Book Name:Sirat ul jinan jild 6

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ ﳲ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میں  ایک کنارے ہوجاؤں  گا تم سے اور ان سب سے جن کو  اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں  گا قریب ہے کہ میں  اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  تم لوگوں  سے اور  اللہ کے سوا جن (بتوں ) کی تم عبادت کرتے ہو ان سے جدا ہوتا ہوں  اور میں  اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں  ۔قریب ہے کہ میں  اپنے رب کی عبادت کی وجہ سے بدبخت نہ ہوں  گا۔

{وَ اَعْتَزِلُكُمْ:اور میں  تم لوگوں  سے جدا ہوتا ہوں  ۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مزید فرمایا کہ میں  بابِل شہر سے شام کی طرف ہجرت کر کے تم لوگوں  سے اور  اللہ کے سوا جن بتوں  کی تم عبادت کرتے ہو ان سے جدا ہوتا ہوں  اور میں  اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتا ہوں  جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھ پر احسان فرمائے ۔پھر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عاجزی اور اِنکساری کرتے ہوئے فرمایا : قریب ہے کہ میں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کی وجہ سے بدبخت نہ ہوں  گا۔ اس میں  اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے تم بتوں  کی پوجا کر کے بدنصیب ہوئے  ، خدا کے پَرَسْتار کے لئے یہ بات نہیں  کیونکہ اس کی بندگی کرنے والا بدبخت اور محروم نہیں  ہوتا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۳ / ۲۳۷ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۶۷۶ ،  ملتقطاً)

آیت ’’وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 3 باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… کافروں  ،  بد مذہبوں  کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ نشست برخاست رکھنے سے بچنا چاہئے ،  جیسے یہاں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر ہوا کہ وہ اپنے کافر چچا سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

(2)…اپنا دین نہیں  چھپانا چاہئے جیسے یہاں  ذکر ہوا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنا دین صاف اور واضح طور پر بیان کر دیا کہ وہ صرف اس  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں  جو ان کا خالق ہے۔

(3)… اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بد نصیب نہیں  ہو سکتا بلکہ بد نصیب تو وہ ہے جو  اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرے۔

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِۙ-وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب ان سے اور  اللہ کے سوا ان کے معبودوں  سے کنارہ کر گیا ہم نے اسے اسحق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں  بتانے والا کیا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب ابراہیم لوگوں  سے اور  اللہ کے سوا جن (بتوں  ) کی وہ عبادت کرتے تھے ان سے جدا ہوگئے تو ہم نے اسے اسحاق اور (اس کے بعد) یعقوب عطا کئے اور ان سب کو ہم نے نبی بنایا۔

{فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ:پھر جب ابراہیم لوگوں سے جدا ہوگئے۔} ارشاد فرمایا کہ پھر جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مقدس سرزمین کی طرف ہجرت کر کے لوگوں سے اور  اللہ کے سوا جن بتوں  کی وہ لوگ عبادت کرتے تھے ان سے جدا ہوگئے تو ہم نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرزند حضرت اسحاق عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بعد پوتے حضرت یعقوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عطا کئے تاکہ وہ ان سے اُنْسِیَّت حاصل کریں  اور ان سب کو ہم نے مقامِ نبوت سے سرفراز فرما کر احسان فرمایا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۳ / ۲۳۷ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۶۷۶ ،  ملتقطاً)

                 یادرہے کہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  حضرت اسحاق عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بڑے ہیں  ،  لیکن چونکہ حضرت اسحاق عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبہت سے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے والد ہیں  ،  اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا گیا۔

آیت ’’فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 2باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر شریف اتنی دراز ہوئی کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پوتے حضرت یعقوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا ۔

(2)…  اللہ تعالیٰ کے لئے ہجرت کرنے اور اپنے گھر بار کو چھوڑنے کی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یہ جزا ملی کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  بیٹے اور پوتے عطا فرمائے ۔

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے انہیں  اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے انہیں  اپنی رحمت عطا کی اور ان کیلئے سچی بلند شہرت رکھی۔

{وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا:اور ہم نے انہیں  اپنی رحمت عطا کی ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے انہیں  دنیا و آخرت کی عظیم ترین نعمت نبوت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں  وسیع رزق اور اولاد عطا کی اور ان کیلئے سچی بلند شہرت رکھی کہ ہر دین والے مسلمان ہوں  خواہ یہودی یا عیسائی سب ان کی ثنا و تعریف کرتے ہیں  اور مسلمانوں میں  تو نمازوں  کے اندر ان پر اور ان کی آل پر درود پڑھا جاتا ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۳ / ۲۳۷ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ص۶۷۶ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To