Book Name:Sirat ul jinan jild 6

فرمانبرداری کر کے کفر و شرک میں  مبتلا نہ ہو ،  بیشک شیطان رحمٰن عَزَّوَجَلَّکا بڑ انافرمان ہے اور نافرمان کی اطاعت کا انجام یہ ہے کہ یہ اطاعت کرنے والے کو بھی نافرمان بنا دیتی ہے اور نعمت سے محروم کرکے مشقت و عذاب میں  مبتلا کر دیتی ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۳ / ۲۳۶ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۵ / ۳۳۶ ،  ملتقطاً)

{یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ:اے میرے باپ! میں  ڈرتا ہوں ۔} حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آزر سے مزید فرمایا:  مجھے ڈر ہے کہ اگر تو رحمٰن عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی کرتے اور شیطان کی پیروی کرتے ہوئے کفر کی حالت میں  ہی مر گیا تو تجھے رحمٰن عَزَّوَجَلَّکی طرف سے کوئی عذاب پہنچے گا اور تولعنت میں  اور جہنم کے عذاب میں  شیطان کا رفیق اور دوست بن جائے گا۔(خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۳ / ۲۳۶ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۵ / ۳۳۶ ،  ملتقطاً)

سورۂ مریم کی آیت نمبر44اور45سے حاصل ہونے والی معلومات:

            ان آیات سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی پیروی کرنا بندے کے نافرمان بننے کا ایک سبب ہے لہٰذا ایسے لوگوں  کی پیروی کی جائے جو  اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہوں ۔

(2)…بندے کو چاہئے کہ اگر اس کے اہلِ خانہ یا عزیز رشتہ داروں  میں  سے جو لوگ  اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہیں  کرتے یا عمل کرنے میں  سستی کرتے ہیں  تو انہیں  احسن انداز میں  اس کی ترغیب دے اور اس حوالے سے انہیں   اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈرائے۔

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُۚ-لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا کیا تو میرے خداؤں  سے منہ پھیرتا ہے اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں  تجھے پتھراؤ کروں  گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بولا: کیا تو میرے معبودوں  سے منہ پھیرتا ہے؟ اے ابراہیم ! بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں  تجھے پتھر ماروں  گا اور تو عرصہ دراز کیلئے مجھے چھوڑ دے۔

{قَالَ:بولا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی لطف آمیز نصیحت اور دل پذیر ہدایت سے آزر نے نفع نہ اٹھایا اور وہ ا س کے جواب میں  بولا: کیا تو میرے معبودوں  سے منہ پھیرتا ہے؟ اے ابراہیم ! بیشک اگر تو بتوں  کی مخالفت کرنے ،  اُنہیں  برا کہنے اور اُن کے عیب بیان کرنے سے باز نہ آیا تو میں  تجھے پتھر ماروں  گا اور تو عرصۂ دراز کیلئے مجھ سے کلام کرناچھوڑ دے تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امن میں  رہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۳ / ۲۳۷)

نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والوں  کیلئے درس:

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :  اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا نصیحت کرنے کا انداز اور ان کے جواب میں  آزر کا طرزِ عمل اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سامنے اس لئے بیان فرمایا تاکہ مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  پر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دل ہلکا ہو اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جان جائیں  کہ جاہلوں  کا یہ مذموم طرزِ عمل (کوئی آج کا نہیں  بلکہ) عرصۂ دراز سے چلا آرہا ہے۔( تفسیرکبیر ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۷ / ۴۴۵)

            اس میں  ان مسلمانوں  کے لئے بھی درس ہے جو دینِ اسلام اور اس کے اَحکام کی دعوت دینے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں  کہ اگر اس دوران انہیں  کسی کافر یا کسی مسلمان کی طرف سے کسی ناقابلِ برداشت سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ رنجیدہ ہو کر اس فریضہ کی بجا آوری کو چھوڑ نہ دیں  بلکہ ایسے موقع پر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں  کے واقعات کو یاد کریں  کہ ان بزرگ ترین ہستیوں  نے کس طرح اسلام کی دعوت دی اور انہیں  نافرمان اور سرکش کفار کی طرف سے کیسی کیسی اَذِیَّتوں  کا سامنا کرنا پڑا لیکن اُنہوں  نے تمام تر تکلیفوں  کے باوجود دین ِاسلام کی دعوت دینے کو نہیں  چھوڑا تو ہم بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے دین ِاسلام اور اس کے احکام کی دعوت دینا نہیں  چھوڑیں  گے۔ اس سے اِنْ شَآء  اللہ دل کو تسلی ملے گی اور اسے مزید تَقْوِیَت حاصل ہو گی۔

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَۚ-سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں  تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں  گا بیشک وہ مجھ  پرمہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔ عنقریب میں  تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں  گا بیشک وہ مجھ پربڑا مہربان ہے۔

{قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ:فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے چچا آزر کا جواب سن کر فرمایا ’’تجھے دور ہی سے سلام ہے ۔ عنقریب میں  تیرے لیے اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے معافی مانگوں  گا کہ وہ تجھے توبہ اور ایمان کی توفیق دے کر تیری مغفرت فرمادے  ،  بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۳ / ۲۳۷)

آزر کے لئے دعائے مغفرت کاوعدہ کرنے کی وجہ:

            حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے چچا آزر کے لئے جو مغفرت کی دعا فرمائی اس کا ذکر سورۂ شُعراء کی آیت نمبر 86 میں  ہے اور یہاں  یہ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے چچا آزر سے یہ کہنا کہ’’ عنقریب میں  تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں  گا‘‘ اس وجہ سے تھا کہ آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کے ایمان لانے کی تَوَقُّع تھی اور جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اس کا ایمان نہ لانا واضح ہو گیا تواس کے بعد آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آزر سے بیزار ہو گئے اورپھر کبھی اس کے لئے مغفرت کی دعا نہ کی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُۚ-فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُؕ-اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۱۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں  نے اس سے کر لیا تھا پھر جب ابراہیم کے لئے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ وہ  اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے ۔ بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا  ،  بہت برداشت کرنے والا تھا۔

 



Total Pages: 235

Go To