Book Name:Sirat ul jinan jild 6

نہیں ۔( روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۶ / ۱۸۹-۱۹۰ ،  خازن ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۳ / ۳۶۶ ،  ملتقطاً)

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے اگلوں  کی کہانیاں  ہیں  جو انہوں  نے لکھ لی ہیں  تو وہ ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورکافروں  نے کہا: (یہ قرآن) پہلے لوگوں  کی کہانیاں  ہیں  جو اس (نبی) نے کسی سے لکھوا لی ہیں  تو یہی ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں ۔

{وَ قَالُوْا: اورکافروں  نے کہا۔} یعنی وہی مشرکین قرآنِ کریم کے بارے میں  یہ بھی کہتے ہیں  کہ یہ قرآن  اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں  بلکہ رستم و اسفند یار وغیرہ کے قصوں  کی طرح پہلے لوگوں  کی کہانیاں  ہیں  جو رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی سے لکھوا لی ہیں  ،  کیونکہ کسی سے پڑھے ہوئے نہ ہونے کی وجہ سے یہ خود لکھ نہیں  سکتے ،  اس لئے دوسروں  سے لکھوا لی ہیں  ، پھریہی کہانیاں  ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں  تاکہ سُن سُن کر انہیں  یاد ہو جائیں  اور جب آپ کو یاد ہو جاتی ہیں  تو وہی کہانیاں ہمیں  سُنا دیتے ہیں  اور کہتے ہیں  کہ یہ  اللہ تعالیٰ کی وحی ہے۔( خازن ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۳ / ۳۶۶ ،  روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۶ / ۱۹۰ ،  ملتقطاً)

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اسے تو اس نے اُتارا ہے جو آسمانوں  اور زمین کی ہر چھپی بات جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ :اسے تو اُس نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں  اور زمین کی ہر پوشیدہ بات جانتا ہے ،  بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{قُلْ: تم فرماؤ۔}  اللہ تعالیٰ نے کفار کا رَد کرتے ہوئے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان کفار سے فرمادیں  کہ اس قرآن کو تو اس  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں  اور زمین کی ہر بات جانتا ہے ،  یعنی قرآنِ کریم غیبی علوم پر مشتمل ہے اوریہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ قرآنِ پاک غیبوں  کو جاننے والے رب تعالیٰ کی طرف سے ہے۔( مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ص۷۹۵)

{اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا: بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔} یعنی اے کافرو!تم نے قرآنِ مجید کے بارے میں  جو بات کہی ا س کی وجہ سے تم  اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہو گئے اور  اللہ تعالیٰ تمہیں  عذاب دینے پر کامل قدرت بھی رکھتا ہے لیکن اس نے تم پر مہربانی کرتے ہوئے فوری عذاب نازل نہیں  فرمایا بلکہ تمہیں  مہلت دی تاکہ تم اپنی بات سے رجوع اور  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  توبہ کر سکو ، اگر تم نے ایسا کر لیا تو وہ تمہیں  بخشنے والا مہربان ہے۔( روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۶ / ۱۹۰ ،  ملخصاً)

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِؕ-لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں  میں  چلتا ہے کیوں  نہ اُتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سُناتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافروں  نے کہا: اس رسول کو کیا ہوا؟ کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں  میں  بھی چلتا پھرتا ہے ، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں  نہ اُتاردیا گیا جو اس کے ساتھ (لوگوں  کو) ڈرانے والا ہوتا؟

{وَ قَالُوْا: اور کافروں  نے کہا۔} اس آیت سے کفار کی جانب سے تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر ہونے والے اِعتراضات کوذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ قریش نے کعبہ شریف کے نزدیک جمع ہو کر یہ کہا :اس رسول کو کیا ہوا کہ یہ ہماری طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور ہماری طرح رزق کی تلاش میں  بازاروں  میں  بھی چلتاپھرتا ہے۔ اس سے ان کافروں  کی مراد یہ تھی کہ اگر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نبی ہوتے تو نہ کھاتے ،  نہ بازاروں  میں  چلتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو ان کی طرف اِن کی تائید کیلئے کوئی فرشتہ کیوں  نہ اُتاردیا گیا جو ان کے ساتھ ہوتا اور لوگوں  کوان کی اطاعت کا کہتا ہے اور نافرمانی سے ڈراتا نیز اِن کی تصدیق کرتا اور ان کی نبوت کی گواہی دیتا۔( صاوی  ،  الفرقان  ،  تحت الآیۃ : ۷  ،  ۴  /  ۱۴۲۵ ،  روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۶ / ۱۹۱ ،  مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ص۷۹۶ ،  ملتقطاً)

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَاؕ-وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: یا غیب سے انہیں  کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں  سے کھاتے اور ظالم بولے تم تو پیروی نہیں  کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا اس کی طرف کوئی (غیبی) خزانہ ڈال دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس میں  سے یہ کھاتا؟ اور ظالموں  نے کہا: تم تو پیروی نہیں  کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا۔

{اَوْ یُلْقٰى: یا ڈال دیا جاتا۔} اس آیت میں  رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  کفارِ قریش کی مزید بیہودہ باتیں  بیان کی گئیں  کہ انہوں  نے کہا : ان کی طرف آسمان سے کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا اور یہ معاش کے حصول سے بے نیاز ہو جاتے ،  اور اگر انہیں  کوئی خزانہ نہیں  ملنا تھا تو کم از کم ان کا کوئی باغ تو ہوتا جس میں  سے یہ مالداروں  کی طرح کھاتے۔( روح البیان ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۶ / ۱۹۲)

 اللہ تعالٰی کی عطا سے غیبی خزانے حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قبضہ میں  ہیں :

            یاد رہے کہ ان سب باتوں  سے کفارکا منشا یہ تھا کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کھانے

پینے سے بے نیاز کیوں  نہ کردیا ،  یا تو انہیں  کھانا کھانے کی حاجت ہی نہ ہوتی ، اگر تھی تو غیبی خزانے ان پر آجاتے جس سے انہیں  کمانے کی ضرورت نہ ہوتی ،  یہ بھی انہوں  نے ظاہر کے لحاظ سے کہہ دیا ،  ورنہ  اللہ تعالیٰ کی عطا سے حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قبضہ میں  غیبی خزانے تھے اور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جنتی باغوں  پر قابض بھی تھے ،  چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ‘‘ ہم نے آپ کو کوثر بخش دیا۔( کوثر)

 



Total Pages: 235

Go To