Book Name:Sirat ul jinan jild 6

،  کتاب المناقب ،  باب علامات النبوۃ فی الاسلام ،  ۲ / ۵۰۱ ،  الحدیث: ۳۶۰۲)

(2)…حضرت اُمِّ ایمن رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا سے روایت ہے ،  حضور اکرمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’قصداً نماز ترک نہ کرو کیونکہ جو قصداً نماز ترک کردیتا ہے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّاور رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس سے بری الذِّمہ ہیں ۔( مسند امام احمد ،  مسند القبائل ،  حدیث امّ ایمن رضی  اللہ عنہا ،  ۱۰ / ۳۸۶ ،  الحدیث: ۲۷۴۳۳)

(3)…حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ عنقریب میری امت سے کتاب والے اور دودھ والے ہلاک ہوں  گے۔ میں  نے عرض کی: یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کتاب والوں  سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا ’’یہ وہ لوگ ہیں  جو  اللہ کی کتاب کو اس لئے سیکھیں  گے تاکہ اس کے ذریعے ایمان والوں  سے جھگڑا کریں ۔ میں  نے پھر عرض کی: یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  دودھ والوں  سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا ’’یہ وہ لوگ ہیں  جو خواہشات کی پیروی کریں  گے اور اپنی نمازیں  ضائع کریں  گے۔(مستدرک ،  کتاب التفسیر ،  تفسیر سورۃ مریم ،  سیہلک من امتی اہل الکتاب واہل اللبن ،  ۳ / ۱۲۶ ،  الحدیث: ۳۴۶۹)

{فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا: عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں  گے۔} آیت کے اس حصے میں  نمازیں  ضائع کرنے اور  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مقابلے میں  اپنی خواہشوں  کی پیروی کرنے والوں  کا انجام بیان کیا گیا کہ وہ عنقریب جہنم کی خوفناک وادی غی میں  ڈال دئیے جائیں  گے۔

جہنم کی وادی ’’غی ‘‘کا تعارف:

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں : غی جہنم میں  ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنم کی وادیاں  بھی پناہ مانگتی ہیں  ۔یہ اُن لوگوں  کے لئے ہے جو زنا کے عادی اور اس پر مُصِر ہوں   ،  جو شراب کے عادی ہوں  ،  جو سود خور اور سود کے عادی ہوں  ،  جو والدین کی نافرمانی کرنے والے ہوں  اور جو جھوٹی گواہی دینے والے ہوں ۔( بغوی ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۳ / ۱۶۸)

            صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : غی جہنم میں  ایک وادی ہے  ، جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے ،  اس میں  ایک کنواں  ہے ،  جس کا نام ’’ہَبْہَبْ‘‘ ہے ،  جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے ،  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کنویں  کو کھول دیتا ہے  ، جس سے و ہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔ قَالَ  اللہ  تَعَالٰی : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا)

’’ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا‘‘

جب بجھنے پر آئے گی ہم انھیں  اور بھڑک زیادہ کریں  گے۔

            یہ کنواں  بے نمازوں  اور زانیوں  اور شرابیوں  اور سود خواروں  اور ماں  باپ کو اِیذا دینے والوں  کے لیے ہے۔(بہار شریعت ،  حصہ سوم ،  نماز کا بیان ،  ۱ / ۴۳۴)

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْــٴًـاۙ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہ لوگ جنت میں  جائیں  گے اور انہیں  کچھ نقصان نہ دیا جائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مگر جنہوں  نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں  کی جائے گی۔

{اِلَّا مَنْ تَابَ:مگر جنہوں  نے توبہ کی۔} ارشاد فرمایا کہ نمازیں  ضائع کرنے اور  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی بجائے گناہوں کو اختیار کرنے والے تو جہنم کی خوفناک وادی غی میں  جائیں  گے مگر جنہوں  نے کفر و شرک اور دیگر گناہوں  سے توبہ کر لی اور کفر کی جگہ ایمان کو اختیار کیا اور اس کے بعد نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں  کی جائے گی اور ان کے اعمال کی جزا میں  کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۵ / ۳۴۵) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر کے لئے پہلے کفر سے بیزاری کا اظہار کرنا ،  پھر ایمان لانا اور پھر نیک اعمال کرنا ضروری ہیں ۔

جَنّٰتِ عَدْنِ ﹰالَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِؕ-اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمٰن نے اپنے بندوں  سے غیب میں  کیا بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہمیشہ رہنے کے ان باغوں  میں  (داخل ہوں  گے) جن کا وعدہ رحمٰن نے اپنے بندوں  سے ان کے دیکھے بغیر فرمایا ہے۔ بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔

{جَنّٰتِ عَدْنٍ:ہمیشہ رہنے کے باغوں  میں ۔} یعنی جنہوں  نے توبہ کی ،  ایمان لائے اور نیک اعمال کئے وہ ہمیشہ رہنے کے ان باغوں  میں  داخل ہوں  گے جن کا وعدہ رحمٰن نے اپنے اِن بندوں  سے فرمایا ہے ا س حال میں  کہ جنت اِن سے غائب ہے اور اِن کی نظر کے سامنے نہیں  یا اس حال میں  کہ وہ جنت سے غائب ہیں  اور اس کا مشاہدہ نہیں  کرتے اور یہ محض اس کی خبر ملنے سے ہی اس پرایمان لے آئے ہیں۔ بیشک  اللہ تعالیٰ نے جنت کا جو وعدہ فرمایاہے اس کا وہ وعدہ یقینی طور پر آنے والا ہے۔(روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ۵ / ۳۴۵)

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًاؕ-وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان:وہ اس میں  کوئی بیکار بات نہ سنیں  گے مگر سلام اور انہیں  اس میں  ان کا رزق ہے صبح و شام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ ان باغات میں  کوئی بیکار بات نہ سنیں  گے مگر سلام اور ان کیلئے اس میں  صبح و شام ان کا رزق ہے۔

{لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا:وہ ان باغات میں  کوئی بیکار بات نہ سنیں  گے۔}یعنی جن باغات کا  اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  سے وعدہ فرمایا ہے ان کا وصف یہ ہے کہ جنتی ان باغات میں  کوئی بیکار بات نہ سنیں  گے  ، البتہ وہ فرشتوں  کا یا آپس میں  ایک دوسرے کا سلام سنیں  گے اور ان کیلئے جنت میں  صبح و شام ان کا رزق ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جنت میں  انہیں  دائمی طور پر رزق ملے گا کیونکہ جنت میں  رات اور دن نہیں  ہیں  بلکہ اہلِ جنت ہمیشہ نور ہی میں  رہیں  گے ۔یا اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کے دن کی مقدار میں  دو مرتبہ جنتی نعمتیں  ان کے سامنے پیش کی جائیں  گی(البتہ وہ خود جس وقت جتنا چاہیں  گے کھائیں  گے ، ان پر کوئی پابندی نہ ہوگی)۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۵ / ۳۴۵)

 



Total Pages: 235

Go To