Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہے ،  اے عائشہ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا ،  دنیا محمد (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اور اِن کی آل کے لیے مناسب نہیں ۔‘‘( احیاء علوم الدین ،  کتاب الفقر والزہد ،  الشطر الثانی ،  فضیلۃ الزہد ،  ۴ / ۲۷۳)

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ(۱۱) اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا(۱۲)وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ(۱۳) لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں  اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ۔ جب وہ انہیں  دُور جگہ سے دیکھے گی تو سُنیں  گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا۔اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں  ڈالے جائیں  گے زنجیروں  میں  جکڑے ہوئے تو وہاں  موت مانگیں  گے۔ فرمایا جائے گا آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں  مانگو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ انہوں  نے قیامت کو جھٹلایا ہے اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں  کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ آگ انہیں  دُور کی جگہ سے دیکھے گی تو کافر اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سُنیں  گے۔ اور جب انہیں  اس آگ کی کسی تنگ جگہ میں  زنجیروں  میں  جکڑکر ڈالا جائے گا تو وہاں  موت مانگیں  گے۔(فرمایا جائے گا) آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں  مانگو۔

{بَلْ: بلکہ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ان کافروں  نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  گستاخیاں  ہی نہیں  کیں  بلکہ انہوں  نے قیامت کو بھی جھٹلایا ہے اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں  کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔( مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۷۹۶ ،  ملخصاً)

{اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ: جب وہ آگ انہیں  دُور کی جگہ سے دیکھے گی۔} ارشاد فرمایا کہ جب وہ بھڑکتی ہوئی آگ انہیں  دُور کی جگہ سے دیکھے گی تو اس قدر جوش مارے گی کہ کافر اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سُنیں  گے۔ دُور کی جگہ سے مراد ایک برس کی راہ ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک سو برس کی راہ مراد ہے اور آگ کا دیکھنا کچھ بعید نہیں  ،   اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو حیات ،  عقل اور دیکھنے کی صلاحیت عطا فرمادے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ا س سے جہنم میں  مامور فرشتوں  کا دیکھنا مراد ہے۔( خازن ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۳ / ۳۶۷)

{وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا: اور جب انہیں  ڈالا جائے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان کفار کو اس آگ کی کسی تنگ جگہ میں جوانتہائی کرب و بے چینی پیدا کرنے والی ہو ،  زنجیروں  میں  جکڑکر اس طرح ڈالا جائے گا کہ اُن کے ہاتھ گردنوں  سے ملا کر باندھ دیئے گئے ہوں  یا اس طرح کہ ہرہر کافر اپنے اپنے شیطان کے ساتھ زنجیروں  میں  جکڑا ہوا ہو ،  تو وہ وہاں  موت مانگیں  گے اور ’’وَاثَبُوْرَاہْ ،  وَاثَبُوْرَاہْ‘‘ یعنی ہائے! اے موت آجا ،  کا شور مچائیں  گے اور اس وقت ان سے فرمایا جائے گا:آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں  مانگو کیونکہ تم طرح طرح کے عذابوں  میں  مبتلا کئے جاؤ گے۔(مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ص۷۹۶-۷۹۷)

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے پہلے جس شخص کو آتشی لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے اور اس کی ذُرِّیَّت اس کے پیچھے ہوگی اور یہ سب موت موت پکارتے ہوں  گے۔‘‘ ان سے کہا جائے گا: ’’آج ایک موت نہ مانگو بلکہ بہت سی موتیں  مانگو۔‘‘( مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب ذکر النار ،  ما ذکر فیما اعدّ لاہل النار وشدّتہ ،  ۸ / ۹۹ ،  الحدیث: ۵۲)

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا یہ بَھلا یا وہ ہمیشگی کے باغ جس کا وعدہ ڈر والوں  کو ہے وہ ان کا صلہ اور انجام ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا یہ (عذابِ جہنم) بہتر ہے یا وہ ہمیشہ رہنے کا باغ جس کاڈرنے والوں  کو وعدہ دیا گیا ہے ،  وہ باغ ان کے لئے بدلہ اور لوٹنے کی جگہ ہے۔

{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان سے فرمائیں  کہ کیا جہنم کا عذاب اور ا س کی ہولناکیاں  جن کا ذکر کیا گیا ، یہ بہتر ہیں  یا وہ ہمیشہ رہنے کا باغ جس کا  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرنے والوں  کو وعدہ دیا گیا ہے ،  وہ باغ  اللہ تعالیٰ کے علم میں  اور اس کے کرم کے مطابق ان کے لئے اعمال کا بدلہ اور وہ جگہ ہے جس کی طرف یہ لوٹ کر جائیں  گے۔( جلالین ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۳۰۳ ،  روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۶ / ۱۹۵-۱۹۶ ،  ملتقطاً)

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَؕ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے لیے وہاں  من مانی مرادیں  ہیں  جن میں  ہمیشہ رہیں  گے تمہارے رب کے ذمہ وعدہ ہے مانگا ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنتیوں  کیلئے جنت میں  ہر وہ چیز ہوگی جو وہ چاہیں  گے ،  وہاں  ہمیشہ رہیں  گے ،  یہ تمہارے رب کے ذمہ کرم پر مانگا ہوا وعدہ ہے۔

{لَهُمْ: ان کے لیے۔} یعنی جنتیوں  کے لئے جنت میں  ان کے مرتبے کے مطابق ہر وہ نعمت اور لذت ہو گی جو وہ چاہیں گے اور وہ جنت میں  ہمیشہ رہیں  گے۔( روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۶ / ۱۹۶)

{كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا: یہ تمہارے رب کے ذمہ کرم پر مانگا ہوا وعدہ ہے۔} مانگے ہوئے وعدے سے مراد یہ ہے کہ وہ وعدہ مانگنے کے لائق ہے یا اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو مؤمنین نے دنیا میں  یہ عرض کرکے مانگا: ’’ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً‘‘ یعنی اے ہمارے رب!ہمیں  دنیا میں  بھلائی عطا فرما اور ہمیں  آخرت میں  (بھی) بھلائی عطا فرما۔ یا یہ عرض کر کے مانگا: ’’رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّـنَا عَلٰی رُسُلِکَ‘‘ یعنی اے ہمارے رب! اور ہمیں  وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں  کے ذریعے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔( خازن ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۳ / ۳۶۸)

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن اکٹھا کرے گا انہیں  اور جن کو  اللہ کے سوا پوجتے ہیں  پھر ان معبودو ں  سے فرمائے گا کیا تم نے گمراہ کردیئے یہ میرے بندے یا یہ خود ہی راہ بھولے۔

 



Total Pages: 235

Go To