے ہدایت پائی  اللہ انھیں  اور ہدایت بڑھائے گا اور باقی رہنے والی نیک باتوں  کا تیرے رب کے یہاں  سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہدایت پانے والوں  کی ہدایت کو  اللہ اور زیادہ بڑھا دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیک باتیں  تیرے رب کے ہاں  ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں ۔

{وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى:اور ہدایت پانے والوں  کی ہدایت کو  اللہ اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔} گمراہ لوگوں  کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہاں  سے ہدایت پانے والوں  کا حال بیان کیا جا رہا ہے  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں  نے ہدایت پائی اور ایمان سے مشرف ہوئے  ،   اللہ تعالیٰ انہیں  اس پر استقامت عطا فرما کے اور مزید بصیرت و توفیق دے کر ان کی ہدایت کو اور بڑھا دے گا اور ان کے ایمان ،  عمل اور یقین میں  مزید اضافہ فرما دے گا۔(مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ص۶۸۲ ،   روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ۵ / ۳۵۳ ،  ملتقطاً)

{وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ:اور باقی رہنے والی نیک باتیں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  باقی رہنے والی نیک باتیں  آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں  جبکہ کفار کے اعمال سب نکمے اور باطل ہیں ۔

باقی رہنے والی نیک باتیں :

             مفسرین فرماتے ہیں  کہ طاعتیں   ،  آخرت کے تمام اَعمال  ،  پنجگانہ نمازیں   ،   اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور اس کا ذکر اور دیگر تمام نیک اعمال یہ سب باقیاتِ صالحات ہیں  کہ مومن کے



Total Pages: 235

Go To