Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اسنے وحی فرمائی۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون عطا کیا غیب کی خبریں  بتانے والا (نبی)۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔

{وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا:اورہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔} یعنی جب حضر ت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے  اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے گھر والوں  میں  سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا تو  اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور اپنی رحمت سے حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت عطا کی۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۳ / ۲۳۸)

آیت’’وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَا‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… نبوت کسبی نہیں  یعنی اپنی کوشش سے کسی کو نبوت نہیں  مل سکتی بلکہ یہ  اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے جسے  اللہ تعالیٰ چاہے صرف اسے ملتی ہے ۔

(2)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  قرب کاایسا مقام حاصل ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کے صدقے ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نبوت عطافرما دی۔اس سے  اللہ تعالیٰ کے پیاروں  کی عظمت کا پتہ لگا کہ ان کی دعا سے وہ نعمت ملتی ہے جو بادشاہوں  کے خزانوں  میں  نہ ہو تو اگر ان کی دعا سے اولاد یا دنیا کی دیگر نعمتیں  مل جائیں  تو کیا مشکل ہے۔البتہ اب ختمِ نبوت ہوچکی تو اب کسی کو نبوت نہیں  مل سکتی۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتاب میں  اسمٰعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں  بتاتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کتاب میں  اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں  دینے والارسول تھا۔

{وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ:اور کتاب میں  اسماعیل کو یاد کرو۔} حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فرزند ہیں  اور سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں  حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دو وصف بیان کئے گئے۔

(1)… آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاموعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں  مگرآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں  بہت زیادہ ممتاز تھے  ، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں  نہیں  آتا آپ یہیں  ٹھہریں  توآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں  3دن تک وہیں  ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو  اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا ،  اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں  ملتی۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۳ / ۲۳۸)

(2)…آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامغیب کی خبریں  دینے والے رسول تھے۔ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کورسول اور نبی فرمایا گیا ہے ،  اس میں  بنی اسرائیل کے ان لوگوں  کی تردید کرنا مقصود تھا جویہ سمجھتے تھے کہ نبوت صرف حضرت اسحاقعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے ہے اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی نہیں  ہیں ۔

رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وعدہ وفائی:

            اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3دن تک ایک شخص کے انتظار میں  ٹھہرے رہے ، اسی طرح کا ایک واقعہ سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  بھی اَحادیث کی کتابوں  میں  موجود ہے ،  چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں  نے نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں  نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں  ،  میں  بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا ،  میں  گیا تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے ،  میں  تین دن سے یہاں  تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔( ابوداؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی العدۃ ،  ۴ / ۴۸۸ ،  الحدیث:  ۴۹۹۶)

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ۪-وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے گھر والوں  کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور وہ اپنے گھر والوں  کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتاتھا اوروہ اپنے رب کے ہاں  بڑا پسندیدہ بندہ تھا۔

{وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ:اور وہ اپنے گھر والوں  کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتاتھا ۔} ارشاد فرمایا کہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے گھر والوں  اور اپنی قوم جرہم کو جن کی طرف آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مبعوث تھے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی طاعت و اَعمال  ، صبر و اِستقلال اور اَحوال و خِصال کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے بڑے پسندیدہ بندے تھے۔

اہلِ خانہ کو نماز کی تلقین کرنے میں  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سیرت:

            سیّد المرسَلینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمختلف مَواقع پر اپنے اہلِ خانہ کو نماز وغیرہ کی تلقین فرمایا کرتے تھے ،  چنانچہ حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’جب حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہل ِخانہ پر کوئی تنگی آتی تو آپ انہیں  نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرماتے۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۲۵۸ ،  الحدیث: ۸۸۶)

 



Total Pages: 235

Go To