Book Name:Sirat ul jinan jild 6

            قیامت کے دن کی اس کیفیت کے بارے میں  حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’(جب اہلِ جنت  ، جنت میں  داخل ہو جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں  رہ جائیں  گے تو) موت کوایک سرمئی مینڈھے کی شکل میں  لایاجائے گا ،  اسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا ،  پھر ایک منادی ندا کرے گا : اے اہلِ جنت! پس وہ گردن اٹھا کر دیکھیں  گے تو ان سے کہا جائے گا: کیاتم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں  گے: ہاں ! جانتے ہیں  ،  یہ تو موت ہے (کیونکہ سب اسے مرتے وقت دیکھ چکے ہوں  گے) پھر کہا جائے گا: اے دوزخیو! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ جھانک کر دیکھیں  گے اور کہیں  گے :ہاں  ،  یہ موت ہے۔ پھر موت (کے مینڈھے) کوذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا (اور اسے ذبح کر کے) کہا جائے گا: اے اہلِ جنت! تمہیں  ہمیشہ جنت میں  رہنا ہے اور (اس میں  کسی کے لئے) موت نہیں  ہوگی ۔ اے اہلِ جہنم!تم نے دوزخ میں  ہمیشہ رہنا ہے اور اب تمہیں  موت نہیں  آئے گی۔ پھر آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

’’وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہیں  پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ غفلت میں  ہیں  اورنہیں  مانتے۔‘‘

اور ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا (کہ دنیا کا شیدائی غفلت میں  ہے)۔( مسلم ،  کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ،  باب النار یدخلہا الجبارون۔۔۔ الخ ،  ص۱۵۲۶ ،  الحدیث: ۴۰(۲۸۴۹))

اُخروی تیاری کی ترغیب:

            اس آیت میں  قیامت کے دن کے بارے میں  ارشاد ہوا کہ وہ ایسا دن ہے جس میں  لوگ حسرت کریں  گے اور پچھتائیں  گے اور لوگوں  کا حال بیان ہو اکہ وہ اس دن کی تیاری سے غافل ہیں  اور اس دن کو ماننے پر تیار نہیں   ، ان کے بارے میں  ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَاۙ-وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ‘‘(انعام:۳۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ان لوگوں  نے نقصان اٹھایا جنہوں  نے اپنے رب سے ملنے کو جھٹلایا یہاں  تک کہ جب ان پر اچانک قیامت آئے گی تو کہیں  گے : ہائے افسوس اس پر جو ہم نے اس کےماننے میں  کوتاہی کی اور وہ اپنے گناہوں  کے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں  گے ۔خبردار ، وہ کتنا برا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔

            اوران کاانجام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ(۷) اُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ‘‘(یونس: ۷ ، ۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں   رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں  اور اس پر مطمئن ہوگئے ہیں  ور وہ جو ہماری آیتوں  سے غافل ہیں ۔ ان لوگوں  کا ٹھکانا ان کے اعمال کے بدلے میں  دوزخ ہے۔

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ حسرت و پچھتاوے اور عذاب کا دن آنے سے پہلے پہلے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے گناہوں  سے سچی تو بہ کر لے  ،   اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت میں  اپنی زندگی بسر کرنا شروع کر دے اور قرآنِ مجید میں   اللہ تعالیٰ نے جو اَحکامات دئیے ان کی پیروی میں  لگ جائے  ،  چنانچہ اسی چیز کا حکم دیتے ہوئے  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(۵۴)وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ(۵۵) اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَ‘‘(زمر۵۴۔۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے رب کی طرف رجوع کرواور اس وقت سے پہلے اس کے حضور گردن رکھو کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔ اورتمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں  خبر (بھی)نہ ہو۔(پھر ایسا نہ ہو)کہ کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں  پر جو میں  نے  اللہ کے بارے میں  کیں  اور بیشک میں  مذاق اڑانے والوں  میں  سے تھا۔

              اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں  کو اپنی اُخروی تیاری کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں  گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں  گے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں  گے اور ہماری ہی طرف انہیں  لوٹایا جائے گا۔

{اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا:بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس وقت سب کچھ فنا ہو جائے گا اور میری ذات کے سوا کوئی باقی رہے گا نہ کسی کی ظاہری ملکیت باقی ہو گی( اور جب لوگوں  کو زندہ کیا جائے گا تو )انہیں  ہماری ہی طرف لوٹایا جائے گا اور ہم انہیں  ان کے اعمال کی جزا دیں  گے۔(مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ص۶۷۴)

گناہگاروں  کے لئے مقامِ خوف:

            اس آیت میں  گناہگاروں  کے لئے عظیم ڈر اور تنبیہ ہے کہ دنیامیں  انہوں  نے جس رب تعالیٰ کی نافرمانیاں  کی ہیں  اور ا س کے دئیے ہوئے اَحکامات کو پامال کیا ہے قیامت کے دن انہیں  اسی کی بارگاہ میں  لوٹ کر جانا ہے اور اسی کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور وہ لوگوں  کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا تو گناہگار لوگ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی جزا پر خود ہی غور کر لیں  کہ وہ کیا ہو گی ، اگر  اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا رحم نہ فرمایا اور ان کے گناہوںکو نہ بخشا تو انہیں  جہنم کے انتہائی دردناک عذابات سہنے پڑیں  گے ، لہٰذا ہر مسلمان



Total Pages: 239

Go To