Book Name:Sirat ul jinan jild 6

جانا رہتا ہے تو میں  کیا کروں ؟ ا س پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔( تفسیرطبری ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۹ / ۲۹۷)

دوسروں  کے گھر جانے سے متعلق 3شرعی احکام:

            یہاں  اس آیت کے حوالے سے 3 شرعی احکام ملاحظہ ہوں  ،

(1)…اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر کے گھرمیں  کوئی بے اجازت داخل نہ ہو۔ اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سُبْحَانَ  اللہ یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ یا  اللہ اَکْبَرْ کہے ،  یا کَھنکارے جس سے مکان والوں  کو معلوم ہوجائے کہ کوئی آنا چاہتا ہے (اور یہ سب کام اجازت لینے کے طور پر ہوں ) یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے۔ غیر کے گھر سے وہ گھر مراد ہے جس میں  غیر رہتا ہو خواہ وہ اس کا مالک ہو یا نہ ہو۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۶ / ۱۳۷ ،  ملخصاً)

(2) …غیر کے گھر جانے والے کی اگر صاحبِ مکان سے پہلے ہی ملاقات ہوجائے توپہلے سلام کرے پھر اجازت چاہے اور اگر وہ مکان کے اندر ہو تو سلام کے ساتھ اجازت لے اور اس طرح کہے: السلام علیکم ،  کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے۔ حدیث شریف میں  ہے کہ سلام کو کلام پر مُقَدَّم کرو۔( ترمذی ،  کتاب الاستءذان والآداب عن رسول اللّٰہ ،  باب ما جاء فی السلام قبل الکلام ،  ۴ / ۳۲۱ ،  الحدیث: ۲۷۰۸)

 (3)… اگر دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں  بے پردگی کا اندیشہ ہو تو دائیں  یا بائیں  جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب کرے۔ حدیث شریف میں  ہے اگرگھرمیں  ماں  ہوجب بھی اجازت طلب کرے۔( موطا امام مالک ،  کتاب الاستءذان ،  باب الاستءذان ،  ۲ / ۴۴۶ ،  الحدیث: ۱۸۴۷)

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْۚ-وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر ان میں  کسی کو نہ پاؤ جب بھی بے ما لکوں  کی اجازت کے ان میں  نہ جاؤ اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے  اللہ تمہارے کاموں  کو جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگرتم ان گھروں میں  کسی کو نہ پاؤتو بھی ان میں  داخل نہ ہو ناجب تک تمہیں  اجازت نہ دیدی جائے اور اگر تمہیں  کہا جائے ’’واپس لوٹ جاؤ ‘‘تو تم واپس لوٹ جاؤ ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور  اللہ تمہارے کاموں  کو خوب جاننے والا ہے۔

{فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا: پھر اگرتم ان گھروں میں  کسی کو نہ پاؤ۔} یعنی اگرمکان میں  اجازت دینے والا موجود نہ ہو تو بھی ان میں  داخل نہ ہو ناجب تک تمہیں  اجازت نہ دیدی جائے کیونکہ غیر کی مِلک میں  تَصَرُّف کرنے کے لئے اس کی رضا مندی ضروری ہے۔ اور اگر مکان میں  اجازت دینے والا موجود ہو اور وہ تمہیں  کہے کہ ’’واپس لوٹ جاؤ ‘‘تو تم واپس لوٹ جاؤ اور اجازت طلب کرنے میں  اصرار اور منت سماجت نہ کرو۔

کسی کا دروازہ بجانے سے متعلق دو اہم باتیں :

            جب بھی کسی کے گھر جائیں  تودروازہ بجانے سے پہلے دو باتوں  کا ضرور لحاظ رکھیں ۔

(1)… کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹ کھٹانا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر علماء اور بزرگوں  کے دروازوں  پر ایساکرنا اوران کو زُور سے پکارنا مکرو ہ و خلافِ ادب ہے۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ص۷۷۶) لہٰذا درمیانے انداز میں  دروازہ بجائیں  اور آواز دینے کی ضرورت ہو تو درمیانی آواز سے پکاریں  ، یونہی جس کے گھر       پہ بیل لگی ہو تو ایسا نہ کریں  کہ بٹن پر ہاتھ رکھ کر ہی کھڑے ہو جائیں  اور جب تک دروازہ ُکھل نہ جائے اس سے ہاتھ نہ ہٹائیں  بلکہ ایک بار بٹن دباکر کچھ دیر انتظار کریں  ،  اگر دروازہ نہ کھلے تو دوبارہ بجا لیں  ، کچھ دیر انتظار کے بعد پھر بجا لیں  ،  اگر تیسری بار بجانے کے بعد بھی جواب نہ ملے تو کسی شدید مجبوری اور ضرورت کے بغیر چوتھی بار نہ بجائیں  بلکہ واپس چلے جائیں  اور کسی دوسرے وقت میں  ملاقات کر لیں ۔نیز یہاں  یہ بھی یاد رہے کہ تین مرتبہ تک دروازہ بجانے یا گھنٹی بجانے کی اجازت ہے ،  کوئی واجب نہیں  لہٰذا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دو یا ایک مرتبہ دروازہ بجانے پر اگر کوئی دروازہ نہ کھولے تو واپس چلے جائیں ۔

(2)۔۔۔۔جب کسی کا دروازہ بجائیں  اور اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے تو ا س کے جواب میں  یہ نہ کہیں  کہ میں  ہوں  ،  بلکہ اپنا نام بتائیں  تاکہ پوچھنے والا آپ کو پہچان سکے۔حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ میں  اپنے والد کے قرض کے سلسلے میں  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوا تومیں  نے دروازہ بجایا۔ آپ نے پوچھا: کون ہے؟میں  نے عرض کی:میں  ہوں ۔آپ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  ،  میں ۔‘‘ (یعنی میں  تو میں  بھی ہوں ) گویا آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔( بخاری ،  کتاب الاستءذان ،  باب ما اذا قال: من ذا؟ فقال: انا ،  ۴ / ۱۷۱ ،  الحدیث: ۶۲۵۰)

            نوٹ:مزید تفصیل کے لئے بہارِ شریعت جلد3 حصہ16 سے’’مکان میں  جانے کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔

{هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ: یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔} یعنی اجازت نہ ملنے کی صورت میں  تمہارا لوٹ جانا تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ کام ہے کیونکہ بعض اوقات لوگ ا س حال میں  ہوتے ہیں  کہ ا س وقت وہ کسی کا اپنے پاس آنا پسند نہیں  کرتے۔(خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۳ / ۳۴۷)

دین ِاسلام کا وصف:

            مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ اسلام نے ہمیں  زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں  اپنی تعلیمات سے نوازا ہے اور زندگی کے آداب سکھائے ہیں  نیز دوسروں  کی سہولت کا خیال رکھنا بھی سکھایا ہے۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اس میں  تم پر کچھ گناہ نہیں  کہ ان گھروں  میں  جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں  اور ان کے برتنے کا تمہیں  اختیار ہے اور  اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو اور جو تم



Total Pages: 235

Go To