Book Name:Sirat ul jinan jild 6

الگ الگ کھاتے ہو گے۔‘‘ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی:جی ہاں !رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم مل بیٹھ کر کھانا کھایا کرو اور کھاتے وقت بِسْمِ  اللہ پڑھ لیا کرو تمہارے لئے کھانے میں  برکت دی جائے گی۔‘‘( ابو داؤد ،  کتاب الاطعمۃ ،  باب فی الاجتماع علی الطعام ،  ۳ / ۴۸۶ ،  الحدیث: ۳۷۶۴)

(3)…حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند وہ کھانا ہے جسے کھانے والے زیادہ ہوں ۔‘‘(شعب الایمان ، الثامن والستون من شعب الایمان۔۔۔الخ ،  فصل فی التکلّف للضیف عند القدرۃ علیہ ،  ۷ / ۹۸ ،  الحدیث: ۹۶۲۰)

{فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا: پھر جب گھروں  میں  داخل ہو۔} ارشاد فرمایا کہ پھر جب گھروں  میں  داخل ہو تو اپنے لوگوں  کو سلام کرو ،  یہ ملتے وقت کی اچھی دعا ہے اور  اللہ تعالیٰ کے پاس سے مبارک پاکیزہ کلمہ ہے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ۳ / ۳۶۴)

گھر میں  داخل ہوتے وقت سلام کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل:

            یہاں  گھر میں  داخل ہوتے وقت اہلِ خانہ کو سلام کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل ملاحظہ ہوں :

(1)… جب آدمی اپنے گھر میں  داخل ہو تو اپنے اہلِ خانہ کو سلام کرے اور ان لوگوں  کو جو مکان میں  ہوں  بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں ۔

(2)… اگر خالی مکان میں  داخل ہو جہاں  کوئی نہیں  ہے تو کہے: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ  اللہ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ  اللہ الصَّالِحِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ  اللہ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا کہ مکان سے یہاں  مسجدیں  مُراد ہیں ۔ امام نخعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  کہ جب مسجد میں  کوئی نہ ہو تو کہے ’’ اَلسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ  اللہ صَلَّی  اللہ  عَلَیْہِ  وَسَلَّمْ۔( الشفا ،  القسم الثانی ،  الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ ،  فصل فی الموطن التی یستحبّ فیہا الصلاۃ والسلام۔۔۔ الخ ،  ص۶۷ ،  الجزء الثانی)

            ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے شفا شریف کی شرح میں  لکھا کہ خالی مکان میں  سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر سلام عرض کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کے گھروں  میں  روحِ اقدس جلوہ فرما ہوتی ہے۔( شرح الشفا ،  القسم الثانی ،  الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ والتسلیم ،  فصل فی الموطن التی یستحبّ فیہا الصلاۃ والسلام ،  ۲ / ۱۱۸)

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: ایمان والے تو وہی ہیں  جو  اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں  حاضر ہوئے ہوں  جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں  تو نہ جائیں  جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں  وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں  وہی ہیں  جو  اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں  پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں  اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں  جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے  اللہ سے معافی مانگو بیشک  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایمان والے تو وہی ہیں  جو  اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں  اور جب کسی ایسے کام پر رسول کے ساتھ ہوں  جو انہیں  (رسولُ  اللہ کی بارگاہ میں ) جمع کرنے والا ہو تواس وقت تک نہ جائیں  جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں ۔ بیشک وہ جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں  وہی ہیں  جو  اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں  پھر (اے محبوب!) جب وہ اپنے کسی کام کے لیے آپ سے (جانے کی) اجازت مانگیں  تو ان میں  جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے  اللہ سے معافی مانگو ،  بیشک  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ: ایمان والے تو وہی ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت سے مقصود مخلص مؤمنوں  کی تعریف اور منافقوں  کی مذمت بیان کرنا ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ایمان والے تو وہی ہیں  جو  اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں  اور جب کسی ایسے کام پر رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ہوں  جو انہیں  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  جمع کرنے والا ہو جیسے کہ جہاد ،  جنگی تدبیر ،  جمعہ ،  عیدین ،  مشورہ اور ہر اجتماع جو  اللہ تعالیٰ کے لئے ہو ،  تواس وقت تک نہ جائیں  جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں  یا وہ خود انہیں  اجازت نہ دے دیں ۔ بیشک وہ جو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اجازت مانگتے ہیں  وہی ہیں  جو  اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لاتے ہیں  ،  ان کا اجازت چاہنا فرمانبرداری کا نشان اور صحتِ ایمان کی دلیل ہے۔ پھر اے محبوب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  جب وہ اپنے کسی کام کے لیے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جانے کی اجازت مانگیں  تو ان میں  جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے  اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو ،  بیشک  اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔( صاوی ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۴ / ۱۴۲۰-۱۴۲۱ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ص۷۹۲ ،  ملتقطاً)

آیت ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‘‘ سے معلوم ہونے والے اہم اُمور:

             اس آیت سے چند باتیں  معلوم ہوئیں ۔

(1) …حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مجلس پاک کا ادب یہ ہے کہ وہاں  سے اجازت کے بغیر نہ جائیں  ،  اسی لئے اب بھی روضۂ مُطَہَّر ہ پر حاضری دینے والے رخصت ہوتے وقت اَلْوِداعی سلام عرض کرتے ہوئے اجازت طلب کرتے ہیں ۔

(2)…اس آیت سے دربارِ رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب بھی معلوم ہوا کہ آئیں  بھی اجازت لے کر اور

جائیں  بھی اِذن حاصل کرکے ،  جیسا کہ غلاموں  کا مولیٰ کے دربار میں  طریقہ ہوتا ہے۔

(3)…سلطانِ کونین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار کے آداب خود رب تعالیٰ سکھاتا ہے بلکہ اسی نے ادب کے قوانین بنائے۔

(4)…سرکارِ دو عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اجازت دینے یا نہ دینے میں  مختار ہیں ۔

 



Total Pages: 235

Go To