Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہے؟ ارشادفرمایا: ’’وقت کے اندر نماز۔‘‘( بخاری ،  کتاب مواقیت الصلاۃ ،  باب فضل الصلاۃ لوقتہا ،  ۱ / ۱۹۶ ،  الحدیث: ۵۲۷)

(2)…حضرت عثمان غنی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کامل وضو کیا ،  پھر نمازِ فرض کے لیے چلا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھی تواس کے گناہ بخش دئیے جائیں  گے۔‘‘( صحیح ابن خزیمہ ، کتاب الامامۃ فی الصلاۃ ، باب فضل المشی الی الجماعۃ متوضیاً۔۔۔الخ ، ۲ / ۳۷۳ ، الحدیث:۱۴۸۹)

(3)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’منافقین پر سب سے زیادہ گراں  نماز عشا اورفجر ہے اور وہ جانتے کہ ان میں  کیا ہے؟ تو گھسٹتے ہوئے آتے۔ بیشک میں  نے ارادہ کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں  پھر کسی کو حکم فرماؤں  کہ لوگوں  کو نماز پڑھائے اور میں  اپنے ہمراہ کچھ لوگوں  کو جن کے پاس لکڑیوں  کے گٹھے ہوں  ان کے پاس لے کر جاؤں  ،  جو نماز میں  حاضر نہیں  ہوتے اور ان کے گھر اُن پر آگ سے جلا دوں ۔‘‘( صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ، باب فضل صلاۃ الجماعۃ۔۔۔الخ ، ص۳۲۷ ،  الحدیث: ۲۵۲(۶۵۱))

زکوٰۃ ادا کرنے کے فضائل:

            قرآن وحدیث میں  زکوٰۃ ادا کرنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں  ،  یہاں  ایک آیت اور ایک حدیث پاک ملاحظہ ہو ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانہوں  نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کااجران کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں  گے۔

اورحضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی توبیشک ا س کے مال کا شر اُس سے چلا گیا۔‘‘( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۴۳۱ ،  الحدیث: ۱۵۷۹)

عورت کے لئے گھر میں  نماز پڑھنا زیادہ فضیلت کاباعث ہے:

            یاد رہے کہ اس آیت میں  بطورِ خاص مردوں  کا ذکر اس لئے ہوا کہ عورتوں  پر جمعہ یا جماعت کے ساتھ دیگر نمازوں  کی ادائیگی کے لئے مسجد میں  حاضر ہونا لازم نہیں ۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۳ / ۳۵۵)     عورت کے لئے گھر میں  نماز پڑھنا زیادہ فضیلت کا حامل ہے ،  چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’عورت کا دالان یعنی بڑے کمرے میں  نماز پڑھنا ،  صحن میں  نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور کوٹھری میں  نماز ادا کرنا دالان میں  نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔‘‘( ابو داؤد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب التشدید فی ذلک ،  ۱ / ۲۳۵ ،  الحدیث: ۵۷۰)

{یَخَافُوْنَ: ڈرتے ہیں ۔} آیت کی ابتداء میں  جن مردوں  کے اعمال ذکر فرمائے ان کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں  جس میں  دل اور آنکھیں  اُلٹ جائیں  گی۔ یعنی وہ فرمانبردار بندے جو ذکر و طاعت میں  نہایت مُسْتَعِد رہتے ہیں  اور عبادت کی ادائیگی میں  سرگرم رہتے ہیں  ،  اس حُسنِ عمل کے باوجود وہ اس دن سے خائِف رہتے ہیں  اور سمجھتے ہیں  کہ ان سے  اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا نہ ہوسکا۔ آیت میں  قیامت کے دن کا ایک حال بتایا گیا کہ ا س دن دل اور آنکھیں  اُلٹ جائیں  گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ دلوں  کا اُلٹ جانا یہ ہے کہ شدتِ خوف اور اِضطراب سے دل اُلٹ کر گلے تک چڑھ جائیں  گے ،  نہ باہر نکلیں  نہ نیچے اُتریں  اور آنکھیں  اُوپر چڑھ جائیں  گی یا ا س کے یہ معنی ہیں کہ کفار کے دل کفر وشک سے ایمان و یقین کی طرف پلٹ جائیں  گے اور آنکھوں  سے پردے اُٹھ جائیں  گے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۳ / ۳۵۵-۳۵۶)

{ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ: تاکہ  اللہ انہیں  بدلہ دے۔} یعنی  اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ان نیک کاموں  میں  اس لئے مشغول ہوتے ہیں  تاکہ  اللہ تعالیٰ انہیں  ان کے بہتر اَعمال کا ثواب عطا کرے اور صرف یہی نہ ہو بلکہ  اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں  مزید بھی عطا کرے اور  اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رِزْق عطا فرماتا ہے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۳ / ۳۵۶)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کافر ہوئے اُن کے کام ایسے ہیں  جیسے دھوپ میں  چمکتا ریتا کسی جنگل میں  کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں  تک جب اُس کے پاس آیا تو اُسے کچھ نہ پایا اور  اللہ کو اپنے قریب پایا تو اُس نے اس کا حساب پورا بھردیا اور  اللہ جلد حساب کرلیتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورکافروں  کے اعمال ایسے ہیں  جیسے کسی بیابان میں  دھوپ میں  پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو ،  پیاسا آدمی اسے پانی سمجھتا ہے یہاں  تک جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں  پاتا اوروہ  اللہ کو اپنے قریب پائے گا تو  اللہ اسے اس کا پورا حساب دے گا اور  اللہ جلد حساب کرلینے والا ہے۔

{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور جو کافر ہوئے۔} اس سے پہلی آیات میں   اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  کے حالات بیان فرمائے اور ا س آیت سے کافروں  کے بارے میں  بیان فرمایا کہ وہ آخرت میں  شدید خسارے کا شکار ہوں  گے اور دنیا میں  بھی انہیں  طرح طرح کی ظلمتوں  کا سامنا ہو گا۔اسی سلسلے میں یہاں  دو مثالیں  بیان کی گئیں  ،  اس آیت میں  ذکر کی گئی مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ظاہری اچھے اَعمال کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بیابان میں  دھوپ میں  پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو ،  پیاسا آدمی اسے پانی سمجھ کر اس کی تلاش میں  چلا اورجب وہاں  پہنچا تو پانی کا نام و نشان نہ تھا تو وہ سخت مایوس ہو گیا ایسے ہی کافر اپنے خیال میں  نیکیاں  کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ سے اس کا ثواب پائے گا ،  لیکن جب میدانِ قیامت میں  پہنچے گا تو ثواب نہ پائے گا بلکہ عذابِ عظیم میں  گرفتار ہوگا اور اس وقت اس کی حسرت اور اس کا غم اس پیاس سے بدرجہا زیادہ ہوگا۔(تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۸ / ۳۹۹ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۳ / ۳۵۶ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To