Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(1)…حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ہے اور ان کے ہاں  حاضری  اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری ہے کیونکہ ان لوگوں  کو حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف بلایا گیاتھا ،  جسے  اللہ تعالیٰ نے فرمایا ،   اللہ و رسول کی طرف بلایا گیا۔

(2)… حضورِ انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم  اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کے خلاف اپیل ناممکن ہے اورحضورِ اکرم

صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے منہ موڑنا رب تعالیٰ کے حکم سے منہ موڑنا ہے۔

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ان کی ڈگری ہو تو اس کی طرف آئیں  مانتے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر فیصلہ ان کیلئے ہوجائے تو اس کی طرف خوشی خوشی جلدی سے آتے ہیں ۔

{وَ اِنْ: اور اگر۔} اس آیت میں  کفار و منافقین کا حال بیان کیا گیا کہ وہ بارہا تجربہ کرچکے تھے اور انہیں  کامل یقین تھا کہ سید المرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ سراسر حق اور عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے اس لئے ان میں  جو سچا ہوتا وہ تو خواہش کرتا تھا کہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کا فیصلہ فرمائیں  اور جو حق پر نہ ہوتا وہ جانتا تھا کہ رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سچی عدالت سے وہ اپنی ناجائز مراد نہیں  پاسکتا اس لئے وہ حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ سے ڈرتا اور گھبراتا تھا۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۷۸۶)

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗؕ-بَلْ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا ان کے دلوں  میں  بیماری ہے یا شک رکھتے ہیں  یا یہ ڈرتے ہیں  کہ  اللہ و رسول ان پر ظلم کریں  گے بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا ان کے دلوں  میں  بیماری ہے؟ یا انہیں  شک ہے ؟یا کیا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں  کہ  اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں  گے ؟ بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں ۔

{اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ: کیا ان کے دلوں  میں  بیماری ہے؟} اس آیت میں  منافقین کے اِعراض کی قباحت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کیا ان کے دلوں  میں  کفر و منافقت کی بیماری ہے؟ یا انہیں  ہمارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت میں  شک ہے ؟یا کیا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان پر ظلم کریں  گے ؟ایسا ہرگز نہیں  ہے ، کیونکہ یہ وہ خوب جانتے ہیں  کہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ حق و قانون کے خلاف ہو ہی نہیں  سکتا اور کوئی بددیانت آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عدالت سے غلط فیصلہ کروانے میں  کامیاب نہیں  ہوسکتا ،  اسی وجہ سے وہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ سے اِعراض کرتے ہیں  اور وہ حق سے اِعراض کرنے کی بنا پر خود ہی اپنی جانوں  پر ظلم کرنے والے ہیں ۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۳ / ۳۵۹ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ص۷۸۶ ،  ملتقطاً)

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں  کی بات تو یہی ہے جب  اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں  کہ رسول ان میں  فیصلہ فرمائے تو عرض کریں  ہم نے سُنا اور حکم مانا اوریہی لوگ مراد کو پہنچے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مسلمانوں  کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں   اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرمادے تو وہ عرض کریں  کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی او ریہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔

{اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ: مسلمانوں  کی بات تو یہی ہے۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو شریعت کا ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمانوں  کو ایسا ہونا چاہئے کہ جب انہیں   اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف بلایا جائے تا کہ رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے درمیان  اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلہ فرمادیں  تو وہ عرض کریں  کہ ہم نے بُلاوا      سُنا اور اسے قبول کر کے اطاعت کی او رجو ان صفات کے حامل ہیں  وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۳ / ۳۵۹ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ص۷۸۷ ،  ملتقطاً)

دین ودنیا میں  کامیابی حاصل ہونے کا ذریعہ :

            اس سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم کے سامنے اپنی عقل کے گھوڑے نہ دوڑائے جائیں  اور نہ ہی آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں  صرف اپنی عقل کو معیار بنایا جائے بلکہ جس طرح ایک مریض اپنے آپ کو ڈاکٹر کے سپرد کر دیتا ہے اور اس کی دی ہوئی دوائی کو چون وچرا کئے بغیر استعمال کرتا ہے اسی طرح خود کوحضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حوالے کر دینا اور آپ کے ہر حکم کے سامنے سر ِتسلیم خم کر دینا چاہئے کیونکہ ہماری عقلیں  ناقص ہیں  اور تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عقلِ مبارک وحی کے نور سے روشن اور کائنات کی کامل ترین عقل ہے۔ اگر اس پر عمل ہو گیا تو پھر دین و دنیا میں  کامیابی نصیب ہو گی۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو حکم مانے  اللہ اور اس کے رسول کا اور  اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو  اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور  اللہ سے ڈرے اوراس (کی نافرمانی) سے ڈرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔

{وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ: اور جو  اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو فرائض میں   اللہ تعالیٰ کی اور سُنّتوں  میں  اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرے اور ماضی میں   اللہ تعالیٰ کی ہونے والی نافرمانیوں  کے بارے میں   اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور آئندہ کے لئے پرہیز گاری اختیار کرے تو ایسے لوگ ہی کامیاب ہیں۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ص۷۸۷)

 



Total Pages: 235

Go To