Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہیں  اور اس کی اپنی طرف سے کوئی وضاحت یا تشریح نہیں  کرتا تو یہ جائز ہے ،  یونہی علماء میں  سے بھی انہیں  ہی درسِ قرآن دینا چاہئے جنہوں  نے معتبر علمائِ کرام کی تفاسیر ،  اَحادیث اور ان کی شروحات ،  فقہی اَحکام اور دیگر ضروری علوم کا مُعْتَدْبِہا (اچھا خاصا) مطالعہ کیا ہو۔ درسِ قرآن دینے والا ہر شخص ان 3 اَحادیث کو ضرور اپنے پیش ِنظر رکھے :

(1)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو قرآن میں  علم کے بغیر کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں  بنالے۔( ترمذی ،  کتاب تفسیر القرآن عن رسول  اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم ،  باب ما جاء فی الذی یفسّر القرآن برأیہ ،  ۴ / ۴۳۹ ،  الحدیث: ۲۹۵۹)

(2)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’جو قرآن میں  اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے۔( ترمذی ،  کتاب تفسیر القرآن عن رسول  اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم ،  باب ما جاء فی الذی یفسّر القرآن برأیہ ،  ۴ / ۴۳۹ ،  الحدیث: ۲۹۶۰)

(3)…حضرت جندب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ، رسول اکرمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو قرآن میں  اپنی رائے سے کہے پھر ٹھیک بھی کہہ دے تب بھی وہ خطا کر گیا۔( ترمذی ،  کتاب تفسیر القرآن عن رسول  اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم  ،  باب ما جاء فی الذی یفسّر القرآن برأیہ  ،  ۴  /  ۴۴۰  ،  الحدیث: ۲۹۶۱)

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا(۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک بلند مکان پر اٹھالیا۔

{وَ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا:اور ہم نے اسے ایک بلند مکان پر اٹھالیا۔} حضرت ادریس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بلندمکان پر اٹھالینے کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ ا س سے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مرتبے کی بلندی مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوآسمان پر اٹھالیا گیا ہے اور زیادہ صحیح یہی قول ہے کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۷ ،  ۳ / ۲۳۸)

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَۗ-وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ٘-وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ٘-وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَاؕ-اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں  جن پر  اللہ نے احسان کیا غیب کی خبریں  بتانے والوں  میں  سے آدم کی اولاد سے اور ان میں  جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے اور ان میں  سے جنہیں  ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا جب ان پر رحمٰن کی آیتیں  پڑھی جاتیں  گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ وہ انبیاء ہیں  جن پر  اللہ نے احسان کیا  ، جو آدم کی اولاد میں  سے ہیں  اوران لوگوں  میں  سے ہیں  جنہیں  ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں  سے ہیں  اور ان لوگوں  میں  سے ہیں  جنہیں  ہم نے ہدایت دی اور چن لیا۔ جب ان کے سامنے رحمٰن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔

{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ:یہ وہ ہیں  جن پراللّٰہنے احسان کیا ۔}  اللہ عَزَّوَجَلَّنے سورۂ مریم کی ابتدا سے یہاں  تک مختلف انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حالات وواقعات فرداً فرداً بیان فرمائے مگراب تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کامشترکہ ذکر کیا جا رہا ہے جن میں  حضرت ادریس  ،  حضرت نوح  ،  حضرت ابراہیم  ،  حضرت اسماعیل  ،  حضرت اسحاق  ،  حضرت یعقوب  ، حضرت موسیٰ  ، حضرت ہارون  ، حضرت زکریا ،  حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شامل ہیں  اور یہ وہ مبارک ہستیاں  ہیں  جنہیں   اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا منصب عطا کر کے ان پر اپنا خصوصی احسان فرمایا اور انہیں  اپنی طرف ہدایت دی اور انہیں  شریعت کی تشریح اور حقیقت کے کشف کے لئے چن لیا۔

{اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ:جب ان کے سامنے رحمٰن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ۔} اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اے لوگو! تم سے پہلے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نسبی شرافت میں  بلند رتبہ رکھنے ،  نفس کے کامل ہونے اور  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  قرب کے مقام پر فائز ہونے کے باوجود جب اپنے اوپر نازل ہونے والی کتابوں  میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں  سنتے تو  اللہ تعالیٰ کے خوف سے رویا کرتے اور سجدے کیا کرتے تھے تو تم بھی ان کی سیرت پر عمل کرو (اور جب قرآن کی آیتیں  سنو تو  اللہ تعالیٰ کے خوف سے گریہ و زاری کیا کرو)۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ۵ / ۳۴۳ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ۳ / ۲۳۹ ،  ملتقطاً)

 اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں  کا شِعار:

            اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کے کلام کی آیات سن کر رونا انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت اور ان کا طریقہ ہے ۔سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی قرآنِ مجید کی آیات سن کر رویا کرتے تھے ،  جیسا کہ حضرت ابراہیم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُفرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے فرمایا ’’مجھے قرآن پاک سناؤ۔انہوں  نے عرض کی: میں  (کس طرح) آپ کو قرآن مجید سناؤں  حالانکہ آپ پر قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ’’ میں  ا س بات کو پسند کرتا ہوں  کہ میں  کسی اور سے قرآن کریم سنوں  ۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں  نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکوسورۂ نساء کی ابتدائی آیات سنائیں  اور جب اس آیت پر پہنچے

’’فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا‘‘(النساء:۴۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں  سےایک گواہ لائیں  گے اور اے حبیب! تمہیں  ان سب پر گواہ اورنگہبان بناکر لائیں  گے۔

 تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک آنکھوں  سے آنسو جاری ہو گئے۔( مسلم ،  کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ،  باب فضل استماع القرآن۔۔۔ الخ ،  ص۴۰۱ ،  الحدیث: ۲۴۸(۸۰۰))

            نیز قرآن کریم کی آیات سن کر رونا عارفین کی صفت اور صالحین کا شِعار ہے  ، جیساکہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ(۱۰۷) وَّ



Total Pages: 235

Go To