Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اس پر چار گواہ کیوں  نہ لائے تو جب گواہ نہ لائے تو وہی  اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں ۔اور اگر  اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں  نہ ہوتی تو جس چرچے میں  تم پڑے اس پر تمہیں  بڑا عذاب پہنچتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس پر چار گواہ کیوں  نہ لائے تو جب وہ گواہ نہ لائے تو وہی  اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں ۔اور اگر دنیا اور آخرت میں   اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تی تو جس معاملے میں  تم پڑگئے تھے اس پر تمہیں  بڑا عذاب پہنچتا۔

{لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ: اس پر کیوں  نہ لائے۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے والوں  سے فرمایا کہ وہ اپنے بہتان پر گواہ کیوں  نہ لائے جو ا س کی گواہی دیتے اور جب وہ گواہ نہیں  لائے تو وہی  اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ۳ / ۳۴۳)

            یاد رہے کہ یہاں  جھوٹے ہونے سے ظاہری اور باطنی طور پر جھوٹا ہونامراد ہے اور اگر بالفرض وہ گواہ لے بھی آتے تو ظاہراً جھوٹے نہ رہتے اگرچہ در حقیقت پھر بھی وہ اور ان کے سارے گواہ جھوٹے ہوتے۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ۶ / ۱۲۷)

{وَ لَوْ لَا: اور اگرنہ ہوتا۔} اس آیت میں  بہتان لگانے والوں  سے مزیدفرمایا کہ اگر دنیا اور آخرت میں  تم پر  اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ،  جس میں  سے توبہ کے لئے مہلت دینا بھی ہے اور آخرت میں  عفو و مغفرت فرمانا بھی تو جس بہتان میں  تم پڑے تھے اس پر تمہیں  بڑا عذاب پہنچتا۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۳ / ۳۴۳)

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا ﳓ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جب تم ایسی بات اپنی زبانوں  پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں  علم نہیں  اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ  اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب تم ایسی بات ایک دوسرے سے سن کر اپنی زبانوں  پرلاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہتے تھے جس کا تمہیں  کوئی علم نہ تھا اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے حالانکہ وہ  اللہ کے نزدیک بہت بڑاتھا۔

{اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ: جب تم اس کو ایک دوسرے سے سن کر اپنی زبانوں  پرلاتے تھے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ بڑا عذاب اس وقت پہنچ جاتا جب تم اس بہتان کو ایک دوسرے سے سن کر اپنی زبانوں  پرلاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہتے تھے جس کا تمہیں  کوئی علم نہ تھا اور تم اسے ہلکا سا معاملہ سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اس میں  بڑا گناہ نہیں حالانکہ وہ  اللہ تعالیٰ کے نزدیک جرمِ عظیم تھا۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۶ / ۱۲۷ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۷۷۳ ،  ملتقطاً)

سب صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ عادل ہیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے گناہ اور مَعصِیَّت صادِر ہوئی مگر وہ اس پر قائم نہ ہوئے بلکہ انہیں  توبہ کی توفیق ملی ،  لہٰذا یہ درست ہے کہ سارے صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ عادل ہیں ۔  اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں  فرمایا ہے:

’’وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى‘‘(حدید:۱۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان سب سے  اللہ نے سب سے اچھی چیز (جنت) کا وعدہ فرمالیا ہے۔

اور فرماتا ہے:

’’رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ‘‘( توبہ:۱۰۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان سب سے  اللہ راضی ہوا اور یہ  اللہ سے راضی ہیں ۔

             اور یہ بات ظاہر ہے کہ  اللہ تعالیٰ فاسق سے راضی نہیں  ہوتا اورنہ اس سے جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا ﳓ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کیوں  نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں  نہیں  پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الہٰی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیوں  نہ ہوا کہ جب تم نے اُسے سنا تھا تو تم کہہ دیتے کہ ہمارے لئے جائز نہیں  کہ یہ بات کہیں۔(اے اللّٰہ!) تو پاک ہے ، یہ بڑا بہتان ہے۔

{وَ لَوْ لَا: اور کیوں  نہ ہوا۔}ارشاد فرمایا کہ جب تم نے بہتان سنا تھا تو اس وقت یہ کیوں  نہ ہوا کہ تم کہہ دیتے : ہمارے لئے درست نہیں  کہ یہ بہتان والی بات کہیں  کیونکہ یہ درست ہوہی نہیں  سکتی۔ یہاں  ایک مسئلہ ذہن نشین رہے کہ کسی نبی عَلَیْہِ  السَّلَام کی بیوی کافر تو ہوسکتی ہے لیکن بدکار ہرگز نہیں  ہوسکتی کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کفار کی طرف مبعوث ہوتے ہیں  تو ضروری ہے کہ جو چیز کفار کے نزدیک بھی قابلِ نفرت ہو اس سے وہ پاک ہوں  اور ظاہر ہے کہ عورت کی بدکاری اُن کے نزدیک قابلِ نفرت ہے۔( تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۸ / ۳۴۳-۳۴۴ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۷۷۳)

 حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا پر لگائی گئی تہمت واضح بہتان تھی:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا پر لگائی گئی تہمت کا بہتان ہونا بالکل ظاہر تھا۔ اسی لئے بہتان نہ کہنے والوں  اور توقف کرنے والوں  پر عِتاب ہوا ،  البتہ چونکہ یہ حضورِ انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گھر کا معاملہ تھا اس لئے آپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خاموشی حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے معاملے کو نہ جاننے کی وجہ سے نہ تھی بلکہ وحی کے انتظار کی وجہ سے تھی کیونکہ اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے علم کی بناء پر اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  



Total Pages: 235

Go To