Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اور عیسیٰ نے کہا بیشک  اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور عیسیٰ نے کہا بیشک  اللہ میرا اور تمہارارب ہے تو اس کی عبادت کرو۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔

{وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ:اور بیشک  اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔} اس آیت میں  مذکور کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے ،  چنانچہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: بیشک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارارب ہے ،  اس کے سوا اور کوئی رب نہیں  ،  تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور  اللہ تعالیٰ کے جو اَحکامات میں  نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو جنت کی طرف لے کر جاتا ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۳ / ۲۳۵)

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْۚ-فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جماعتیں  آپس میں  مختلف ہوگئیں  تو خرابی ہے کافروں  کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر گروہوں  کا آپس میں  اختلاف ہوگیا تو کافروں  کے لئے خرابی ہے ایک بڑے دن کی حاضری سے۔

{فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ:پھر گروہوں  کا آپس میں  اختلاف ہوگیا۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  حقیقت ِحال واضح ہوجانے کے باوجود لوگوں  میں  ان کے متعلق کئی فرقے بن گئے حالانکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کااپنی دودھ پینے کی عمر میں  کلام کرنا اور کلام کرنے میں  سب سے پہلے ہی اس اختلاف کی بیخ کنی کرنا کہ میں  ایک بندہ ہوں  ،  اور مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ خدا یا خدا کا بیٹا نہیں  ہوں  واضح طور پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے خاص بندےاور رسول ہیں  ۔

عیسائیوں  کے مختلف فرقے اور ان کے عقائد:

            سورہِ نساء آیت 171کی تفسیر میں  تفسیر خازن کے حوالے سے مذکور ہو چکا کہ عیسائی چار بڑے فرقوں  میں  تقسیم ہو گئے تھے(1) یعقوبیہ۔(2)ملکانیہ۔(3)نسطوریہ۔(4) مرقوسیہ۔ ان میں  سے ہر ایک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے بارے میں  جداگانہ کفریہ عقیدہ رکھتا تھا ۔ یعقوبیہ اور ملکانیہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کہتے تھے۔ نسطوریہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے جبکہ مرقوسیہ فرقے کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ تین میں  سے تیسرے ہیں  ، اور اس جملے کا کیا مطلب ہے اس میں  بھی ان میں  اختلاف تھا  ، بعض تین اُقْنُوم (یعنی وجود) مانتے تھے اور کہتے تھے کہ باپ  ، بیٹا ،  روحُ القدس تین ہیں  اورباپ سے ذات ،  بیٹے سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورروحُ القدس سے ان میں  حلول کرنے والی حیات مراد لیتے تھے گویا کہ اُن کے نزدیک اِلٰہ تین تھے اور اس تین کو ایک بتاتے تھے۔بعض کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ناسُوتِیَّت (یعنی انسانیت) اور اُلُوہِیَّت کے جامع ہیں  ،  ماں  کی طرف سے اُن میں  ناسوتیت آئی اور باپ کی طرف سے الوہیت آئی ’’تَعَالَی  اللہ  عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا‘‘( اللہ تعالیٰ ظالموں  کی بات سے پاک اور بہت ہی بلند وبالا ہے) یہ فرقہ بندی عیسائیوں  میں  ایک یہودی نے پیدا کی جس کا نام بَوْلَسْ تھا  ،  اُس نے اُنہیں  گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کے عقیدوں  کی تعلیم دی۔( خازن ،  النساء ،  تحت الآیۃ: ۱۷۱ ،  ۱ / ۴۵۴)

            البتہ تفسیر مدارک میں  سورہِ مریم کی اسی آیت کے تحت عیسائیوں  کے تین فرقوں  کا ذکر ہے اور اس میں  ملکانیہ فرقے کے بارے میں  لکھاہے کہ یہ کہتا تھا کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں  ،  مخلوق ہیں ا ور نبی ہیں ۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۶۷۳)

            نیز صدرالافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے بھی اسی مقام پر تین فرقوں  کا ذکر کیا ہے اور ملکانیہ فرقے کا عقیدہ بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ فرقہ مومن تھا۔( خزائن ا لعرفان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۵۷۴)

{فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا:تو کافروں  کے لئے خرابی ہے۔} یعنی ان گروہوں  میں  سے جو کافر ہیں  جب یہ قیامت کے بڑے دن حاضر ہوں  گے تو ان کے لئے شدید عذاب ہے۔

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْۙ-یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کتنا سنیں  گے اور کتنا دیکھیں  گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں  گے مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں  گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں  گے لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں  ہیں ۔

{اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ:اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں  گے۔} یعنی قیامت کے دن جب کافر ہمارے پاس حاضر ہوں  گے تو اس دن خوب سنتے اور دیکھتے ہوں  گے لیکن چونکہ انہوں  نے دنیا میں  حق کے دلائل کو نہیں  دیکھا اور  اللہ تعالیٰ کی وعیدوں  کو نہیں  سنا تو اُس دن کا دیکھنا او رسننا انہیں  کچھ نفع نہ دے گا ۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ کلام ڈرانے کے طور پر ہے کہ اس دن (وہ اپنے بارے میں ) ایسی ہولناک باتیں  سنیں  اور دیکھیں  گے جن سے ان کے دل پھٹ جائیں  گے ،  لیکن آج دنیا میں  ظالم کھلی گمراہی میں  ہیں   ، نہ حق دیکھتے ہیں  نہ حق سنتے ہیں  بلکہ بہرے اور اندھے بنے ہوئے ہیں   ،  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواِ لٰہ اور معبود ٹھہراتے ہیں  حالانکہ انہوں  نے صراحت کے ساتھ اپنے بندہ ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں  ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں  ہیں  اور وہ نہیں  مانتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہیں  پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ غفلت میں  ہیں  اورنہیں  مانتے۔

{وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ:اور انہیں  پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کافروں  کو اس دن سے ڈرائیں  جس میں  لوگ حسرت کریں  گے ،  غمزدہ ہوں  گے اور نیک و بد تمام لوگ پچھتائیں گے اور اس دن اس طرح فیصلہ کر دیا جائے گا کہ جنتیوں  کو جنت میں  اور دوزخیوں  کو دوزخ میں  پہنچا کر موت کو بھی ذبح کردیا جائے گا کہ اب ہر شخص ہمیشہ کیلئے اپنی جگہ رہے اور کسی کو موت نہ آئے ،  انہیں  ایسا سخت دن درپیش ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں  پڑے ہوئے ہیں  اور اس دن کے لئے کچھ فکر نہیں  کرتے اور نہ ہی اس دن کومانتے ہیں ۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۵ / ۳۳۵ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ص۶۷۴ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To