Book Name:Sirat ul jinan jild 6

عَلَیْہِ  السَّلَام نے وادی کے نیچے سے پکاراکہ غم نہ کرو ،  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے لیے آپ کے قریب ایک نہر بنا دی ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یا حضرت جبرئیلعَلَیْہِ  السَّلَام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ جاری ہو گیا  ،  کھجور کا درخت سرسبز ہو کرپھل لایا اور وہ پھل پختہ اور رس دار ہو گئے ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس جگہ ایک خشک نہر تھی جسے  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جاری کر دیا اور کھجور کا خشک درخت سرسبز ہو کر پھل دار ہوگیا۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۶۷۱ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۳ / ۲۳۲ ،  ملتقطاً)

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں  گریں  گی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ ،  وہ تم پر عمدہ تازہ کھجوریں  گرائے گا۔

{وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ:اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ۔} حضرت مریم!رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ،  سے کہا گیا کہ آپ جس سوکھے تنے کے نیچے بیٹھی ہیں  اسے اپنی طرف حرکت دیں  تو اس سے آپ پر عمدہ اور تازہ پکی ہوئی کھجوریں  گریں  گی ۔

            اس سے معلوم ہوا کہ حمل کی حالت میں  عورت کے لئے کجھور کھانا فائدہ مند ہے۔ کھجور میں  آئرن بہت ہوتا ہے جو بچے کی صحت و تندرستی میں  بہت معاون ہوتا ہے ،  البتہ اس حالت میں  کھجوریں  اپنی طبعی حالت کو پیشِ نظر رکھ کر ہی کم یا زیادہ کھائی جائیں ۔

حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا پر  اللہ تعالٰی کی عنایت و کرم نوازی:

            اگر بنظر ِغائر دیکھا جائے تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش کے وقت سے ہی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکواپنی قدرتِ کاملہ کے کئی نظارے دکھا کر تسلی دی کہ دیکھوجوذات تیرے لئے خشک نہر سے پانی جاری کرسکتی ہے اور خشک درخت سے پکی ہوئی کھجوریں  ظاہر کرسکتی ہے وہ آئندہ بھی تمہیں  بے یارو مددگار نہیں  چھوڑے گی لہٰذا تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کرامتوں   ، عنایتوں   ، شفقتوں  پر نظر کرو اور غم وپریشانی کا اِظہار مت کرو۔

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًاۚ-فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًاۙ-فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں  نے آج رحمٰن کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں  گی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں  نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں  کسی آدمی سے بات نہیں  کروں  گی۔

{فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا:تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاسے فرمایا گیا کہ آپ کھجوریں  کھائیں  اور پانی پئیں  اور اپنے فرزند حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں  ،  پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں  کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں  دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں  کہ میں  نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں  کسی آدمی سے بات نہیں  کروں  گی۔ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرمائیں  اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں  خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں  کے جواب میں  خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اَولیٰ ہے۔(خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۳ / ۲۳۳ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۶۷۱-۶۷۲ ،  ملتقطاً)

چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہو چکا ہے:

            یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں  بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں  کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے  ،  البتہ ہماری شریعت میں  چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتےہیں  : نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صَومِ وصال (یعنی سحری اور افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے) اور چپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔( مسند امام اعظم ،  باب العین ،  روایتہ عن عدی بن ثابت ،  ص۱۹۲)

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗؕ-قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْــٴًـا فَرِیًّا(۲۷)یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اسے گود میں  لیے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم بیشک تو نے بہت بڑی بات کی۔  اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں  بدکار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر عیسیٰ کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں  تو لوگ کہنے لگے : اے مریم! بیشک تو بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہے۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں  بدکارتھی۔

{فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗؕ:پھر عیسیٰ کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا انہیں  اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں   ،  جب لوگوں  نے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں  بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے  ،  کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں  حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں  یہ بچہ کہاں  سے ہو گیا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۷-۲۸ ،  ۳ / ۲۳۳)

{یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ:اے ہارون کی بہن!} حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کوان کی قوم کے لوگوں  نے ہارون کی بہن کہا ،  اس ہارون سے کون مراد ہے اس کے بارے میں  ایک قول یہ



Total Pages: 235

Go To