Book Name:Sirat ul jinan jild 6

             اس طرح بہت سے صحابہ اور بہت سی صحابیات رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے قسمیں  کھائیں ۔ آیت نازل ہونے سے پہلے ہی اُمُّ  المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی طرف سے دل مطمئن تھے ،  آیت کے نزول نے ان کی عزت و شرافت اور زیادہ کردی تو بدگویوں  کی بدگوئی  اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کِبار رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے نزدیک باطل ہے اور بدگوئی کرنے والوں  کے لئے سخت ترین مصیبت ہے۔

{لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ: تم اس بہتان کو اپنے لیے برا نہ سمجھو۔} یعنی اے بہتان سے بچنے والو!تم اس بہتان کو اپنے لیے برا نہ سمجھو ،  بلکہ بہتان سے بچناتمہارے لیے بہتر ہے کہ  اللہ  تَبَارَک وَتَعَالٰی  تمہیں  اس پر جزا دے گا اور اُمُّ  المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی شان اور ان کی براء ت ظاہر فرمائے گا ،  چنانچہ اس براء ت میں   اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ آیتیں  نازل فرمائیں۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۷۷۱ ،  ملخصاً)

{ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ: ان میں  سے ہر شخص کیلئے۔} یعنی ان بہتان لگانے والوں  میں سے ہر شخص کے لئے اس کے عمل کے مطابق گنا ہ ہے کہ کسی نے طوفان اُٹھایا ،  کسی نے بہتان اُٹھانے والے کی زبانی موافقت کی ،  کوئی ہنس دیا ،  کسی نے خاموشی کے ساتھ سن ہی لیا ،  الغرض جس نے جو کیا اس کا بدلہ پائے گا۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۷۷۱-۷۷۲)

{وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ: ان میں  سے وہ شخص جس نے اس کاسب سے بڑا حصہ اُٹھایا۔} یعنی ان بہتان لگانے والوں  میں  سے وہ شخص جس نے اس بہتان کاسب سے بڑا حصہ اٹھایا کہ اپنے دل سے یہ طوفان گڑھا اور اس کو مشہور کرتا پھرا اس کے لیے آخرت میں  بڑا عذاب ہے۔ آیت میں  جس کا ذکر ہے اس سے مراد عبد اللہ بن اُبی بن اَبی سلول منافق ہے۔

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ- وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کیوں  نہ ہوا جب تم نے اسے سُنا تھا کہ مسلمان مَردوں  اور مسلمان عورتوں  نے اپنوں  پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایسا کیوں  نہ ہواکہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں  اپنے لوگوں  پر نیک گمان کرتے اور کہتے: یہ کھلا بہتان ہے۔

{ لَوْ لَا: ایسا کیوں  نہ ہوا۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ ایسا کیوں  نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں  اپنے لوگوں  پر نیک گمان کرتے کیونکہ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کرے کہ بدگمانی ممنوع ہے۔ نیز لوگ سن کرکہتے کہ یہ کھلا بہتان ہے ،  بالکل جھوٹ ہے اوربے حقیقت ہے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۳ / ۳۴۳ ،  تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۸ / ۳۴۱ ،  ملتقطاً)

            صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’بعضے گمراہ بے باک یہ کہہ گزرتے ہیں  کہ سید ِعالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ کو مَعَاذَ اللہ اس معاملہ میں  بدگمانی ہوگئی تھی ،  وہ مُفتری کذّاب (یعنی جھوٹا بہتان لگانے والے) ہیں  اور شانِ رسالت میں  ایسا کلمہ کہتے ہیں  جو مؤمنین کے حق میں  بھی لائق نہیں  ہے۔  اللہ تعالیٰ مؤمنین سے فرماتا ہے کہ تم نے نیک گمان کیوں  نہ کیا تو کیسے ممکن تھا کہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ وَسَلَّمَ بدگمانی کرتے اور حضور (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی نسبت بدگمانی کا لفظ کہنا بڑی سیاہ باطنی ہے ،  خاص کر ایسی حالت میں  جب کہ بخاری شریف کی حدیث میں  ہے کہ حضور( صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )نے بَقسم فرمایا کہ میں  جانتا ہوں  کہ میرے اہل پاک ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر بدگمانی کرنا ناجائز ہے اور جب کسی نیک شخص پر تہمت لگائی جائے تو بغیر ثبوت مسلمان کو اس کی موافقت اور تصدیق کرنا روا نہیں ۔( خزائن العرفان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۶۵۱-۶۵۲)

بد ُگمانی سے بچنے کی ترغیب:

             قرآن مجید میں  مسلمانوں  کو بد ُگمانی سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے ، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ‘‘(حجرات:۱۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنےسے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔

            اسی طرح کثیر اَحادیث میں  بھی بد گمانی سے بچنے اور اچھا گمان رکھنے کافرمایا گیا ہے ، ان میں  سے 4اَحادیث درج ذیل ہیں  ،

(1)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اپنے بھائی سے بدگمانی کی بے شک اس نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے بدگمانی کی ،  کیونکہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے ’’اِجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ‘‘ ترجمہ: بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔( در منثور ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۷ / ۵۶۶)

(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔( بخاری ،  کتاب الفراءض ،  باب تعلیم الفرائض ،  ۴ / ۳۱۳ ،  الحدیث: ۶۷۲۴)

 (3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’     حُسنِ ظن عمدہ عبادت ہے۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی حسن الظنّ ،  ۴ / ۳۸۷ ،  الحدیث: ۴۹۹۳)

(4)…حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :’’تم اپنے بھائی کے منہ سے نکلنے والی کسی بات کا اچھا مَحمل پاتے ہو تو اس کے بارے میں  بد ُگمانی نہ کرو۔( در منثور ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۷ / ۵۶۶)

             اللہ تعالیٰ ہمیں  بد ُگمانی سے بچنے اور اپنے مسلمان بھائیوں  کے ساتھ اچھا گمان رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔([1])

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَۚ-فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۳)وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ(۱۴)

 



[1] ۔۔۔ بد ُگمانی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’بد ُگمانی‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 235

Go To