Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن وہ انہیں  اور جن (بتوں ) کی  اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں  ان کو جمع فرمائے گا تو( ان بتوں  سے) فرمائے گا: کیا میرے ان بندوں  کو تم نے گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راستے سے بھٹکے تھے؟

{وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ: اور جس دن انہیں  اکٹھا کرے گا۔} یعنی جس دن  اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان کے باطل معبودوں  کو جن کی یہ  اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے ،  جمع فرمائے گا تو ان معبودوں  سے فرمائے گا: کیا میرے بندوں  کو تم نے گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی ہدایت کے راستے سے بھٹکے تھے؟  اللہ تعالیٰ حقیقتِ حال کا جاننے والا ہے اس سے کچھ بھی مخفی نہیں  ،  یہ سوال مشرکین کو ذلیل کرنے کے لئے ہے تاکہ اُن کے معبود انھیں  جھٹلائیں  تو اُن کی حسرت و ذلت اور زیادہ ہو۔ باطل

معبودوں  سے عام معبودمراد ہیں  چاہے وہ ذَوِی الْعُقُول ہوں  یا غیر ذَوِی الْعُقُول ، جبکہ کلبی نے کہا کہ اِن معبودوں  سے بُت مراد ہیں  ،  انہیں   اللہ تعالیٰ بولنے کی قوت دے گا۔( مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۷۹۷)

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَۚ-وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ عرض کریں  گے پاکی ہے تجھ کو ہمیں  سزاوار نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولیٰ بنائیں  لیکن تو نے انہیں  اور ان کے باپ داداؤں  کو برتنے دیا یہاں  تک کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ عرض کریں  گے:(اے اللّٰہ!) تو پاک ہے ،  ہمارے لئے ہر گز جائز نہیں  تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کومددگاربنائیں  لیکن تو نے انہیں  اور ان کے باپ داداؤں  کو فائدہ اُٹھانے دیا یہاں  تک کہ انہوں  نے (تیری) یاد کو بھلا دیا اور یہ لوگ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔

{قَالُوْا: وہ عرض کریں  گے۔} یعنی وہ باطل معبود عرض کریں  گے :اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ،  تو ا س سے پاک ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو ،  خودہمارے لئے ہر گز جائز نہیں  تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کومددگاربنائیں  تو کیا ہم کسی دوسرے کو تیرے غیر کو معبود بنانے کا حکم دے سکتے تھے؟ ہم تیرے بندے ہیں  ، لیکن تو نے انہیں  اور ان کے باپ داداؤں  کو دنیاسے فائدہ اُٹھانے کا موقع دیا اور انہیں  اموال ،  اولاد ،  لمبی عمر ،  صحت و سلامتی عنایت کی یہاں  تک کہ یہ غفلت میں  پڑے اورانہوں  نے تیری یاد کو بھلا دیا اور تیری نعمتوں  کو یاد کرنا اور تیری آیتوں  میں  غورو تَدَبُّر کرنا چھوڑ دیا اور انہوں  نے اپنے بُرے اختیار کی وجہ سے ہدایت کے اسباب کو گمراہی اور سرکشی کا ذریعہ بنا لیا اور یہ لوگ تیری اَزَلی قَضَا میں  ہلاک ہونے والے ہی تھے۔(خازن ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۳ / ۳۶۸-۳۶۹ ،  مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۷۹۷-۷۹۸ ،  روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۶ / ۱۹۷ ،  ملتقطاً)

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَۙ-فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًاۚ-وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اب معبودوں  نے تمہاری بات جھٹلادی تو اب تم نہ عذاب پھیرسکو نہ اپنی مدد کرسکو اور تم میں  جو ظالم ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو بیشک ان (جھوٹے معبودوں ) نے تمہاری بات کو جھٹلادیا تو اب تم نہ عذاب پھیرنے کی طاقت رکھو گے اور نہ اپنی مدد کرسکو گے اور تم میں  جو ظالم ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں  گے۔

{ فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ: پس بیشک انہوں  نے تمہاری بات کو جھٹلادیا۔} جب کفار کے باطل معبود جواب دے لیں  گے تو  اللہ تعالیٰ مشرکوں  سے فرمائے گا:اے مشرکو! تم نے اپنے معبودوں  کو خداکہا اور انہوں  نے تمہیں  جھوٹا کر دیا اب یہ بت نہ تمہاری مدد کر سکیں  گے ،  نہ ہم کریں  گے اورنہ تم ایک دوسرے کی مدد کر سکو گے اور تم میں  جو ظالم یعنی کافر اور کافر گر ہے ہم اسے جہنم کا بڑا عذاب چکھائیں  گے۔( روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۶ / ۱۹۸ ،  ملخصاً)

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِؕ-وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةًؕ-اَتَصْبِرُوْنَۚ-وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں  میں  چلتے اور ہم نے تم میں  ایک کو دوسرے کی جانچ کیا ہے اور اے لوگوکیا تم صبر کرو گے اور اے محبوب تمہارا رب دیکھتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب یقیناکھانا کھاتے تھے اور بازاروں  میں  چلتے تھے اور ہم نے تمہیں  ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنایا اور( اے لوگو!)کیا تم صبر کرو گے؟ اور( اے محبوب! )تمہارا رب خوب دیکھنے وا لاہے۔

{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے۔} اس آیت میں  کفار کے اس طعن کا جواب دیا گیاہے جو اُنہوں  نے سید المرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کیا تھا کہ وہ بازاروں  میں  چلتے ہیں  اور کھانا کھاتے ہیں  ،  یہاں  بتایا گیا کہ یہ اُمور نبوت کے مُنافی نہیں  بلکہ یہ تمام انبیاء عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مستقل عادت تھی لہٰذا یہ اعتراض محض جہالت اور عِناد پر مبنی ہے۔

{وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً: اور ہم نے تمہیں  ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنایا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  تین قول ہیں :

(1)… امیر لوگ جب اسلام لانے کاارادہ کرتے تھے تو وہ غریب صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو دیکھ کر یہ خیال کرتے کہ یہ ہم سے پہلے اسلام لاچکے اس لئے انہیں  ہم پر ایک فضیلت رہے گی۔اس خیال سے وہ اسلام قبول کرنے سے باز رہتے اور امیروں  کے لئے غریب صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ آزمائش بن جاتے۔

(2)… یہ آیت ابوجہل ،  ولید بن عقبہ ،  عاص بن وائل سہمی اور نضر بن حارث کے بارے میں  نازل ہوئی ،  ان لوگوں  نے حضرت ابو ذر ،  حضرت عبد اللہ بن مسعود ،  حضرت عمار بن یاسر ،  حضرت بلال ،  حضرت صہیب اور حضرت عامر بن فُہَیرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو دیکھا کہ پہلے سے اسلام لائے ہیں  تو غرور سے کہا کہ ہم بھی اسلام لے آئیں  تو اُنہیں  جیسے ہوجائیں  گے توہم میں  اور ان میں  فرق کیا رہ جائے گا۔

 



Total Pages: 235

Go To