Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کفار کے لئے بیان کی گئی مثال میں  مسلمانوں  کے لئے نصیحت:

            اس آیت میں  ان مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی عبرت و نصیحت ہے جو  اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں  کو ا س کے حکم کی نافرمانی اور مخالفت کرنے میں  صرف کرتے ہیں  ،  پھر عادت و رسم ،  رِیاکاری و دِکھلاوے کے طور پر ،  اور غفلت کے ساتھ نیک اَعمال کرتے ہیں  اور جہالت کی وجہ سے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں  کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں  حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مُزَیَّن کر دیا اور ان کے اعمال کی مثال صحراء میں  چمکنے والی ریت کی طرح ہے ،  اسی طرح وہ اپنے اعمال کے بارے میں  یہ گمان کر رہے ہوتے ہیں  کہ ان نیک اعمال کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ ان پر کوئی غضب و جلال نہ فرمائے گا اور ان کے لئے جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کر دیاجائے گا ،  لیکن جب انہیں  موت آئے گی تو معاملہ ان کے گمان سے انتہائی برعکس ہوگا ، قیامت کے دن میزانِ عمل میں  ان کے اعمال کاکوئی وزن نہ ہوگا ،   اللہ تعالیٰ ان کے بُرے اعمال کی وجہ سے ان پر غضب فرمائے گا اور جس سزا کے یہ حق دار ہیں  وہ سزا انہیں  دے گا۔ لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ اس مثال کو سمجھے اور اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف بھرپور توجہ دے۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ-ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یا جیسے اندھیریاں  کسی ُکنڈے کے دریا میں  اس کے اوپر موج مو ج کے اوپر اَور موج اس کے اوپر بادل ،  اندھیرے ہیں  ایک پر ایک جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو اور جسے  اللہ نور نہ دے اُس کے لیے کہیں  نور نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا جیسے کسی گہرے سمندر میں  تاریکیاں  ہوں  جس کو اوپر سے ایک موج نے ڈھانپ لیا ہو ،  اس موج پر ایک اورموج ہو ،  (پھر) اس (دوسری) موج پر بادل ہوں ۔ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں  ایک کے اوپر دوسرا اندھیرا ہے کہ جب کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے اپنا ہاتھ بھی دکھائی دیتا معلوم نہ ہواور جس کیلئے  اللہ نور نہ بنائے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔

{اَوْ كَظُلُمٰتٍ: یا جیسے تاریکیاں  ہوں ۔} اس آیت میں  کفار کے بُرے اعمال کی مثال بیان گئی ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں  کے بُرے اعمال ایسے ہوں  گے جیسے کسی گہرے سمندر میں  تاریکیاں  ہوں  جس کو اوپر سے ایک موج نے ڈھانپ لیا ہو ،  اس موج پر ایک دوسری موج ہو ،  پھراس دوسری موج پر بادل ہوں  ،  اندھیرے ہی اندھیرے ہیں  کہ ایک اندھیرا دریا کی گہرائی کا ،  اس پر ایک اور اندھیرا تہ بہ تہ موجوں  کا ،  اس پر اور اندھیرا بادلوں  کی گھری ہوئی گھٹا کا ،  ان اندھیریوں  میں  شدت کا یہ عالم کہ جو اس میں  ہو ،  وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے اپنا ہاتھ بھی دکھائی دیتا معلوم نہ ہو حالانکہ اپنا ہاتھ انتہائی قریب اور اپنے جسم کا جزو ہے جب وہ بھی نظر نہ آئے تو اور دوسری چیز کیا نظر آئے گی۔ ایسا ہی کفار کاحال ہے کہ وہ تین اندھیروں  یعنی باطل اِعتقاد ،  ناحق قول اور قبیح عمل کی تاریکیوں  میں  گرفتار ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ دریا کے کنڈے اور اس کی گہرائی سے کافر کے دل کو اور موجوں  سے جہل ،  شک اور حیرت کو جو کافر کے دل پر چھائے ہوئے ہیں  اور بادلوں  سے مُہر کو جواُن کے دِلوں  پر ہے تشبیہ دی گئی۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۳ / ۳۵۶-۳۵۷)

{وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ: اور جس کیلئے  اللہ نور نہ بنائے اس کے لیے کوئی نور نہیں ۔} یعنی جسے  اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید کے نور سے ہدایت دینا اور قرآنِ کریم پر ایمان لانے کی توفیق دینا نہ چاہے تو اسے اصلاً کوئی ہدایت نہیں  دے سکتا۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۶ / ۱۶۳)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍؕ-كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ  اللہ کی تسبیح کرتے ہیں  جو کوئی آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  اور پرندے پَر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح ،  اور  اللہ اُن کے کاموں  کو جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  وہ سب اور پرندے (اپنے)      پَر پھیلائے ہوئے  اللہ کی تسبیح کرتے ہیں  سب کواپنی نماز اور اپنی تسبیح معلوم ہے اور  اللہ ان کے کاموں  کوخوب جاننے والا ہے۔

{اَلَمْ تَرَ: کیا تم نے نہ دیکھا۔} اس رکوع میں   اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قدرت پر دلائل بیان فرمائے اور ان کے بعد منافقین کا حال بیان فرمایا ہے۔اس آیت میں  حضور سیِّدُ الْمرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ خبر دینے کے لئے خطاب فرمایا گیا کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  نور کے اعلیٰ مراتب پر فائض فرمایا ہے اور ان کے سامنے ملکوت و ملک کے انتہائی باریک اور مخفی ترین اسرار بیان فرمائے ہیں  ، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کو مضبوط اور قوی مشاہدے ،  صریح وحی اورصحیح اِستدلال کے ذریعے اس چیز کا یقینی علم حاصل ہے کہ آسمانوں  اور زمین میں موجود تمام مخلوق اور ان کے درمیان پرندے اپنے پَر پھیلائے ہوئے  اللہ تعالیٰ کی ذات ،  صفات اور اَفعال میں  ہر اس نَقْص و عیب سے پاکی بیان کر رہے ہیں  جو  اللہ تعالیٰ کی شانِ جلیل کے لائق نہیں ۔ ان میں  سے ہر ایک اپنی نماز اور اپنی تسبیح جانتا ہے اور  اللہ تعالیٰ نے نماز و تسبیح کا جسے جو طریقہ سکھایا اسی کے مطابق وہ عمل کرتاہے۔ (اگرچہ ہمیں  وہ طریقہ دکھائی نہ دے یا سمجھ نہ آئے۔)( ابو سعود ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۴ / ۹۸ ،  تفسیر سمرقندی ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۲ / ۴۴۳ ،  ملتقطاً)

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور  اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں  اور زمین کی اور  اللہ ہی کی طرف پھر جانا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورآسمانوں  اور زمین کی بادشاہت  اللہ ہی کے لیے ہے اور  اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

{وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت  اللہ ہی کے لیے ہے۔} ارشاد فرمایا کہ آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت کسی اور کے لئے نہیں  بلکہ صرف  اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہی ان کا خالق ہے اور وہی ان میں  ہر طرح کا تَصَرُّف فرمانے کی قدرت رکھتا ہے اور مخلوق کوفنا ہونے کے بعد جب دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو سب نے صرف  اللہ تعالیٰ



Total Pages: 235

Go To