Book Name:Sirat ul jinan jild 6

چاہے بیشک  اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور  اللہ نے زمین پر چلنے والا ہر جاندار پانی سے بنایا تو ان میں  کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے اور ان میں  کوئی دو پاؤں  پر چلتا ہے اور ان میں  کوئی چار پاؤں  پر چلتا ہے۔  اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ بیشک  اللہ ہر شے پر قادر ہے۔

{وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ: اور  اللہ نے زمین پر چلنے والا ہر جاندار پانی سے بنایا۔} اس سے پہلی آیات میں  آسمانوں  اور زمین کے احوال سے اور آسمانی آثارسے  اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر دلائل ذکر کئے گئے اور اس آیت سے جانداروں  کے احوال سے  اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر اِستدلال کیا جارہا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے جانداروں  کی تمام اَجناس کو پانی کی جنس سے پیدا کیا اور پانی ان سب کی اصل ہے اور اپنی اصل میں  متحد ہونے کے باوجود ان سب کا حال ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہے ، یہ کائنات کو تخلیق فرمانے والے کے علم و حکمت اور اس کی

قدرت کے کمال کی روشن دلیل ہے کہ اس نے پانی جیسی چیز سے ایسی عجیب مخلوق پیدا فرمادی۔مزید فرمایا کہ ان جانداروں  میں  کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے جیسا کہ سانپ ،  مچھلی اور بہت سے کیڑے اور ان میں  کوئی دو پاؤں  پر چلتا ہے جیسا کہ آدمی اور پرندے اور ان میں  کوئی چار پاؤں  پر چلتا ہے جیسا کہ چوپائے اور درندے۔  اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ بیشک  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر شے پر قادر ہے تو کچھ بھی اس کے لئے مشکل نہیں ۔( تفسیرکبیر ، النور ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ، ۸ / ۴۰۶-۴۰۷ ،  مدارک ،  النور ، تحت الآیۃ:۴۵ ،  ص۷۸۵ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۳ / ۳۵۸ ،  ملتقطاً)

            نوٹ: اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب مخلوقات کے بارے میں  تفصیلی معلومات کے لئے کتاب ’’حیاۃُ الحیوان‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اُتاریں  صاف بیان کرنے والی آیتیں  اور  اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے صاف بیان کرنے والی آیتیں  نازل فرمائیں اور  اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

{لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ: بیشک ہم نے صاف بیان کرنے والی آیتیں  نازل فرمائیں ۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے صاف بیان کرنے والی آیتیں  یعنی قرآنِ کریم نازل فرمایاجس میں  ہدایت و احکام اور حلال و حرام کا واضح بیان ہے اور  اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے اور سیدھی راہ جس پر چلنے سے  اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی نعمت میسر ہو ،  وہ دین ِاسلام ہے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۳ / ۳۵۸)

            قرآنِ پاک نازل کرنے کا ذکر فرمانے کے بعدبتایا جارہا ہے کہ انسان تین فرقوں  میں  تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جنہوں  نے ظاہری طور پر حق کی تصدیق کی اور باطنی طور پر اس کی تکذیب کرتے رہے ،  وہ منافق ہیں ۔ دوسرا وہ جنہوں  نے ظاہری طور پر بھی تصدیق کی اور باطنی طور پر بھی مُعْتَقِد رہے ،  یہ مخلص لوگ ہیں ۔ تیسرا وہ جنہوں  نے ظاہر ی طور پربھی تکذیب کی اور باطنی طور پر بھی ،  وہ کفار ہیں ۔ اگلی آیات میں  ترتیب سے ان کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ص۷۸۶)

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَؕ-وَ مَاۤ اُولٰٓىٕكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کہتے ہیں  ہم ایمان لائے  اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں  کے اس کے بعد پھر جاتے ہیں  اور وہ مسلمان نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (منافقین) کہتے ہیں : ہم  اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی پھر ان میں  سے ایک گروہ اس کے بعد پھر جاتا ہے اور (حقیقت میں ) وہ مسلمان نہیں  ہیں ۔

{وَ یَقُوْلُوْنَ: اور کہتے ہیں ۔} اس آیت میں  انسانوں  کے پہلے گروہ کے بارے میں  بتایا گیا کہ وہ کہتے ہیں  ہم  اللہ تعالیٰ اور رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی اطاعت کی ،  پھر ان میں  سے ایک گروہ اس اقرار کے بعد پھر جاتا ہے اور اپنے قول کی پابندی نہیں  کرتا اورحقیقت میں  وہ مسلمان نہیں  منافق ہیں  کیونکہ ان کے دل ان کی زبانوں  کے مُوَافِق نہیں ۔( جلالین ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ص۳۰۰ ،  ملخصاً)

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب بلائے جائیں   اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ رسول ان میں  فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب انہیں   اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو اسی وقت ان میں  سے ایک فریق منہ پھیر نے لگتا ہے۔

{وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: اور جب انہیں   اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ بشر نامی منافق کازمین کے معاملے میں  ایک یہودی سے جھگڑا تھا ،  یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں  وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حق و عدل کا فیصلہ فرماتے ہیں  ،  اِس لئے اُس نے خواہش کی کہ ا س مقدمے کا فیصلہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کرایا جائے۔ لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عدل و انصاف میں  کسی کی رُو رِعایت نہیں  فرماتے ،  اس لئے وہ حضورِ انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے کااصرار کیا اور تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں  گے ،  اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۷۸۶)

آیت ’’وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‘‘ سے معلوم ہونے والے اُمور:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

 



Total Pages: 235

Go To