Book Name:Sirat ul jinan jild 6

یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا(۱۰۸)وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۰۷-۱۰۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتیہے تو وہ ٹھوڑی کے بل سجدہ میں  گر پڑتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں  ہمارا رب پاک ہے ،  بیشک ہمارے رب کا وعدہ پوراہونے والا تھا۔ اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑی کے بل گرتے ہیں  اور یہ قرآن ان کےدلوں  کے جھکنے کو اور بڑھادیتا ہے۔(یہ آیت ِسجدہ ہے ، اسے زبان سے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔)

            اور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بھی اپنی امت کو اس کی تعلیم دی  ہے ،  جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ قرآن غم کے ساتھ نازل ہوا تھا ،  جب تم اسے پڑھو تو روؤ اور اگر رو نہ سکو تو رونے کی شکل بنا لو۔( ابن ماجہ ،  کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا ،  باب فی حسن الصوت بالقرآن ،  ۲ / ۱۲۹ ،  الحدیث: ۱۳۳۷)

             اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب بھی قرآنِ مجید کی تلاوت کرے تو اپنے گناہوں  اور  اللہ تعالیٰ کی گرفت و عذاب کو یاد کر کے رویا کرے اور اگر اسے رونا نہ آئے تو رونے والوں  جیسی صورت بنا لے۔

سجدہ تو کر لیا مگر آنسو نہ نکلے:

             یاد رہے کہ زیرِ تفسیر آیت ان آیات میں  سے ہے جنہیں  پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔ یہاں  اسی آیت سے متعلق دوحکایات ملاحظہ ہوں :

(1)… حضرت ابو معمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے سورۂ مریم کی تلاوت اور (سجدہ کرنے کے بعد) فرمایا ’’یہ سجدے ہیں  تو رونا کہا ں  ہے؟( شعب الایمان ،  التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  فصل فی البکاء عند قراء تہ ،  ۲ / ۳۶۵ ،  الحدیث:  ۲۰۵۹)

(2)…حضرت عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے سورۂ مریم کی تلاوت کی ،  جب وہ  اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا‘‘ پر پہنچے تو انہوں  نے سجدۂ تلاوت کیا اور جب سجدے سے سر اٹھایا تو فرمایا ’’یہ سجدہ ہے تورونا کہاں  ہے؟( شرح البخاری لابن بطال ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب البکاء عند قراء ۃ القرآن ،  ۱۰ / ۲۸۲) ان بزرگوں  کے اس قول سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ سجدہ کر کے رونے والے لوگ اب کہاں  ہیں ؟ اب تو لوگوں  کا حال یہ ہے کہ وہ سجدہ تو کرلیتے ہیں  لیکن ان کی آنکھیں آنسوؤں  سے تر نہیں  ہوتیں ۔ ان بزرگوں  کے یہ فرمان دراصل ہماری تربیت اور اِصلاح کے لئے ہیں   ، اے کاش! ہمیں  بھی تلاوتِ قرآن کے وقت  اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونا نصیب ہو جائے۔

آیت’’اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس سے تین باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…  اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنا اور تلاوت کرا کر سننا دونوں  ہی پسندیدہ طریقے ہیں ۔

(2)… اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت خشوع و خضوع کے ساتھ کرنا  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  پسندیدہ ہے ۔

(3)… اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ یا سن کر عذاب کے خوف یا دل کے ذوق کی وجہ سے گریہ و زاری کرنا  اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اس کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں  نے نمازیں  گنوائیں  اور اپنی خواہشوں  کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں  غی کا جنگل پائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں  نے نمازوں  کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں  کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں  گے۔

{فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ:تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے ۔} اس آیت میں  انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد آنے والے ناخلف اور نالائق لوگوں  کی دو خرابیاں  بیان کی گئی ہیں ۔

(1)… انہوں  نے نمازیں  ضائع کیں ۔ اس سے مراد فرض نمازیں  چھوڑ دینا یا نماز کا وقت گزار کر نماز پڑھنا مراد ہے ،  مثلاً ظہر کی نماز عصر میں  اور عصر کی مغرب میں  پڑھنا۔

(2)…اپنی خواہشوں  کی پیروی کی۔ یعنی انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کو ترجیح دی اور  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی بجائے گناہوں  کو اختیار کیا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۳ / ۲۴۰)ایسے لوگوں  کے بارے میں  حضرت عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے جس امت میں  بھی جو نبی بھیجا اس نبی کے لئے اس امت میں  سے کچھ مدد گار اور اصحاب ہوتے تھے جو اپنے نبی کے طریقۂ کار پر کار بند رہتے ،  پھر ان صحابہ کے بعد کچھ نالائق لوگ پیدا ہوئے جنہوں  نے اپنے کام کے خلاف بات کی اور جس کا حکم دیاگیا اس کے خلاف کام کیا لہٰذا جس شخص نے ہاتھوں  سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ مومن ہے ،  اور جس نے ان کے خلاف زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے ، اور جس نے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے اور ا س کے بعد رائی کے دانہ برابر بھی ایمان کا کوئی درجہ نہیں ۔( مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان۔۔۔ الخ ،  ص۴۴ ،  الحدیث: ۸۰(۵۰))

نما ز ضائع کرنے کی صورتیں  اور 3 وعیدیں :

            اس آیت میں  نمازیں  ضائع کرنے کو سب سے پہلے اور دیگر گناہوں  کو بعد میں  ذکر کیا گیا ،  اس سے معلوم ہوا کہ نمازیں  ضائع کرنا گناہوں  کی جڑ ہے۔ نمازیں  ضائع کرنے کی کئی صورتیں  ہیں  ،  جیسے نماز نہ پڑھنا ،  بے وقت پڑھنا ،  ہمیشہ نہ پڑھنا ،  ریا کاری سے پڑھنا اور نیت کے بغیر نماز شروع کر دینا وغیرہ ۔ اَحادیث میں  نماز ضائع کرنے کی بہت وعیدیں  بیان کی گئی ہیں   ،  ان میں  سے 3 وعیدیں  درج ذیل ہیں ۔

(1)…حضرت نوفل بن معاویہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس کی نماز فوت ہوئی گویا اس کے اہل و مال جاتے رہے۔( بخاری



Total Pages: 235

Go To