Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اللہ تعالٰی کے حکم پر عمل کرنے میں  صحابیات رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنَّ کا جذبہ:

            جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی تواس حکم پر عمل کرنے میں  صحابیات رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنَّ کا جذبہ قابل دید ہے ،  چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا  فرماتی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ ان عورتوں  پر رحم فرمائے جنہوں  نے سب سے پہلے ہجرت کی تھی کہ جب  اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ’’اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں  پر ڈالے رکھیں ‘‘ تو انہوں  نے اپنی اونی چادروں  کو پھاڑ کر اوڑھنیاں  بنا لیا تھا۔‘‘( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ النور ،  باب ولیضربن بخمرہنّ علی جیوبہنّ ،  ۳ / ۲۹۰ ،  الحدیث: ۴۷۵۸)

            اب یہاں  پردے سے متعلق تین عظیم واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا فرماتی ہیں  کہ پردے کی آیات نازل ہونے کے بعد (میرے رَضاعی چچا) افلح نے مجھ سے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں  نے کہا:میں  اس وقت تک اجازت نہیں  دے سکتی جب تک نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اجازت نہ لے لوں  کیونکہ ابو القعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں  پلایا بلکہ ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایاہے۔جب رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے اور حضرت عائشہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے ان سے صورتِ حال عرض کی تو ارشاد فرمایا’’اے عائشہ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ،  افلح کو اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں ۔‘‘( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ الاحزاب ،  باب قولہ: ان تبدوا شیءاً او تخفوہ۔۔۔ الخ ،  ۳ / ۳۰۶ ،  الحدیث: ۴۷۹۶)

(2)…خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کو یہ تشو یش تھی کہ عمر بھر تو غیر مردوں  کی نظروں  سے خود کو بچائے رکھا ہے اب کہیں  وفات کے بعد میری کفن پوش لاش ہی پرلوگوں  کی نظر نہ پڑ جائے!ایک موقع پر حضرت اسماء بنتِ عمیس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے عرض کی:میں  نے حبشہ میں  دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں  باندھ کر اور ایک ڈولی کی سی صورت بنا کر اس پر پردہ ڈالدیتے ہیں ۔ پھر انہوں  نے کھجور کی شاخیں  منگوا کر انہیں  جوڑااور اس پر کپڑا تان کر خاتونِ جنّت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کو دکھایا۔اسے دیکھ کر آپ بہت خوش ہوئیں  اور لبوں  پر مسکراہٹ آگئی۔ بس آپ کی یہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بعد دیکھی گئی۔( جذب القلوب ،  باب دوازدہم در ذکر مقبرۂ شریفۂ بقیع۔۔۔ الخ ،  ص۱۵۹)

(3)…حضرت اُمِّ خلاد رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کا بیٹا جنگ میں  شہید ہو گیا ،  آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ان کے بارے میں  معلومات حاصل کرنے کیلئے چہرے پرنقاب ڈالے باپردہ بارگاہِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضر ہو ئیں  ،  اس پر کسی نے حیرت سے کہا :اس وقت بھی آپ نے منہ پر نقاب ڈال رکھا ہے!آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے جواب دیا: میں  نے بیٹاضرور کھویا ہے لیکن حیا ہر گز نہیں  کھوئی۔( ابو داؤد ،  کتاب الجہاد ،  باب فضل قتال الروم علی غیرہم من الامم ،  ۳ / ۹ ،  الحدیث: ۲۴۸۸)

             مذکورہ بالا حدیثِ پاک اور ان تین واقعات میں  ان عورتوں  کے لئے بڑی نصیحت ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود  اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کرنے کی بجائے دنیا کے ناجائزفیشن اور رسم و رواج کو اپنانے میں  بڑی کوشش کرتی ہیں  اور پردے سے جان چھڑانے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے تراشتی ہیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم اور شرعی احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

{وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ: اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں ۔} اس آیت سے ان مردوں  کے بارے میں  بتایا گیا ہے جن کے سامنے عورت اپنی پوشیدہ زینت کے اعضا مثلاً سر ،  کان ،  گردن ،  سینہ ،  بازو ،  کہنیاں  اور پنڈلیاں  وغیرہ ظاہر کر سکتی ہے۔ چنانچہ وہ مرد حضرات درج ذیل ہیں  ،

(1)… شوہر۔

(2)…باپ۔ اس کے حکم میں  دادا پَر دادا وغیرہ تمام اصول شامل ہیں ۔

(3)…شوہروں  کے باپ یعنی سُسرکہ وہ بھی مَحرم ہوجاتے ہیں ۔

(4)…اپنے بیٹے۔ اِنہیں  کے حکم میں  اِن کی اولاد بھی داخل ہے۔

(5)… شوہروں  کے بیٹے کہ وہ بھی مَحرم ہوگئے۔

(6 ، 7)…سگے بھائی۔ سگے بھتیجے۔

(8)…سگے بھانجے۔ اِنہیں  کے حکم میں  چچا ماموں  وغیرہ تمام مَحارِم داخل ہیں ۔

(9) …مسلمان عورتوں  کے سامنے۔ غیر مسلم عورتوں  کے سامنے کھولنا منع ہے چنانچہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو خط لکھا تھا کہ کُفَّار اہلِ کتاب کی عورتوں  کو مسلمان عورتوں  کے ساتھ حمام میں  داخل ہونے سے منع کریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کو کافرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔ مسئلہ: عورت اپنے غلام سے بھی اجنبی مرد کی طرح پردہ کرے۔

 (10)… اپنی ملکیت میں  موجود کنیزوں  کے سامنے۔ ان پر اپنا سنگار ظاہر کرنا ممنوع نہیں  اور غلام اِن کے حکم میں  نہیں  ،  اس کو اپنی مالکہ کی زینت کی جگہوں  کو دیکھنا جائز نہیں ۔

(11)…مردوں  میں  سے وہ نوکرجوشہوت والے نہ ہوں  مثلاً ایسے بوڑھے ہوں  جنہیں  اصلاً شہوت باقی نہیں  رہی ہو اوروہ نیک ہوں ۔

             یاد رہے کہ ائمہ حنفیہ کے نزدیک خصی اور عنین نظر کی حرمت کے معاملے میں  اجنبی کا حکم رکھتے ہیں ۔ اس طرح بُرے اَفعال کرنے والے ہیجڑوں  سے بھی پردہ کیا جائے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث سے ثابت ہے۔

 (12)… وہ بچے جنہیں  عورتوں  کی شرم کی چیزوں  کی خبر نہیں  ،  وہ ابھی ناسمجھ نابالغ ہیں ۔(مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۷۷۸ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۳ / ۳۴۹ ،  خزاءن العرفان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۶۵۶ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To