Book Name:Sirat ul jinan jild 6

خوشی منانے کا حکم دیا ہے اور چونکہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بڑی  اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت نہیں  اور حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی  اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت ہیں  اس لئے جس دن  اللہ تعالیٰ نے ہمیں  اپنا حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعطا کیا اس دن ہم آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا میلاد مناتے  ،  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عظمت و شان کے چرچے کرتے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دنیا میں  تشریف آوری کے دن خوشیاں  مناتے ہیں ۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَۘ-اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اور کتاب میں  مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں  سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کتاب میں  مریم کو یاد کرو جب وہ اپنے گھر والوں  سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی۔

{وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ:اور کتاب میں  مریم کو یاد کرو۔} اس سے پہلی آیات میں  حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان ہوا کہ انہیں  بڑھاپے کی حالت میں  اور زوجہ کے بانجھ ہونے کے باجود  اللہ تعالیٰ نے ایک نیک اور صالح بیٹا عطا فرمایا اور یہ واقعہ  اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے ،  اب یہاں  سے  اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والا ایک اور انتہائی حیرت انگیز واقعہ بیان کیا جا رہا ہے ،  چنانچہ  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ قرآنِ کریم میں  حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکا واقعہ پڑھ کر ان لوگوں  کو سنائیے تاکہ انہیں  ان کا حال معلوم ہو  ،  جب وہ اپنے گھر والوں  سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی اوراپنے مکان میں  یا بیت المقدس کی شرقی جانب میں  لوگوں  سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خَلْوَت میں  بیٹھیں ۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۶۶۹-۶۷۰)

حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی فضیلت:

            مریم کے معنی ہیں  عابدہ ،  خادمہ۔ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہابچپن سے بیت ُالمقدس کی خادمہ تھیں  اور وہاں  رہ کر  اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتی تھیں  اور حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکے فضائل میں  سے ہے کہ قرآنِ کریم میں  عورتوں  میں  سے صرف آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کا نامِ مبارک ذکر کیا گیا ہے ،  نیز آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی شان کے بارے میں سورۂ اٰلِ عمران میں  فرمایا گیا

’’وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘(اٰل عمران:۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (یاد کرو) جب فرشتوں  نے کہا ،  اے مریم ،  بیشک  اللہ نے تمہیں  چن لیاہے اور تمہیں  خوب پاکیزہ کردیا ہے اور تمہیں  سارے جہان کی عورتوں  پر منتخب کرلیا ہے۔

            نوٹ: حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی ولادت اور پرورش کے واقعات سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 35 تا 37 میں  بیان ہوئے اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکی عبادت و ریاضت کاذکر آیت نمبر 43میں  کیا گیا ہے۔

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا ﱏ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان سے ادھر ایک پردہ کرلیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی  بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں  ظاہر ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان (لوگوں ) سے ادھر ایک پردہ کرلیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (جبرئیل) بھیجا تووہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت بن گیا۔

{فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا:تو ان سے ادھر ایک پردہ کرلیا۔} جب حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاخَلْوَت میں  تشریف لے گئیں  تو آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے اپنے اور گھر والوں  کے درمیان پردہ کر لیا ،  اس وقت  اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکی طرف حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامکو بھیجا تو آپ عَلَیْہِ  السَّلَامحضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے سامنے نوجوان ،  بے ریش ،  روشن چہرے اور پیچ دار بالوں  والے آدمی کی صورت میں  ظاہر ہوئے۔حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام کے انسانی شکل میں  آنے کی حکمت یہ تھی کہ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ان کے کلام سے مانوس ہو جائیں  اوران سے خوف نہ کھائیں  کیونکہ اگر حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام اپنی ملکوتی شکل میں  تشریف لاتے تو حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا خوفزدہ ہو جاتیں  اور آپ عَلَیْہِ  السَّلَامکا کلام سننے پر قادر نہ ہوتیں ۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۶۷۰ ،  ملتقطاً)

نوری وجود بشری صورت میں  آ سکتا ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ نور ی وجود بشری صورت میں  آسکتا ہے۔ حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام فرشتہ ہیں   ، نور ہیں  اور حضرت مریم کے پاس بشری شکل میں  ظاہر ہوئے ،  اس وقت اس بشری شکل کی وجہ سے (حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام) نورانیت سے علیحدہ نہیں  ہو گئے ۔صحابہ کرام نے حضرت جبریل کو بشری شکل میں  دیکھا ،  سیاہ زلفیں  ،  سفید لباس  ،  آنکھ ،  ناک ،  کان وغیرہ سب موجود ہیں  ،  اس کے باوجود بھی وہ نور تھے  ،  اسی طرح حضرت ابراہیم ،  حضرت لوط ،  حضرت داؤدعَلَیْہِمُ السَّلَام کے خدمات میں  فرشتے شکلِ بشری میں  گئے۔ رب فرماتا ہے:

’’هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ(۲۴) اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌۚ-قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ‘‘(ذاریات:۲۴ ، ۲۵)

(ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے محبوب! کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں  کی خبر آئی۔جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام ، (حضرت ابراہیم نے)فرمایا ،  ’’سلام ‘‘(تم)اجنبی لوگ ہو۔)

 (اور فرماتا ہے)

’’وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِۘ-اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ(۲۱) اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْۚ-خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ‘‘(ص:۲۱ ، ۲۲)

(ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تمہارے پاس ان دعویداروں  کی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر مسجد میں  آئے ۔جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا۔ انہوں  نے عرض کی: ڈرئیے نہیں  ہم دو فریق ہیں   ،  ہم میں  سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔)

 



Total Pages: 235

Go To