Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی صریح حق ہے یعنی موجود ،  ظاہر ہے ،  اسی کی قدرت سے ہر چیز کا وجود ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں  کہ کفار دنیا میں   اللہ تعالیٰ کے وعدوں  میں  شک کرتے تھے تو  اللہ تعالیٰ آخرت میں  انہیں  اُن کے اعمال کی جزا دے کر ان وعدوں  کا حق ہونا ظاہر فرمادے گا۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۳ / ۳۴۵)

سید المرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بلند مقام:

            قرآنِ کریم میں  کسی گناہ پر ایسی سختی ،  شدت اور تکرار و تاکید نہیں  فرمائی گئی جیسی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے اوپر بہتان باندھنے پر فرمائی گئی ،  اس سے تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رِفْعَتِ منزلت ظاہر

ہوتی ہے۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ص۷۷۵)اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے آپ سے نسبت رکھنے والوں  کا بھی  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مقام بہت بلند ہے اور جس کی جتنی نسبت قریب ہے اس کا اتنا ہی مقام بلند ہے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نسبت رکھنے والوں  کی بے ادبی  اللہ تعالیٰ کے غضب و جلال کا حق دار ٹھہرنے کا باعث ہے۔

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ-اُولٰٓىٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: گندیاں  گندوں  کے لیے اور گندے گندیوں  کے لیے اور ستھریاں  ستھروں  کے لیے اور ستھرے ستھریوں  کے لیے وہ پاک ہیں  ان باتوں  سے جو یہ کہہ رہے ہیں  ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: گندی عورتیں  گندے مردوں  کیلئے ہیں  اور گندے مرد گندی عورتوں  کیلئے ہیں  اور پاکیزہ عورتیں  پاکیزہ مردوں  کیلئے ہیں  اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں  کیلئے ہیں ۔ وہ ان باتوں  سے بَری ہیں  جو لوگ کہہ رہے ہیں ۔ ان (پاکیزہ لوگوں ) کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

{اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ: گندی عورتیں  گندے مردوں  کیلئے ہیں ۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ گندے کے لئے گندہ لائق ہے ،  گندی عورت گندے مرد کے لئے اورگندہ مرد گندی عورت کے لئے اور گندہ آدمی گندی باتوں  کے درپے ہوتا ہے اور گندی باتیں  گندے آدمی کا وَطیرہ ہوتی ہیں  اور پاکیزہ عورتیں  پاکیزہ مردوں  کیلئے ہیں  اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں  کیلئے ہیں ۔ وہ پاک مرد اور عورتیں  جن میں  سے حضرت عائشہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا اور حضرت صفوان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ ہیں  ،  ان باتوں  سے بَری ہیں  جویہ تہمت لگانے والے کہہ رہے ہیں ۔ ان پاکیزہ لوگوں  کے لیے بخشش اور جنت میں  عزت کی روزی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی فضیلت اور خصوصیات:

             اس آیت سے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کا کمالِ فضل و شرف ثابت ہواکہ وہ طَیِّبہ اور پاک پیدا کی گئیں  اور قرآنِ کریم میں  اُن کی پاکی کا بیان فرمایا گیا اور انہیں  مغفرت اور رزقِ کریم کا وعدہ دیا گیا۔اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کو  اللہ تعالیٰ نے بہت سے خَصائِص عطا فرمائے جو آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے لئے قابلِ فخر ہیں  ،  ان میں  سے بعض یہ ہیں :

(1)…حضرت جبریلِ اَمین عَلَیْہِ  السَّلَام رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  ایک ریشمی کپڑے پر آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی تصویر لائے اور عرض کیا کہ یہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زوجہ ہیں ۔

(2)… نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے سوا کسی کنواری عورت سے نکاح نہ فرمایا۔

 (3)…رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے گھر تشریف آوری کے دِن ہوئی۔

(4)… آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ہی کا حجرۂ شریفہ حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آرام گاہ بنا۔

(5)… بعض اوقات ایسی حالت میں  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہوئی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لحاف میں  ہوتیں ۔

(6)… آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلیفہ حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی دُختر ہیں۔

(7)… آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا پاک پیدا کی گئیں  اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا سے مغفرت و رزقِ کریم کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔(خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۳ / ۳۴۶ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۷۷۶ ،  ملتقطاً)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنے گھروں  کے سوا اور گھروں  میں  نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکِنوں  پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنے گھروں  کے سوا اور گھروں  میں  داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں  رہنے والوں پر سلام نہ کرلو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت مان لو۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں   اللہ تعالیٰ نے دوسروں  کے گھروں  میں  جانے کے آداب اور احکام بیان فرمائے ہیں ۔ شانِ نزول: حضرت عدی بن ثابت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ انصار کی ایک عورت نے بارگاہ ِرسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  اپنے گھر میں  میری حالت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ میں  نہیں  چاہتی کہ کوئی مجھے اس حالت میں  دیکھے ،  چاہے وہ میرے والد یا بیٹا ہی کیوں  نہ ہو اورمیری اسی حالت میں  گھر میں  مردوں  کا آنا



Total Pages: 235

Go To