Book Name:Sirat ul jinan jild 6

حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آزر کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس واقعے سے چار باتیں  معلوم ہوئیں

(1)…حق کی طرف ہدایت دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ نرم مزاج اور اچھے اَخلاق والا ہو کیونکہ عام طور پر جو بات سختی سے کہی جاتی ہے  ،  سننے والا اس سے منہ پھیر لیتا ہے البتہ جہاں  سختی کا موقع ہو وہاں  اُسی کو بروئے کار لایا جائے۔

(2)…اپنے سے بڑے مرتبے والے کی پیروی کی جائے۔ یاد رہے کہ اطاعت و فرمانبرداری میں  سے سب سے بڑا مرتبہ  اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ہے اور صحابہ و اَئمۂ دین کی پیروی بھی در حقیقت  اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہی پیروی ہے۔

(3)… جو شخص دنیا و آخرت میں  ظاہری و باطنی سلامتی چاہتا ہے وہ برے ساتھیوں  اور بد مذہب لوگوں  سے جدا ہو جائے۔

(4)…جو شخص  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر اپنی پسندیدہ چیز چھوڑ دے تو  اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے بہت بہتر اور زیادہ پسندیدہ بدل عطا فرماتا ہے اور اس سے پہلی چیز کے چھوٹنے پر ہونے والی وحشت  اُنْسِیَّت میں  بدل جاتی ہے۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى٘-اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتاب میں  موسیٰ کو یاد کرو بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں  بتانے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتاب میں  موسیٰ کو یاد کرو ،  بیشک وہ چنا ہوا بندہ تھا اور وہ نبی رسول تھا ۔

{وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى:اور کتاب میں  موسیٰ کو یاد کرو۔} اس سے پہلی آیات میں  حضر ت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صِفات بیان کی گئیں  اور اب یہاں  سے حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات بیان فرمائی جا رہی ہیں  ،  دوسرے لفظوں  میں  ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ خلیلُ  اللہ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات بیان کرنے کے بعد اب کلیمُ  اللہ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات بیان کی جارہی ہیں  ۔

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پانچ صفات :

            اس رکوع میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں ۔

(1)…آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے چنے ہوئے اور برگزیدہ بندے تھے۔

(2)… آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رسول و نبی تھے۔

(3)…آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے  اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔

(4)…آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکواپنا قرب بخشا۔

(5)…آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خواہش پرآپ کے بھائی حضرت ہارونعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکونبوت عطاکی۔

             حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یعقوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں  سے ہیں  اسی لئے ان کا ذکر حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے پہلے فرمایا تاکہ دادا اور پوتے کے ذکر میں  فاصلہ نہ ہو۔( روح المعانی ،  مریم تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۸ / ۵۵۹)ورنہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہت پہلے کے ہیں ۔

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسے ہم نے طور کی دا ہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے طور کی دائیں  جانب سے پکارا اور ہم نے اسے اپنا راز کہنے کیلئے مقرب بنایا۔

{وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ:اور ہم نے اسے طور کی دائیں  جانب سے پکارا ۔} طور ایک پہاڑ کا نام ہے جو مصر اور مَدْیَن کے درمیان ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مدین سے آتے ہوئے طور کی اس جانب سے جو حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دائیں  طرف تھی ایک درخت سے ندا دی گئی’’یٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ (قصص:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے موسیٰ میں  ہی  اللہ ہوں  ،  تمام جہانوں  کا پالنے والا ۔

            اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بلاواسطہ کلام فرمایا اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کلیمُ  اللہ کے شرف سے نوازے گئے ۔آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مرتبۂ قرب عطا فرمایا گیا  ،  حجاب اٹھا دئیے گئے یہاں  تک کہ آپ نے قلموں  کے چلنے کی آواز سنی اور آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قدرو منزلت بلند کی گئی۔(خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۳ / ۲۳۷-۲۳۸)

کلیم اور حبیب میں  فرق:

            یہا ں   اللہ تعالیٰ کے کلیم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور  اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقام و مرتبے کافرق ملاحظہ ہو کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے کوہِ طور پر جو کلام فرمایا اسے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ذریعے سب پر ظاہر فرما دیا لیکن  اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات لا مکاں  میں  اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے جو کلام فرمایا وہ کسی کو نہ بتایا بلکہ یہ ارشاد فرما کرسب سے چھپا دیا کہ

’’فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى‘‘(النجم:۱۰)

 



Total Pages: 235

Go To