Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نمازقائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو اس امید پر کہ تم پر رحم کیا جائے۔ ہرگز کافروں  کو یہ خیال نہ کرو کہ وہ ہمیں  زمین میں  عاجز کرنے والے ہیں  اور ان کا ٹھکانہ آ گ ہے اور بیشک وہ کیا ہی بُری لوٹنے کی جگہ ہے۔

{وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ: اور نمازقائم رکھو۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو!نماز کو اس کے ارکان و شرائط کے ساتھ قائم رکھو ،  اسے ضائع نہ کرو اور جو زکوٰۃ  اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض فرمائی ہے اسے ادا کرو اور احکامات وممنوعات میں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حبیب رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور  اللہ تعالیٰ تمہیں  اپنے عذاب سے نجات دے۔(تفسیرطبری ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۹ / ۳۴۴)

{لَا تَحْسَبَنَّ: ہرگز گمان نہ کرو۔} یعنی ان کفار نا بکار کا زمین میں  امن سے رہنا اس وجہ سے نہیں  کہ وہ رب کے قابو سے باہر ہیں  بلکہ یہ رب تعالیٰ کی مہلت ہے لہٰذا ان کے بارے میں  یہ خیال نہ کرو کہ یہ ہماری پکڑ سے بھاگ کر زمین میں  ہمیں  عاجز کر دیں  گے ،  ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے اور بیشک وہ کیا ہی بُری لوٹنے کی جگہ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍؕ-مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ۫ؕ-ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْؕ-لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّؕ-طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو چاہیے کہ تم سے اِذن لیں  تمہارے ہاتھ کے مال غلام اور وہ جو تم میں  ابھی جوانی کو نہ پہنچے تین وقت نمازِ صبح سے پہلے اور جب تم اپنے کپڑے اُتار رکھتے ہو دوپہر کو اور نمازِ عشاء کے بعد یہ تین وقت تمہاری شرم کے ہیں  ان تین کے بعد کچھ گناہ نہیں  تم پر نہ ان پر آمدورفت رکھتے ہیں  تمہارے یہاں  ایک دوسرے کے پاس  اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لیے آیتیں  ،  اور  اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!تمہارے غلام اور تم میں  سے جو بالغ عمر کو نہیں  پہنچے ،  انہیں  چاہیے کہ تین اوقات میں  ،  فجر کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اُتار رکھتے ہو اور نمازِ عشاء کے بعد (گھر میں  داخلے سے پہلے) تم سے اجازت لیں۔ یہ تین اوقات تمہاری شرم کے ہیں ۔ ان تین اوقات کے بعد تم پر اور ان پر کچھ گناہ نہیں ۔ وہ تمہارے ہاں  ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہیں ۔  اللہ تمہارے لئے یونہی آیات بیان کرتا ہے اور  اللہ علم والا ،  حکمت وا لا ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!۔} شانِ نزول:حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک انصاری غلام مِدْلَج بن عمرو کو دوپہر کے وقت حضرت عمرفاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو بلانے کے لئے بھیجا ،  وہ غلام اجازت لئے بغیر ویسے ہی حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے مکان میں  چلا گیا اور اس وقت حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ بے تکلف اپنے دولت سرائے میں  تشریف فرما تھے۔ غلام کے اچانک چلے آنے سے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے دِل میں  خیال پیدا ہوا کہ کاش غلاموں  کو اجازت لے کر مکانوں میں  داخل ہونے کا حکم ہوتا۔ اس پر یہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی۔اس آیت میں  غلاموں  ،  باندیوں  اور بلوغت کے قریب لڑکے ،  لڑکیوں  کو تین اوقات میں  گھر میں  داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم دیا گیا۔ وہ تین اوقات یہ ہیں ۔

(1)…فجر کی نماز سے پہلے۔ کیونکہ یہ خواب گاہوں  سے اُٹھنے اورشب خوابی کا لباس اُتار کر بیداری کے کپڑے پہننےکا وقت ہے۔

(2)… دوپہر کے وقت ،  جب لوگ قیلولہ کرنے کے لئے اپنے کپڑے اُتار کر رکھ دیتے اور تہ بند باندھ لیتے ہیں ۔

(3)… نماز عشاء کے بعد ، کیونکہ یہ بیداری کی حالت میں  پہنا ہوا لباس اُتارنے اورسوتے وقت کا لباس پہننے کاٹائم ہے۔

            یہ تین اوقات ایسے ہیں  کہ اِن میں  خلوت و تنہائی ہوتی ہے ،  بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں  ہوتا ،  ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصہ ُکھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے ،  لہٰذا اِن اوقات میں  غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں  اور اُن کے علاوہ جو ان لوگ تمام اوقات میں  اجازت حاصل کریں  ،  وہ کسی وقت بھی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ۔ ان تین وقتوں  کے سوا باقی اوقات میں  غلام اور بچے بے اجازت داخل ہوسکتے ہیں  کیونکہ وہ کام اور خدمت کیلئے ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہیں  تو اُن پر ہر وقت اجازت طلب کرنا لازم ہونے میں  حرج پیدا ہوگا اور شریعت میں  حرج کو دُور کیا گیا ہے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ۳ / ۳۶۱-۳۶۲ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ص۷۸۹ ،  ملتقطاً)

لڑکا اور لڑکی کب بالغ ہوتے ہیں ؟

            یاد رہے کہ لڑکے اور لڑکی میں جب بلوغت کے آثارظاہر ہوں  مثلاً لڑکے کو احتلام ہو اور لڑکی کوحیض آئے اس وقت سے وہ بالغ ہیں  اور اگر بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوں  تو پندرہ برس کی عمر پوری ہونے سے بالغ سمجھے جائیں  گے۔( فتاویٰ رضویہ ،  ۱۲ / ۳۹۹ ،  ملخصاً)

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب تم میں  لڑکے جوانی کو پہنچ جائیں  تو وہ بھی اِذن مانگیں  جیسے ان کے اگلوں  نے اِذن مانگا  اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے اپنی آیتیں  ،  اور  اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب تم میں  سے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں  تو وہ بھی (گھر میں  داخل ہونے سے پہلے) اسی طرح اجازت مانگیں  جیسے ان سے پہلے (بالغ ہونے) والوں  نے اجازت مانگی۔  اللہ تم سے اپنی آیتیں  یونہی بیان فرماتا ہے اور  اللہ علم والا ،  حکمت والا ہے۔

{وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ: اور جب تم میں  سے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں ۔} اس آیت میں  ارشاد فرمایا: جب تمہارے یا قریبی رشتہ داروں  کے چھوٹے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں  تو وہ بھی تمام اوقات میں  گھر میں  داخل ہونے سے پہلے اسی طرح اجازت مانگیں  جیسے ان سے پہلے بڑے مردوں  نے اجازت مانگی۔  اللہ تعالیٰ اپنے دین کے شرعی احکام اسی طرح بیان فرماتا ہے جیسے ا س نے لڑکوں  کے اجازت طلب کرنے کا حکم بیان فرمایا اور  اللہ تعالیٰ مخلوق کی تمام مصلحتوں  کو جانتا ہے اور وہ اپنی مخلوق کے معاملات کی تدبیر فرمانے میں  



Total Pages: 235

Go To