Book Name:Sirat ul jinan jild 6

            حضرت ثابت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : جب حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اہلِ خانہ کو کوئی حاجت پہنچتی تو آپ اپنے اہلِ خانہ کو ندا فرماتے: اے اہلِ خانہ! نماز پڑھو  ، نماز پڑھو۔( الزہد لابن حنبل ،  ص۳۵ ،  الحدیث: ۴۹)

            حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نماز کے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ ، اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘ نماز پڑھو ،  اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ،   اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں  پاک کرکے خوب صاف ستھرا کر دے۔( ابن عساکر ،  حرف العین ،  حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی ،  علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ ،  ۴۲ / ۱۳۶)

اہلِ خانہ کو نماز کا حکم دینے کی ترغیب:

             معلوم ہوا کہ اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دینا  اللہ تعالیٰ کے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے لہٰذا ہمیں  بھی چاہئے کہ ہم اپنے گھر والوں  کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں  اور اس کے علاوہ ان تمام کا موں  کا بھی حکم دیں  جو جہنم سے نجات ملنے کاسبب ہیں ۔  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘(تحریم)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے ایمان والو!اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں   ،  اس پر سختی کرنے والے ،  طاقتور فرشتے مقرر ہیں  جو  اللہ کے حکم کی نافرمانینہیں  کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں  حکم دیا جاتا ہے۔

نمازِ فجر کے لئے جگانے کی فضیلت:

            نمازِ فجر کے لئے جگانا حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنت ہے  ، چنانچہ حضرت ابو بکرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُفرماتے ہیں  ،  میں  سرکارِ دو عالَمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نمازِفجر کیلئے نکلا تو آپ جس سوتے ہوئے شخص کے پاس سے گزرتے اُسے نماز کیلئے آواز دیتے یا اپنے پاؤں  مبارک سے ہلا دیتے۔( ابوداؤد ،  کتاب التطوّع ،  باب الاضطجاع ،  ۲ / ۳۳ ،  الحدیث: ۱۲۶۴) لہٰذا جو خوش نصیب انسان کسی کو فجر کی نماز کے لئے جگاتا ہے تو وہ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِس ادا کو ادا کررہا ہے۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتاب میں  ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں  دیتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتاب میں  ادریس کو یاد کرو بیشک وہ بہت ہی سچا نبی تھا۔

{وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ:اور کتاب میں  ادریس کو یاد کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ہماری اس کتاب میں  حضرت ادریس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرمائیں   ،  بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔

حضرت ادریس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مختصر تعارف:

            آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا نام اخنوخ ہے اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے والد کے دادا ہیں۔ حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد حضرت شیث بن آدم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں  ۔ سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں ۔ کپڑوں  کو سینے اور سلے ہوئے کپڑے پہننے کی ابتدا بھی آپ ہی سے ہوئی  ،  آپ سے پہلے لوگ کھالیں  پہنتے تھے ۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ،  ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علمِ نُجوم اور علمِ حساب میں  نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں  اور یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے۔  اللہ تعالیٰ نے آپ پر تیس صحیفے نازِل کئے اور  اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے صحیفوں  کاکثرت سے درس دینے کی وجہ سے آپ کا نام ادریس ہوا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۳ / ۲۳۸ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ص۶۷۷ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۵ / ۳۴۱ ،  ملتقطاً)

درسِ قرآن اور درسِ علمِ دین کے فضائل:

            حضرت ادریس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے صحیفوں  کا کثرت سے درس دیا کرتے تھے ،  اس سے معلوم ہو اکہ  اللہ تعالیٰ کی کتاب کا درس دینا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے  ، اس مناسبت سے یہاں  قرآنِ مجید کا درس دینے کی فضیلت اور علمِ دین کا درس دینے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو لوگ  اللہ تعالیٰ کے گھروں  میں  سے کسی گھر میں  جمع ہوتے ہیں  اور وہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے اور ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں  تواُن پر سکون نازل ہوتا ہے ،  رحمت انہیں  ڈھانپ لیتی ہے اور  اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرشتوں  میں  فرماتا ہے۔(مسلم ،  کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار ،  باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر ،  ص۱۴۴۷ ،  الحدیث: ۳۸(۲۶۹۹))

(2)…حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ وہ عالِم جو صرف فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا پھر لوگوں  کو علمِ دین سکھاتا ہے اس کی بزرگی اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا ہے ،  ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر۔( دارمی ،  باب من قال: العلم الخشیۃ وتقوی اللّٰہ ،  ۱ / ۱۰۰ ،  الحدیث: ۲۸۹)

(3)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  ’’ رات میں  ایک گھڑی علم کا پڑھنا پڑھانا پوری رات (عبادت کرتے ہوئے) بیدار رہنے سے افضل ہے۔( دارمی ،  باب العمل بالعلم وحسن النیّۃ فیہ ،  ۱ / ۹۴ ،  الحدیث: ۲۶۴)

قرآنِ مجید کا درس دینے سے متعلق اہم تنبیہ:

            یاد رہے کہ جو شخص عالِم نہیں  اس کا درسِ قرآن دینا جائز نہیں  ہاں  اگر وہ کسی سُنّی  ،  صحیح العقیدہ ماہر عالِم کی لکھی ہوئی تفسیر سے صرف وہی الفاظ پڑھ کر سناتا ہے جو انہوں  نے لکھے



Total Pages: 235

Go To