Book Name:Sirat ul jinan jild 6

             اور حضورِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خود فرماتے ہیں : ’’اُعْطِیْتُ  مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ‘‘ مجھے زمینی خزانوں  کی کنجیاں  عطا فرمادی گئیں ۔( بخاری ،  کتاب الجناءز ،  باب الصلاۃ علی الشہید ،  ۱ / ۴۵۲ ،  الحدیث: ۱۳۴۴)

            اور فرماتے ہیں  کہ’’اگر میں  چاہوں  تو میر ے ساتھ سونے کے پہاڑ چلا کریں ۔‘‘( شرح السنہ ،  کتاب الفضاءل ،  باب تواضعہ صلی  اللہ علیہ وسلم ،  ۷ / ۴۰ ،  الحدیث: ۳۵۷۷)

            اورفرماتے ہیں  کہ میں  نے (دورانِ نمازقبلہ کی دیوار میں )      جنّت دیکھی اوراس سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر لے لیتا تو جب تک دنیا باقی رہتی تم اس سے کھاتے ۔( بخاری ،  کتاب الاذان ،  باب رفع البصر الی الامام فی الصلاۃ ،  ۱ / ۲۶۵ ،  الحدیث: ۷۴۸)

            مگر چونکہ کفار کے سامنے ان چیزوں  کا ظہو ر نہ تھا اس لئے کفار ایسی باتیں  کہا کرتے تھے۔

{وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ: اور ظالموں  نے کہا۔} کفار کے بارے میں  مزید ارشاد فرمایا کہ انہوں نے مسلمانوں  سے کہا: تم ایک ایسے مرد کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو ہے اور مَعَاذَ اللہ ان کی عقل ٹھکانے پر نہیں  ہے۔( جلالین ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ص۳۰۳)

            اس سے معلوم ہوا کہ کفار کو خود اپنی بات پر قرار نہ تھاکبھی حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جادوگر کہتے تھے اور کبھی کہتے کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ کبھی شاعر کہتے ،  کبھی کاہن ،  وہ خود اپنے قول سے جھوٹے تھے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب دیکھو کیسی کہاوتیں  تمہارے لیے بنارہے ہیں  تو گمراہ ہوئے کہ اب کوئی راہ نہیں  پاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب ! دیکھو تمہارے لئے کیسی مثالیں  بیان کررہے ہیں  تو یہ گمراہ ہوگئے ہیں  کہ اب انہیں  کسی راہ کی طاقت نہیں ۔

{اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ: دیکھو تمہارے لئے کیسی مثالیں  بیان کررہے ہیں ۔} اس سے اوپر والی آیات میں  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں بیان کی گئی کفار کی بیہودہ باتوں  کے بارے میں   اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ دیکھیں  کہ یہ کفار آپ کے بارے میں  کیسی عجیب و غریب اور عقل سے خارج باتیں  کر رہے ہیں  اور یہ باتیں  عجیب ہونے کی وجہ سے کہاوتوں  کی طرح ہیں  اور انہوں  نے آپ کے لئے کیسے احوال گھڑ لئے ہیں  جن کا واقع ہونا ہی بعید ہے۔ یہ لوگ آپ کی شان سے جاہل اور آپ کے جمال سے غافل ہیں  کہ انہوں  نے جادو کئے ہوئے اور محتاج کے ساتھ آپ کو تشبیہ دے دی حالانکہ جادو کیا ہوا اور محتاج شخص کبھی بھی رسول ہونے کی صلاحیت نہیں  رکھتا ،  اسی وجہ سے یہ لوگ واضح طور پر حق سے گمراہ ہو گئے اور اب انہیں  ہدایت کی کسی راہ کی طاقت نہیں  اور اپنی گمراہی سے نکلنے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ۔( روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۶ / ۱۹۲ ،  ملخصاً)

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ-وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تمہارے لیے بہت بہتر اس سے کردے جنتیں  جن کے نیچے نہریں  بہیں  اور کردے تمہارے لیے اُونچے اُونچے محل۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ (اللّٰہ) بڑی برکت والا ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لیے اس سے بہتر بنا دے ،  وہ باغات جن کے نیچے نہریں  جاری ہوں اور تمہارے لئے بلندو بالا محلات بنادے۔

{اِنْ شَآءَ: اگر چاہے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ ا س بات پر قادِر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  تمہارے لیے کافروں  کے ان بیان کردہ خزانوں  اور باغات سے بہتر چیزیں  عطا فرما دے اور دنیا میں  ایسے باغات بنادے جن کے نیچے نہریں  جاری ہوں اور تمہارے لئے بلندو بالا محلات بنادے لیکن  اللہ تعالیٰ چونکہ اپنی مَشِیَّت اور بندوں  کی مَصلحت کے مطابق ان کے معاملات کی تدبیر فرماتا ہے اس لئے ا س کے کام پر کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں ۔( جلالین ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۳۰۳ ،  تفسیرکبیر ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۸ / ۴۳۵ ،  ملتقطاً)

حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دنیا کے مال و دولت پر فقر کو ترجیح دی :

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقام اتنا بلند ہے کہ  اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کودنیا کی بڑی سے بڑی نعمتیں  اور اعلیٰ سے اعلیٰ آسائشیں  عطا فرما دے لیکن  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے دنیا کی زیب و زینت اور اس کی آسائشوں  کو پسند نہیں  فرمایا اور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی دنیا میں  فقر کو ترجیح دی ،  اسی سلسلے میں 2احادیث ملاحظہ ہوں  ،

(1)…حضرت اُمِّ سلیم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا فرماتی ہیں  :میں  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک زوجہ محترمہ کے حجرے میں  تھی اور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی اپنی زوجہ محترمہ کے پاس تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے آپ سے حاجت مند ہونے کی شکایت کی۔ آپ نے اس سے ارشاد فرمایا: ’’تم صبر کرو ، خدا کی قسم!محمد (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی آل کے پاس سات دن سے کچھ نہیں  ہے اور (ان کے گھروں  میں ) تین دن سے ہنڈیا کے نیچے آگ نہیں  جلائی گئی ،   اللہ کی قسم! اگر میں   اللہ تعالیٰ سے تہامہ کے تمام پہاڑوں  کو سونا بنا دینے کا سوال کروں تو وہ ان سب پہاڑوں  کو ضرور سونا بنا دے گا۔‘‘( مجمع الزواءد ،  کتاب الزہد ،  باب فی عیش رسول  اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم والسلف ،  ۱۰ / ۵۸۳ ،  الحدیث: ۱۸۲۸۶)

(2)…اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں : میں  نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا آپ  اللہ تعالیٰ سے کھانا نہیں  مانگتے کہ وہ آپ کو عطا کرے؟ آپ فرماتی ہیں  کہ میں  رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بھوک کو دیکھ کر روپڑی تھی۔حضورِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا ،  اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں  میری جان ہے ،  اگر میں   اللہ تعالیٰ سے سوال کروں  کہ وہ دنیا کے پہاڑوں  کو سونے کا بناکر میرے ساتھ چلائے تو میں  زمین میں  جہاں  جاؤں   اللہ تعالیٰ وہیں  پہاڑوں  کو سونا بنا کر میرے ساتھ چلادے گا لیکن میں  نے دنیا کی بھوک کو اس کے سیر ہونے پر ،  دنیا کے فقر کو اس کی مالداری پر اور اس کے غم کو اس کی خوشی پر ترجیح دی



Total Pages: 235

Go To