Book Name:Sirat ul jinan jild 6

بیکار باتوں  سے پرہیز کریں :

             اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم الشان نعمتو ں  کے گھر جنت کو فضول اور بیکار باتوں  سے پاک فرمایا ہے  ، اس سے معلوم ہوا دنیا میں  رہتے ہوئے بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بیکار باتوں  سے بچتا رہے اور فضول کلام سے پرہیز کرے۔  اللہ تعالیٰ کامل ایمان والوں  کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا‘‘(فرقان:۷۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سےگزرتے ہیں  تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں  ۔

            اور ارشاد فرماتا ہے

’’وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ٘-سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ٘-لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ‘‘(قصص:۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں  اس سے منہ پھیر لیتے ہیں  اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں  سلام ،  ہم جاہلوں (کی دوستی)کو نہیں  چاہتے ۔

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا  ’’(یہ بات) آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیز کو چھوڑ دے۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  ۱۱-باب ،  ۴ / ۱۴۲ ،  الحدیث: ۲۳۲۵) اللہ تعالیٰ ہمیں  بیکار باتوں  اور فضول کلام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں  میں  سے اسے کریں  گے جو پرہیزگار ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں  میں  سے اسے کریں  گے جو پرہیزگار ہو۔

{تِلْكَ الْجَنَّةُ:یہ وہ باغ ہے۔} یعنی جس جنت کے اوصاف بیان ہوئے یہ وہ باغ ہے جوہم اپنے ان بندوں  کو عطا کریں  گے جو پرہیزگار ہو۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ہم نے جنت میں  کفار کے ایمان لانے کی صورت میں  ان کے لئے جو مکانات تیار کئے ہیں  ان کا وارث ہم اپنے پرہیزگار بندوں  کو کریں  گے۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۳ ،  ۵ / ۳۴۶ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۳ ،  ۳ / ۲۴۰ ،  ملتقطاً) یاد رہے کہ جنت متقی اور پرہیز گار مسلمان کو ملے گی اور گناہگار مسلمانوں  کوبھی جو جنت ملے گی وہ ان کے گناہوں  کی معافی یا خاتمے کے بعد ہی ملے گی یعنی جنت میں  داخل ہوتے وقت وہ بھی گناہوں  سے پاک ہوچکے ہوں  گے۔

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی) ہم فرشتے نہیں  اُترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم فرشتے صرف آپ کے رب کے حکم سے ہی اترتے ہیں  ۔ سب اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں  ہے۔

{وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ:ہم فرشتے صرف آپ کے رب کے حکم سے ہی اترتے ہیں  ۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جبریلعَلَیْہِ  السَّلَام سے فرمایا:ا ے جبریل! عَلَیْہِ  السَّلَام ،  تم جتنا ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں  نہیں  آتے؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔( بخاری ،  کتاب بدء الخلق ،  باب ذکر الملائکۃ ،  ۲ / ۳۸۴ ،  الحدیث: ۳۲۱۸) اور حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَامنے  اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں  عرض کی:یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم فرشتے صرف آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہی اترتے ہیں  اور تمام جگہوں  کا وہی مالک ہے  ،  ہم ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل و حرکت کرنے میں  اس کے حکم و مَشِیَّت کے تابع ہیں   ،  وہ ہر حرکت و سکون کا جاننے والا اور غفلت و نِسیان سے پاک ہے  ،  اس لئے وہ جب چاہے گا ہمیں  آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  بھیجے گا۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۴ ،  ص۶۷۹)

 اللہ تعالٰی بھول سے پاک ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کچھ بھول جائے۔ اِس سے ان لوگوں  کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے جو مذاق میں  کسی بوڑھے کے بارے میں  یا کسی چیز کے بارے میں  کہہ دیتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ تو اسے بھول ہی گیا ہے۔ یہ کہنا صریح کفر ہے اور ایسا کہنے والا کافر ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖؕ-هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں  ہے سب کا مالک تو اسے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں  ہے سب کا رب (وہی ہے)تو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ  ، کیا تم  اللہ کا کوئی ہم نام جانتے ہو؟

{رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:آسمانوں  اور زمین کا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں  ہے سب کا مالک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی ہے ،  آپ اسی کی عبادت کرتے رہیں  اور اس کی عبادت پر ڈٹ جائیں   ، کیا آپ  اللہ تعالیٰ کا کوئی ہم نام جانتے ہیں ؟ یعنی کسی کو اس کے ساتھ نام کی شرکت بھی نہیں  اور اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی باطل معبودکا نام’’ اللّٰہ‘‘ نہیں  رکھا ۔

 



Total Pages: 239

Go To