Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنی ماں  سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (مجھے) اپنی ماں  سے اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے متکبر ،  بدنصیب نہ بنایا۔

{وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ:اور اپنی ماں  سے اچھا سلوک کرنے والا۔} یعنی  اللہ تعالیٰ نے مجھے میری والدہ کاخدمت گزار بنایا ہے اور مجھے حق بات کے خلاف تکبر کرنے والا اور بدنصیب نہیں  بنایا بلکہ عاجزی اور انکساری کرنے والا بنایا ہے۔

آیت’’وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

             اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں  :

(1)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی والدہ ماجدہ بدکاری کی تہمت سے بری ہیں  کیونکہ اگر وہ کوئی بدکار عورت ہوتیں  تو ایک معصوم رسول کو ان کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی تعظیم کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔

(2)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں  کیونکہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس سے ماں  کا مرتبہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی اُن سے حسن ِسلوک کا فرمایا جاتا ہے اور  اللہ تعالیٰ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فطرت کے اعتبار سے ہی ماں  سے حسن ِ

سلوک کرنے والا بناتا ہے۔

(3)… انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بد عقیدگی ،  بد عملی ،  بد خلقی اور سخت دلی سے معصوم ہوتے ہیں  کیونکہ بد عقیدہ اور بد عمل لوگ بد بخت ہوتے ہیں  ۔

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں  پیدا ہوا اور جس دن مروں  گا اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں  گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں  پیدا ہوا اور جس دن وفات پاؤں  اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں ۔

{وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ:اور مجھ پر سلامتی ہو۔} آخر میں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ویساہی کلام کیا جوگزشتہ رکوع میں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ میں  جس دن پیدا ہوا اس دن مجھ پر سلامتی ہو ،  جس دن وفات پاؤں  اس دن مجھ پرسلامتی ہو اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں  اس دن مجھ پر سلامتی ہو۔ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ کلام فرمایا توتمام لوگ خاموش ہوگئے اور ان کوآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہ کے نیک ،  پرہیزگار ہونے پر یقین آگیا کہ جوبچہ اس طرح کی باتیں  کر رہا ہے اس کی والدہ ہمارے لگائے ہوئے الزامات سے بَری ہیں  ،  اس کلام کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور دوبارہ اسی وقت کلام کیاجب دوسرے بچوں  کی طرح بولنے کی عمرتک پہنچ گئے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۳ / ۲۳۴) اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کے نبیعَلَیْہِ  السَّلَام ولادت ،  زندگی ،  وفات ، حشر ہر جگہ  اللہ عَزَّوَجَلَّکے امن میں  رہتے ہیں ۔

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَۚ-قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں  شک کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا۔ سچی بات جس میں  یہ شک کررہے ہیں ۔

{ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ:یہ عیسیٰ مریم کا بیٹاہے۔} گزشتہ آیات میں  حضر ت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا تاکہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ولادت کی اصل حقیقت واضح ہو ،  اب اس آیت ِمبارکہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق جویہودی اورعیسائی عقیدہ رکھتے ہیں  اس کی وضاحت شروع کی گئی تاکہ اس بارے میں  بھی اصل حقیقت واضح ہوکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق ان کے عقیدے کیا ہیں ۔ یہودی تو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّحضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجادوگر ،  ولدُ الزِّنا کہتے تھے اور عیسائی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں   ،  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے بیٹے ہیں  اور  اللہ عَزَّوَجَلَّکے برگزیدہ نبی اور بندے ہیں  جیساکہ گزشتہ آیات میں  بیان کیا گیا کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پیدا ہوتے ہی فرمایا ’’اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ‘‘میں   اللہ کابندہ ہوں  ،  اوریوں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے تمام باطل نظریات کارد کردیا۔

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ کو لائق نہیں  کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاوہ فوراً ہوجاتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ کیلئے لائق نہیں  کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے  ،  وہ پاک ہے ۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہ فرماتا ہے  ،  ’’ہوجا‘‘ تو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔

{مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ: اللہ کیلئے لائق نہیں  کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔} اس آیت مبارکہ میں  عیسائیوں  کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ عَزَّوَجَلَّکے بیٹے ہیں  ،  چنانچہ  اللہ تعالیٰ اولاد سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں  کہ وہ کسی کواپنا بیٹا بنائے اور وہ عیسائیوں  کے لگائے گئے بہتان سے پاک ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تواسے صرف یہ فرماتا ہے  ،  ’’ہوجا‘‘ تو

وہ کام فوراً ہوجاتا ہے ،  اور جو ایسا قادرِ مُطْلَق ہو اسے بیٹے کی کیا حاجت ہے اور اسے کسی کا باپ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۳۶)

 



Total Pages: 235

Go To