Book Name:Sirat ul jinan jild 6

             اس آیت ِ مبارکہ میں  فرمایا گیا کہ اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ ،  اس سے معلوم ہوا کہ خوشی و غم ہر حال میں  ہمیشہ عبادت کرنی چاہیے ۔ یہی حکم ہے اور یہی بارگاہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں  محبوب ہے ،  صرف خوشی یا صرف غم میں  عبادت کرنا کمال نہیں ۔ آیت میں   اللہ تعالیٰ کی صفت ِ ربوبیت بیان کرکے عبادت کا حکم دینے میں  اِس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کا بندے کو پالنا ،  نعمتیں  پہنچانا اور بَتَدریج مرتبۂ کمال تک پہنچانا بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بندے احسان مندی کے طور پر  اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَ جُ حَیًّا(۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں  مرجاؤں  گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں  گا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آدمی کہتا ہے: کیا جب میں  مرجاؤں  گا تو عنقریب مجھے زندہ کرکے ضرور نکالا جائے گا؟

{وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ:اور آدمی کہتا ہے۔} اس آیت میں  انسان سے مراد وہ کفار ہیں  جو موت کے بعد زندہ کئے جانے کے منکر تھے جیسے اُبی بن خلف اور ولید بن مغیرہ اور اِن جیسے تمام کفار ،  اِنہیں  لوگوں  کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ یہ کافر انسان مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مذاق اڑاتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا جب میں  

مرجاؤں  گا تو عنقریب مجھے قبر سے زندہ کرکے ضرور نکالا جائے گا؟( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ۳ / ۲۴۱ ،  جلالین ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ص۲۵۸ ،  ملتقطاً)

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْــٴًـا(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کیا آدمی کو یاد نہیں  کہ ہم نے اس سے پہلے اسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا آدمی کو یاد نہیں  کہ ہم نے اس سے پہلے اسے پیدا کیا حالانکہ وہ کوئی شے نہ تھا۔

{اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ:اور کیا آدمی کو یاد نہیں ۔}  اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو مُردوں  کے زندہ کرنے پر  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت کا منکر ہے ،  کیا اُس نے اِس بات پر غور نہیں  کیا کہ ہم نے اسے اس وقت بنادیا جب وہ بالکل معدوم تھا تو جب اصلاً معدوم ہونے کے باوجود ہم اسے وجود اور زندگی دے سکتے ہیں  تو اگر ہم مردے کو زندہ کر دیں  تو اس میں  تعجب کی کیا بات ہے حالانکہ اب تو اس کی اصل موجود ہے۔

            اس آیت کی مناسبت سے یہاں  ایک حدیثِ قُدسی ملاحظہ ہو ، صحیح بخاری شریف میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’انسان نے مجھے جھٹلایا اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں  ،  اور اس نے مجھے گالی دی جبکہ یہ بھی اس کے لیے مناسب نہیں ۔ پس اس کا جھٹلانا تو یہ ہے جو وہ کہتا ہے کہ ہمیں  دوبارہ زندہ نہیں  کیا جائے گا جیسا کہ ہمیں  پہلے پیدا کیا گیا ،  حالانکہ پہلی دفعہ بنانا میرے لئے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے اور اس کا گالی دینا یہ ہے جووہ کہتا ہے کہ خدا کا بیٹا بھی ہے ،  حالانکہ میں  اکیلا ہوں  ،  بے نیاز ہوں  ،  نہ میں  نے کسی کو جنا اور نہ مجھے کسی نے جنا ،  اور کوئی ایک بھی میری برابری کرنے والا نہیں ۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ قل ہو  اللہ احد ،  ۱-باب ،  ۳ / ۳۹۴ ،  الحدیث: ۴۹۷۴)

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ(۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تمہارے رب کی قسم ہم انھیں  اور شیطانوں  سب کو گھیر لائیں  گے اور انہیں  دوزخ کے آس پاس حاضر کریں  گے گھٹنوں  کے بل گرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تیرے رب کی قسم! ہم انہیں  اور شیطانوں  کو جمع کرلیں  گے پھر انہیں  دوزخ کے آس پاس اس حال میں  حاضر کریں  گے کہ گھٹنوں  کے بل گرے ہوئے ہوں  گے ۔

{فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ:تو تمہارے رب کی قسم! ہم انہیں  جمع کرلیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کے رب کی قسم! ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے کافروں  کو قیامت کے دن زندہ کر کے انہیں  گمراہ کرنے والے شیطانوں  کے ساتھ اس طرح جمع کرلیں  گے کہ ہر کافر شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں  جکڑا ہو گا  ،  پھر انہیں  دوزخ کے آس پاس اس حال میں  حاضر کریں  گے کہ  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کر کے دہشت کے مارے ان سے کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا اور وہ گھٹنوں  کے بل گرجائیں  گے۔(خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۳ / ۲۴۱-۲۴۲ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۵ / ۳۴۹) اور کافروں  کی ایسی ذلت و رسوائی دیکھ کر  اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور سعادت مند بندے اس بات پر بہت خوش ہو رہے ہوں  گے کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  اس ذلت سے نجات عطا فرمائی جبکہ ان کے دشمن کفار ان کی سعادت و خوش بختی دیکھ کر حسرت و افسوس اور انہیں  برابھلا کہنے پر خود کو ملامت کررہے ہوں  گے۔

            یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں  پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس دن کی شدت اور حساب کی سختی دیکھ کر ہر دین والا زانو کے بل گرا ہو گا ،  جیسا کہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً‘‘(سورۂ جاثیہ:۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے۔

            اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ کافروں  کو جب جہنم کے قریب حاضر کیا جائے گا تو وہ  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کرکے گھٹنوں  کے بل گر جائیں  گے جیسا کہ زیرِتفسیر آیت میں  بیان ہوا ،  تو ان دونوں  آیات میں  جدا جدا احوال کا بیان ہےاس لئے ان میں  کوئی تَعارُض نہیں ۔

دنیا و آخرت میں  شیطان کا ساتھی بننے کاسبب:

            اس آیت کی تفسیر میں  بیان ہو اکہ کافر اور اسے گمراہ کرنے والا شیطان ایک ساتھ زنجیر میں  جکڑ اہو گا ،  اس مناسبت سے ہم یہاں  دنیا اور آخرت میں  شیطان کا ساتھی بننے کا ایک سبب بیان کرتے ہیں   ،  چنانچہ جو شخص قرآنِ مجید سے اس طرح اندھا بن جائے کہ اس کی ہدایتوں  کو دیکھے نہ ان سے فائدہ اٹھائے ،   اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اِعراض کرے اور اس کی گرفت اور عذاب سے بے خوف ہو جائے ،  دُنْیَوی زندگی کی لذّتوں  اور آسائشوں  میں  زیادہ مشغولیت اور اس کی فانی نعمتوں  اور نفسانی خواہشات میں  اِنہماک کی وجہ سے قرآن سے منہ پھیر لے تو  



Total Pages: 235

Go To