Book Name:Sirat ul jinan jild 6

سے کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں  اس کیلئے رزق کے دروازے ُکھل جاتے ہیں  اور اس بات کا ہزاروں  لوگوں  میں  مشاہدہ بھی ہے کہ شادی سے پہلے بے فکر وبے روزگاراور دوستوں  کے ساتھ وقت ضائع کررہے ہوتے ہیں  لیکن شادی کے بعد کام بھی شروع کردیتے ہیں  اور فضولیات سے بھی بچنا شروع کردیتے ہیں ۔

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا ﳓ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْؕ-وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور چاہیے کہ بچے رہیں  وہ جو نکاح کا مقدور نہیں  رکھتے یہاں  تک کہ  اللہ انہیں  مقدور والا کردے اپنے فضل سے اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں  میں  سے جو یہ چاہیں  کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں  آزادی لکھ دو تو لکھ دو اگر ان میں  کچھ بھلائی جانو اور اس پر ان کی مدد کرو  اللہ کے مال سے جو تم کو دیا اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں  کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں  تاکہ تم دُنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو اور جو انہیں  مجبور کرے گا تو بیشک  اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں  بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورجو لوگ نکاح کرنے کی طاقت نہیں  پاتے انہیں  چاہیے کہ پاکدامنی اختیار کریں  یہاں  تک کہ  اللہ انہیں  اپنے فضل سے غنی کردے اور تمہارے غلام اور لونڈیوں  میں  سے جو مال کما کر دینے کی شرط پر آزادی کے طلبگار ہوں  تو تم انہیں  (یہ معاہدہ) لکھ دو اگر تم ان میں  کچھ بھلائی جانو اور تم ان کی  اللہ کے اس مال سے مدد کروجواس نے تمہیں  دیا ہے اورتم دنیوی زندگی کا مال طلب کرنے کیلئے اپنی کنیزوں  کو بدکاری پر مجبور نہ کرو (خصوصاً) اگر وہ خود (بھی) بچنا چاہتی ہوں  اور جو انہیں  مجبور کرے گا تو بیشک  اللہ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بہت بخشنے والا ،  مہربان ہے۔

{وَ لْیَسْتَعْفِفْ: اور چاہیے کہ پاکدامنی اختیار کریں ۔} اس آیت میں  ان لوگوں  کا حکم بیان کیا جا رہا ہے جو نکاح کرنےکی اِستطاعت نہیں  رکھتے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ مَہر اور نان نفقہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کرنے کی استطاعت نہیں  رکھتے تو انہیں  چاہیے کہ حرام کاری سے بچے رہیں  یہاں  تک کہ  اللہ تعالیٰ انہیں  اپنے فضل سے مالدار کردے اور وہ مہرو نان نفقہ ادا کرنے کے قابل ہوجائیں ۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ص۷۷۹)

نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والوں  سے متعلق2شرعی مسائل:

            یہاں  نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والوں  کے بارے میں  دو شرعی مسائل ملاحظہ ہوں  ،

(1)…اگر یہ ا ندیشہ ہے کہ نکاح کرے گا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں  ہیں  ان کو پورا نہ کرسکے گا تو نکاح کرنا مکروہ ہے اور اگر ان باتوں  کا یقین ہو تو نکاح کرنا حرام ہے مگر نکاح کر لیا تو نکاح بہرحال ہو جائے گا۔

(2)…جو لوگ کسی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہیں  رکھتے توانہیں  چاہئے کہ کثرت سے روزے رکھیں  جیساکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے جوانو! تم میں جوکوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرفنظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں  نکاح کی استطاعت نہیں  وہ روزے رکھے کہ روزہ شہوت کو توڑنے والا ہے۔‘‘( مسلم ،  کتاب النکاح ،  باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ۔۔۔ الخ ،  ص۷۲۵ ،  الحدیث: ۳(۱۴۰۰))

{وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ: اور جو مال کما کر دینے کی شرط پر آزادی کے طلبگار ہوں ۔} آیت کے اس حصے میں  غلاموں  اور لونڈیوں  کے بارے میں  چند احکام بیان ہوئے ہیں ۔ان کا خلاصہ یہ ہے۔

(1)…جو غلام اور لونڈی مخصوص مقدار میں  مال کما کر دینے کی شرط پر آزادی کے طلبگار ہوں  تو انہیں  ا س کا معاہدہ لکھ دینا مستحب ہے ،  اس طرح کی آزادی کو شریعت کی اِصطلاح میں  کِتابَت اور ایسا معاہدہ کرنے والے غلام کو مُکاتَب کہتے ہیں  جبکہ جو مال دینا طے پائے اسے بَدَلِ کِتابَت کہتے ہیں ۔

(2)…غلاموں  اور لونڈیوں  کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا اس وقت مستحب ہے جب وہ امانت و دیانت اور کمائی پر قدرت رکھتے ہوں  تاکہ وہ حلال روزی سے مال حاصل کرکے آزاد ہوسکیں  اور اپنے آقا کو مال دے کر آزادی حاصل کرنے

کے لئے بھیک نہ مانگتے پھریں  ،  اسی لئے حضرتِ سلمان فارسی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اپنے اس غلام کو مُکاتَب کرنے سے انکار فرمادیا جو بھیک مانگنے کے علاوہ کمائی کاکوئی ذریعہ نہ رکھتا تھا۔

(3)… مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مکاتب غلاموں  کو زکوٰۃ وغیرہ دے کر ان کی مدد کریں  تاکہ وہ بَدَلِ کِتابَت دے کر اپنی گردن چھڑا سکیں  اور آزاد ہوسکیں ۔

            شانِ نزول : حویطب بن عبدالعزیٰ کے غلام صبیح نے اپنے مولیٰ سے کتابت کی درخواست کی ،  مولیٰ نے انکار کیا ،  اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو حویطب نے اس کو سو دینار پر مکاتب کردیا اور ان میں  سے بیس اس کو بخش دیئے باقی اس نے ادا کردیئے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۳ / ۳۵۱ ،  ملخصاً)

            نوٹ:غلاموں  اور لونڈیوں  کو آزاد کرنے کے بارے میں  تفصیلی مسائل کی معلومات کے لئے بہارِ شریعت جلد 2حصہ9سے ’’آزاد کرنے کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔نیز یاد رہے کہ فی زمانہ عالمی سطح پر انسانوں  کو غلام یا لونڈی بنانے کا قانون ختم ہو چکا ہے۔

{وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ: اورتم اپنی کنیزوں  کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔} شانِ نزول : عبد اللہ بن اُبی بن سلول منافق مال حاصل کرنے کے لئے اپنی کنیزوں  کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ،  ان کنیزوں  نے تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کی شکایت کی ،  اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور  اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم مال کے لالچ میں  اندھے ہو کر کنیزوں  کو بدکاری پر مجبور نہ کرو خصوصاً اگر وہ خود بھی بچنا چاہتی ہوں  اور جو انہیں  مجبور کرے گا تو بیشک  اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بہت بخشنے والا ،  مہربان ہے اوراس کا وبال



Total Pages: 235

Go To