Book Name:Sirat ul jinan jild 6

گناہ پرمجبور کرنے والے پر ہے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۳ / ۳۵۲-۳۵۳ ،  ملخصاً)

زِنا پر مجبور کئے جانے کی تفصیل :

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :زنا پر مجبور کیا جانااس وقت ثابت ہو گا جب کوئی جان سے مار دینے یا جسم کا کوئی عضو ضائع کر دینے کی دھمکی دے اور اگر (ایسی دھمکی نہ ہو بلکہ) تھوڑی بہت دھمکی ہو توزنا پر مجبور کیا جانا ثابت نہ ہوگا۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۶ / ۱۵۰) اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کوئی عورت سچے دل کے ساتھ زنا سے بچنا چاہتی ہے اور کوئی شخص اسے زنا نہ کرنے کی صورت میں  جان سے مار دینے یا اس کا کوئی عضو ضائع کر دینے یا شدید مار مارنے کی دھمکی دے رہا ہے اور عورت سمجھتی ہے کہ اگر میں  نے ا س کی بات نہ مانی تو یہ جو کہہ رہاہے وہ کر گزرے گا ،  اس صورت میں  وہ زنا کئے جانے پر مجبور شمار ہو گی اور اگر اس کے ساتھ زنا ہوا تو وہ گناہگار نہیں  ہو گی اور اگر دھمکی کی نوعیت ایسی نہیں  بلکہ قید کر دینے یا معمولی مار مارنے وغیرہ کی دھمکی ہے تو ایسی صورت میں  عورت زنا پر مجبور شمار نہ ہوگی اور زِنا ہونے کی صورت میں  گناہگار بھی ہو گی۔

عورتوں  کو زنا پر مجبور کرنے والے غور کریں :

            یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ میں  جو کنیزوں  کو بدکاری پر مجبور کرنے سے منع فرمایا گیا ،  اس حکم میں  کنیزوں  کے ساتھ ساتھ آزاد عورتیں  بھی داخل ہیں  اور انہیں  بھی زنا پر مجبور کرنا منع ہے ، نیز زنا پر مجبور کرنا دنیا کا مال طلب کرنے کیلئے ہو یا کسی اور غرض سے بہر صورت حرام اور شیطانی کام ہے اور آیت کے آخر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زنا پر مجبور کرنے والے گناہگار ہیں ۔ اسے سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں  کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی شدید ضرورت ہے جو محنت مزدوری کر کے خود کما کر لانے سے جی چرانے کی بنا پر گھر کے اخراجات چلانے کیلئے یا اپنی خواہشات اور نشے کی لت پوری کرنے کیلئے کمینے پن کی حد پار کر دیتے اور اپنی بیویوں  ،  بیٹیوں  اور بہوؤں  وغیرہ کو زنا کروانے پر مجبور کرتے ہیں  تاکہ اس ذریعے سے حاصل ہونے والامال گھر کے اخراجات چلانے ، اپنی خواہشات اور نشہ پورا کرنے میں  کام آئے ،  اسی طرح وہ لوگ بھی اپنی حالت پر غور کریں  جو عورتوں  کو ورغلا کر پہلے ان کی گندی تصاویر اور وڈیوز بنا لیتے ہیں  ، یا ان کی نجی زندگی کے کچھ ایسے پہلو نوٹ کر لیتے ہیں  جن کا ظاہر ہو جانا عورت اپنے حق میں  شدید نقصان دہ سمجھتی ہے ،  پھر یہ لوگ ان چیزوں  کو منظر عام پر لانے کی دھمکیاں  دے کر انہیں  زنا کروانے پر مجبور کرتے رہتے ہیں  ،  ایسے لوگ یاد رکھیں  کہ جس عورت کے حق میں  شریعت کے اصولوں  کے مطابق زنا پر مجبور کیا جانا ثابت ہوا اسے تو  اللہ تعالیٰ مہربانی فرماتے ہوئے بخش دے گا لیکن زنا پر مجبور کرنے والا بہر حال گناہگار ہو گا اور اگر اس نے توبہ نہ کی اور اس چیز سے باز نہ آیا تووہ  اللہ تعالیٰ کے غضب اور جہنم کے دردناک عذاب میں  مبتلا ہو سکتا ہے۔  اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں  کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے ،  اٰمین۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْوَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے اُتاریں  تمہاری طرف روشن آیتیں  اور کچھ ان لوگوں  کا بیان جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ڈر والوں  کے لیے نصیحت۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں  اور تم سے پہلے لوگوں  کا حال اور ڈر والوں  کے لیے نصیحت نازل فرمائی۔

{وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَا: اور بیشک ہم نے اُتاریں ۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک کے تین اوصاف بیان فرمائے ہیں :

(1)…قرآنِ پاک کی آیتیں  روشن اور مُفَصَّل ہیں ۔

 (2)…اس میں  سابقہ لوگوں  کی مثالیں  ہیں ۔اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل میں  حدود قائم کرنے کے احکام دئیے گئے اسی طرح قرآنِ مجید میں بھی دئیے گئے ہیں ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ سابقہ اُمتوں  میں   اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے جن پر عذاب نازل ہوا ان کا ذکر قرآنِ پاک میں  ہے اور اسے ہم نے تمہارے لئے مثال بنا دیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اگر تم نے  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے میں  اُن کی رَوِش اختیار کی تو تم پر بھی ویسا ہی عذاب نازل ہو سکتا ہے۔

(3)…مُتَّقِین کے لئے نصیحت ہے۔ متقین کا بطورِ خاص ا س لئے ذکر فرمایا کہ قرآن کی نصیحت سے یہی فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۸ / ۳۷۸)

قرآنِ مجید سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ قرآنِ مجید نصیحت حاصل کرنے کا بہت بڑ اذریعہ ہے اور ا س کی برکت سے دلوں  کی سختی دُور ہو جاتی ،  دلوں  پر چڑھا ہواگناہوں  کا زَنگ ختم ہوجاتا اور خشک آنکھوں  سے  اللہ تعالیٰ کے خوف کے سبب آنسو

رواں  ہو جاتے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں  جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ان دلوں  کی صفائی کیا ہے؟ارشاد فرمایا: موت کی زیادہ یاد اور قرآنِ کریم کی تلاوت۔(شعب الایمان ،  التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  فصل فی ادمان تلاوتہ ،  ۲ / ۳۵۲ ،  الحدیث: ۲۰۱۴)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ موت کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت کرے اور سُنے ،  قرآنِ کریم کو سمجھنے کی کوشش کرے ،  اس کی نصیحتوں  کو قبول کرے اور ظاہری و باطنی اعمال اور دیگر چیزوں  سے متعلق اس کے دئیے ہوئے احکامات پر عمل کرے۔

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ-اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ-اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍۙ-یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌؕ-نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ نور ہے آسمانوں  اور زمین کا ،  اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں  چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں  ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا



Total Pages: 235

Go To