Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کو چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حساب کے لئے پیش ہونے سے پہلے پہلے اپنے اعمال کی اصلاح کر لے تاکہ اسے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اچھی جزا ملے۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ۬ؕ-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتاب میں  ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا  غیب کی خبریں  بتاتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتاب میں  ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔

{وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ:اور کتاب میں  ابراہیم کو یاد کرو۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : اس سورت کا (بنیادی) مقصد توحید ،  رسالت اور حشر کو بیان کرنا ہے اور توحید کا انکار کرنے والے وہ لوگ تھے جو  اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو(اپنا) معبود مانتے تھے ،  پھر ان لوگوں  کے بھی دو گروہ تھے ،  ایک گروہ زندہ اور عقل و فہم رکھنے والے انسان کو معبود مانتا تھا اور یہ عیسائیوں  کا گروہ ہے ،  اور ایک گروہ بے جان اور عقل و فہم نہ رکھنے والی جَمادات کو معبود مانتا تھا اور یہ بتوں  کے پجاریوں  کا گروہ ہے اور یہ دونوں  گروہ اگرچہ گمراہی میں  مُشترک تھے لیکن دوسرا گروہ (پہلے کے مقابلے میں) زیادہ گمراہ تھا ،  چنانچہ اس سے پہلی آیات میں   اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کی گمراہی بیان فرمائی اور اب یہاں  سے دوسرے گروہ کی گمراہی بیان فرما رہا ہے ،  چنانچہ جب حضرت زکریا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعے کا اختتا م ہوا تو گویا کہ ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ نے حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال ذکر کردیا اور اب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حال بیان کریں ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال بیان کرنے کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ اس بات سے واقف تھے کہ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کی قوم اور آپ کے صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کتابوں  کا مطالعہ کرنے اور پڑھنے لکھنے میں  مشغول نہ تھے تو جب آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ واقعہ کسی کمی زیادتی کے بغیر جیسا واقع ہوا تھا ویسا ہی بیان کر دیا تو یہ غیب کی خبر ہوئی اور سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(کاغیب کی خبر دینا آپ) کی نبوت کی دلیل اور آپ کا معجزہ ہوا۔( تفسیرکبیر ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۷ / ۵۴۱)

             یہاں  بطورِ خاص حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ بیان کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عرب کےمشرکین اپنے آپ کومِلّتِ ابراہیمی کے پیروکار کہتے تھے ،  اس میں  انہیں  سمجھایا جارہا ہے کہ اگرتم ملت ابراہیمی کے پیروکار ہو توبتوں  کی پوجا کیوں  کرتے ہو؟ تمہارے باپ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توبتوں  کی پوجانہیں  کرتے تھے بلکہ وہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس میں  کسی کوشریک نہیں  ٹھہراتے تھے۔ اگرتم ملت ابراہیمی پرقائم ہو توان کے دین کواپناؤ اور بت پرستی چھوڑو۔

{اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا:بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔} آیت کے اس حصے میں  حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صِفات بیان کی جارہی ہیں  کہ آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمیشہ سچ بولتے تھے اور نبوت کے مرتبے پر بھی فائز تھے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں  کثیرُ التَّصدیق یعنی جو  اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کی ،  اس کے اَنبیاء اور اس کے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اور مرنے کے بعد اُٹھنے کی تصدیق کرے اور اَحکامِ الہٰیہ بجالائے وہ صدّیق ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۳ / ۲۳۶)

            یاد رہے کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سچے ہونے کے وصف کو بطورِ خاص بیان کرنے کی یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ بعض لوگوں  کو چند واقعات کی وجہ سے شُبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام ان مَواقع پر حقیقت کے مطابق نہیں  تھا۔ ان کی تفہیم کیلئے بطورِ خاص آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سچا فرمایا گیا۔

مقامِ صدّیق اور مقامِ نبوت میں  فرق:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے صدیق اور نبی میں  اور صدیق اور ولی میں  فرق ملاحظہ ہو ،  چنانچہ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ہر نبی صدیق ہے لیکن اس کا عکس نہیں  (یعنی ہر صدیق نبی نہیں  ، اسی طرح) ہر صدیق ولی ہے لیکن اس کا عکس نہیں  (یعنی ہر ولی صدیق نہیں ) کیونکہ صِدِّیْقِیَّت کا مرتبہ نبوت کے مرتبے کے نیچے (اور ا س کے قریب ) ہے۔( صاوی ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۴ / ۱۲۳۷)

                اس سے معلوم ہوا کہ اَنبیاء اور رُسُلعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد انسانوں  میں  سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُکا ہے کیونکہ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ اَنبیاء اور رسل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد صدیقیت کے سب سے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں ۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْــٴًـا(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں  ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں  ایسے کی عبادت کررہے ہو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

{اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ:جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں  ایسے کی عبادت کررہے ہو۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بت پرست (عُرفی) باپ آزَر سے فرمایا ’’ عبادت معبود کی انتہائی تعظیم ہے اور اس کا وہی مستحق ہو سکتا ہے جو اوصاف وکمال والا اور نعمتیں  دینے والا ہو اور وہ صرف  اللہ تعالیٰ ہے جس کا کوئی شریک نہیں  ،  اس لئے عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے ،  جبکہ تم جن بتوں  کی عبادت کررہے ہو ان کا حال یہ ہے کہ یہ نہ توسنتے ہیں  ،  نہ دیکھتے ہیں  اور نہ ہی تمہارے کسی کام آسکتے ہیں  بلکہ یہ خود تمہارے    محتاج ہیں  کہ اپنی جگہ سے دوسری جگہ بھی نہیں  جاسکتے اور تم نے خود انہیں  اپنے ہاتھوں  سے بنایا ہے تو ایسی ناکارہ اور لاچار مخلوق کی عبادت کرنا اور اس کے سامنے اپنا سرجھکانا اور اس سے کسی بھی قسم کے نفع نقصان کی امید رکھنا انتہائی حماقت کے سوا کچھ نہیں  ہے۔

آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا باپ تھا یا چچا؟

            قرآنِ پاک میں  کئی مقامات پر ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے والد کوتوحید کی دعوت دی اور بت پرستی سے منع کیا اور سورۂ اَنعام کی آیت نمبر 74 میں  اس کا نام آزر بھی مذکور ہے ،  اب حل طلب معاملہ یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حقیقی باپ تھا یا نہیں  ،  چنانچہ اس کے بارے مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں  ،  بعض مفسرین کے نزدیک



Total Pages: 239

Go To