Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ: اور اپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کریں ۔} آیت کے اس حصے کا ایک معنی یہ ہے کہ زنا اور حرام سے بچیں ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اپنی شرم گاہوں  اور اُن سے مُتَّصِل وہ تمام اعضاء جن کا سَتْر ضرور ی ہے انہیں  چھپائیں  اور پردے کا اہتمام رکھیں ۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۶ / ۱۴۰ ،  ملخصاً)

{ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ: یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔} یعنی نگاہوں  کو جھکا کر رکھنا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا مردوں  کے لیے گناہ کی میل کے مقابلے میں  بہت زیادہ پاکیزہ طریقہ اور کام ہے۔ اور فرمایا کہ بیشک  اللہ تعالیٰ ان کے کاموں  سے خبردار ہے۔امام عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : ’’اس میں  نگاہیں  جھکا کر رکھنے اور شرمگاہوں  کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور ایسا نہ کرنے پر ترہیب یعنی  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیاہے کہ  اللہ تعالیٰ مردوں  کے حالات ،  ان کے اَفعال اور ان کے نظریں  گھمانے کے انداز سے خبردار ہے ، وہ آنکھوں  کی خیانت اور دلوں  کی چھپی ہوئی باتیں  جانتا ہے۔ جب مرد ا س بات سے آگاہ ہیں  تو ان پر لازم ہے کہ وہ ا س معاملے میں   اللہ تعالیٰ سے ڈریں  اور ہر غلط حرکت و سکون سے بچیں ۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ص۷۷۷)

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ  اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مسلمان عورتوں  کو حکم دو اپنی نگاہیں  کچھ نیچی رکھیں  اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں  اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں  مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں  پر ڈالے رہیں  اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں  مگر اپنے شوہروں  پر یا اپنے باپ یا شوہروں  کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں  کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں  یا اپنی کنیزیں  جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں  یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں  یا وہ بچے جنہیں  عورتوں  کی شرم کی چیزوں  کی خبر نہیں  اور زمین پر پاؤں  زور سے نہ رکھیں  کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور  اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مسلمان عورتوں  کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں  کچھ نیچی رکھیں  اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں  اور اپنی زینت نہ دکھائیں  مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں  پر ڈالے رکھیں  اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں  مگر اپنے شوہروں  پر یا اپنے باپ یا شوہروں  کے باپ یا اپنے بیٹوں  یا شوہروں  کے بیٹے یا اپنے بھائیوں  یا اپنے بھتیجوں  یا اپنے بھانجوں  یا اپنی (مسلمان) عورتوں  یا اپنی کنیزوں  پر جو ان کی ملکیت ہوں  یامردوں  میں  سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں  یا وہ بچے جنہیں  عورتوں  کی شرم کی چیزوں  کی خبر نہیں  اور زمین پر اپنے پاؤں  اس لئے زور سے نہ ماریں  کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں  نے چھپائی ہوئی ہے اور اے مسلمانو! تم سب  اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔

{وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ: اور مسلمان عورتوں  کو حکم دو۔} آیت کے ا س حصے میں  مسلمان عورتوں  کوحکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں  کچھ نیچی رکھیں  اور غیر مردوں  کو نہ دیکھیں ۔ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا  فرماتی ہیں  کہ میں  اور حضرت میمونہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا بارگاہِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضر تھیں  ،  اسی وقت حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ حاضر ہوئے۔ حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں  پردہ کا حکم فرمایا تومیں  نے عرض کی : وہ تو نابینا ہیں  ،  ہمیں  دیکھ اور پہچان نہیں  سکتے۔ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’کیا تم دونوں  بھی نابینا ہو اور کیا تم ان کو نہیں  دیکھتیں ۔‘‘( ترمذی ،  کتاب الادب ،  باب ما جاء فی احتجاب النساء من الرجال ،  ۴ / ۳۵۶ ،  الحدیث: ۲۷۸۷ ،  ابوداؤد ،  کتاب اللباس ،  باب فی قولہ عزّ وجلّ: وقل للمؤمنات یغضضن۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۸۷ ،  الحدیث: ۴۱۱۲)

 عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنے کا شرعی حکم:

            یہاں  ایک مسئلہ یاد رہے کہ عورت کا اجنبی مردکی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے ،  جو مرد کا مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شہوت پیدا نہیں  ہوگی اور اگر اس کا شبہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے۔

{وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ: اور اپنی زینت نہ دکھائیں ۔} ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : ’’زینت سے مراد وہ چیزیں  ہیں  جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے جیسے زیوراورسرمہ وغیرہ اور چونکہ محض زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لئے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں  اپنے بدن کے ان اعضا کو ظاہر نہ کریں  جہاں  زینت کرتی ہیں  جیسے سر ،  کان ،  گردن ،  سینہ ،  بازو ،  کہنیاں  اور پنڈلیاں  ،  البتہ بد ن کے وہ اعضا جوعام طور پر ظاہر ہوتے ہیں  جیسے چہرہ ، دونوں  ہاتھ اور دونوں  پاؤں  ، انہیں  چھپانے میں  چو نکہ مشقت واضح ہے اس لئے ان اعضا کو ظاہر کرنے میں  حرج نہیں۔(لیکن فی زمانہ چہرہ بھی چھپایا جائے گا جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔)( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۷۷۷)

            اِس آیتِ مبارکہ کے بارے میں  ملا جیون رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آیت میں  مذکور حکم نماز کے بارے میں  ہے (یعنی عورت نماز پڑھتے وقت چہرے دونوں  ہاتھوں  اور دونوں  پاؤں

کے علاوہ پورا بدن چھپائے۔ یہ حکم عورت کو) دیکھنے کے بارے میں  نہیں کیونکہ عورت کا تمام بدن عورت یعنی چھپانے کی چیز ہے۔ شوہر اور مَحرم کے سوا کسی اور کے لئے اس کے کسی حصہ کو بے ضرورت دیکھنا جائز نہیں  اور علاج وغیرہ کی ضرورت سے بقدرِ ضرورت جائز ہے۔‘‘( تفسیرات احمدیہ ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۵۶۲)

{وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ: اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں  پر ڈالے رکھیں ۔} یعنی مسلمان عورتیں  اپنے دوپٹوں  کے ذریعے اپنے بالوں  ،  گردن ، پہنے ہوئے زیور اور سینے وغیرہ کو ڈھانپ کر رکھیں ۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۳ / ۳۴۸)

 



Total Pages: 235

Go To