Book Name:Sirat ul jinan jild 6

            یاد رہے کہ شوہر کے علاوہ دیگر مَحارِم کے سامنے بھی عورت اپنے بناؤ سنگار کے اعضاء اس وقت ظاہر کر سکتی ہے جب ان میں  سے کسی کو شہوت کا اندیشہ نہ ہو ،  اگر شہوت کا اندیشہ ہو تو ظاہر کرنا ناجائزہے۔

{وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ: اور زمین پر اپنے پاؤں  زور سے نہ ماریں ۔} یعنی عورتیں  چلنے پھرنے میں  پاؤں  اس قدر آہستہ رکھیں  کہ اُن کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے۔‘‘ اسی لئے چاہیے کہ عورتیں  بجنے والے جھانجھن نہ پہنیں ۔ حدیث

شریف میں  ہے کہ  اللہ تعالیٰ اس قوم کی دعا نہیں  قبول فرماتا جن کی عورتیں  جھانجھن پہنتی ہوں ۔ اس سے سمجھ لیناچاہیے کہ جب زیور کی آواز دعا قبول نہ ہونے کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی  اللہ تعالیٰ کے غضب کو لازم کرنے والی ہوگی۔ پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے ( اللہ کی پناہ)۔(تفسیر احمدی ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۵۶۵ ،  خزاءن العرفان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۶۵۶ ،  ملتقطاً)

پردے کے دینی اور دُنیوی فوائد :

            یہاں  پردہ کرنے کے چند دینی اور دُنیوی فوائد ملاحظہ ہوں  ،  چنانچہ اس کے4 دینی فوائد یہ ہیں :

(1)…پردہ  اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

(2)…پردہ ایمان کی علامت ،  اسلام کا شعار اور مسلمان خواتین کی پہچان ہے۔

(3)…پردہ شرم و حیا کی علامت ہے اور حیا  اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔

(4)… پردہ عورت کو شیطان کے شر سے محفوظ بنا دیتا ہے۔

            اور پردے کے4 دُنیوی فوائد یہ ہیں :

(1)…باحیا اور پردہ دارعورت کو اسلامی معاشرے میں  بہت عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

(2)… پردہ عورت کو بُری نظر اور فتنے سے محفوظ رکھتا اور بُرائی کے راستے کو روکتا ہے۔

(3)…عورت کے پردے سے معاشرے میں  بگاڑ پیدا نہیں  ہوتا اور معاشرے میں  امن و سکون رہتاہے۔

(4)…پردہ عورت کے وقار میں  اضافہ کرتا اور اس کی خوبصورتی کی حفاظت کرتا ہے۔

 پردے کی ضرورت واہمیت سے متعلق ایک مثال:

            یہاں  پردے کی ضرورت اور اہمیت کو آسانی کے ساتھ سمجھنے کے لئے ایک مثال ملاحظہ ہو ، چنانچہ وہ مثال یہ ہے کہ اگر ایک پلیٹ میں  مٹھائی رکھ دی جائے اور اسے کسی چیز سے ڈھانپ دیاجائے تو وہ مکھیوں  کے بیٹھنے سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اگر اسے ڈھانپا نہ جائے ،  پھر اس پر مکھیاں  بیٹھ جائیں  تو یہ شکایت کرنا کہ اس پر مکھیاں  کیوں  بیٹھ گئیں  بہت بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ مٹھائی ایسی چیز ہے جسے مکھیوں  کے تَصَرُّف سے بچانے کے لئے اسے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے ورنہ انہیں  مٹھائی پر بیٹھنے سے روکنا بڑ امشکل ہے ،  اسی طرح اگرعورت جو کہ چھپانے کی چیز ہے ،  اسے پردے میں  رکھا

جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل سے بچ سکتی ہے اور عزت و ناموس کے لٹیروں  سے اپنی حفاظت کر سکتی ہے اور جب اسے پردے کے بغیر رکھا جائے تو اس کے بعد یہ شکایت کرنا کہاں  کی عقلمندی ہے کہ لوگ عورت کو تانک جھانک کرتے ہیں  ،  اسے چھیڑتے ہیں  اوراس کے ساتھ دست درازی کرتے ہیں  کیونکہ جب اسے بے پردہ کر دیاتو غیر مردوں  کی فتنہ باز نظریں  ا س کی طرف ضرور اُٹھیں  گی ،  ان کے لئے عورت کے جسم سے لطف اندوز ہونا اور اس میں  تَصَرُّف کرنا آسان ہو گا اور شریر لوگوں  سے اپنے جسم کو بچانا عورت کے لئے انتہائی مشکل ہو گا کیونکہ فطری طور پر مردوں  میں  عورتوں  کے لئے رغبت رکھی گئی ہے اور جب وہ بے پردہ عورت کا جسم دیکھتا ہے تو وہ اپنی شہوت و رغبت کو پورا کرنے کے لئے اس کی طرف لپکتا ہے۔

پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے:

            موجودہ دور میں  میڈیا کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے لوگوں  کا یہ ذہن بنانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے کہ عورت بھی ایک انسان ہے اور آزادی اس کا بھی حق ہے اور اسے پردہ کروانااس کی آزادی اور روشن خیالی کے برخلاف ہے اور یہ ایک طرح کی جبری قید ہے حالانکہ پردہ تو عورت کی آزادی کا ضامن ہے ، پردہ اس کی عزت و ناموس کا محافظ ہے ،  اسی میں  عورت کی عزت اور ا س کاو قار ہے۔آج ہر عقلمند انسان انصاف کی نظر سے یہ دیکھ سکتا ہے کہ جن ممالک میں  عورت کے پردے کو اس کے انسانی حق اور آزادی کے خلاف قرار دے کر اس کی بے پردگی کو رواج دیا گیا ،  ایسے ذرائع اور حالات پیدا کئے گئے جن سے عورتوں  اور مردوں  کا باہم اِختلاط رہے اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ میل جول ہوتا رہے اور قانونی طور پر عورت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جب اور جس مرد کے ساتھ چاہے اپنا وقت گزارے اور اپنی فطری خواہشات کو پورا کرے تو وہاں  کا حال کیسا عبرت ناک ہے کہ ان کا معاشرہ بگڑ گیا اور خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ،  شادیوں  کی ناکامی ،  طلاقوں  کی تعداد اور حرامی بچوں  کی پیدائش میں  اضافہ ہوگیا اور یہ سب تباہی عورت کو بے پردہ کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔([1])

{وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا:تم سب  اللہ کی طرف توبہ کرو۔} یعنی اے مسلمانو! جن باتوں  کا تمہیں  حکم دیا گیا اور جن سے منع کیا گیا ،  اگر ان میں  بشری تقاضے کی بنا پر تم سے کوئی تقصیر واقع ہوجائے تو تم  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ا س امید پر توبہ کر لو کہ تم فلاح پا جاؤ۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۳ / ۳۵۰)

            اور توبہ سے متعلق حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’  اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر ا س سے بھی زیادہ



[1] پردے سے متعلق شرعی اَحکام کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب ’’پردے کے بارے میں  سوال جواب‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ ضرور فرمائیں ۔



Total Pages: 235

Go To