Book Name:Sirat ul jinan jild 6

لعان کے بعد قاضی کے جدائی کروا دینے سے میاں  بیوی میں  جدائی واقع ہوگی ،  بغیر قاضی کے نہیں  اور یہ جدائی طلاقِ بائنہ ہوگی۔ اور اگر مرد گواہی دینے کی اہلیت رکھنے والوں  میں  سے نہ ہو مثلاً غلام ہو یا کافر ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو تو لعان نہ ہوگا اور تہمت لگانے سے مرد پر حد ِقذف لگائی جائے گی اور اگر مرد گواہی کی اہلیت رکھنے والوں  میں  سے ہو اور عورت میں  یہ اہلیت نہ ہو ،  اس طرح کہ وہ باندی ہو یا کافرہ ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو یا بچی ہو یا مجنونہ ہو یا زانیہ ہو ،  اس صورت میں  نہ مرد پر حد ہوگی اور نہ لعان۔

            نوٹ: لعان سے متعلق مزید مسائل کی معلومات کے لئے بہارِ شریعت جلد2 حصہ8سے ’’لِعان کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔

{وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ: اور اگر  اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی۔} یعنی اے تہمت لگانے والے مردو اور تہمت لگائی گئی عورتو! اگر تم پر  اللہ تعالیٰ کا فضل اور ا س کی رحمت نہ ہوتی اور  اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا اور اپنے تمام افعال و احکام میں  حکمت والا نہ ہوتا تو وہ تمہارے راز کھول دیتا اور اس کے بعد تمہارا حال بیان سے باہر ہوتا۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۶ / ۱۲۱)

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْؕ-لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْؕ-بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِۚ-وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں  تمہیں  میں  کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لیے بُرا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں  ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں  وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ بڑا بہتان لائے ہیں  وہ تم ہی میں  سے ایک جماعت ہے۔ تم اس بہتان کو اپنے لیے برا نہ سمجھو ،  بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں  سے ہر شخص کیلئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں  سے وہ شخص جس نے اس بہتان کاسب سے بڑا حصہ اٹھایا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ: بیشک جو بڑا بہتان لائے ہیں ۔} یہ آیت اور ا س کے بعد والی چند آیتیں  اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی شان میں  نازل ہوئیں  جن میں  آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی عفت و عصمت کی گواہی خود ربُّ العالَمین نے دی اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا پر تہمت لگانے والے منافقین کو سزا کا مژدہ سنایا۔

واقعہ ِاِفک:

            آیت میں  مذکور بڑے بہتان سے مراد اُمُّ  المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا پر تہمت لگانا ہے۔ اس کا واقعہ کچھ یوں  ہوا کہ   5   ؁ ہجری میں  غزوہ بنی مُصْطَلَقْ سے واپسی کے وقت قافلہ مدینہ منورہ کے قریب ایک پڑاؤ پر ٹھہرا ، تواُمُّ  المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا  ضرورت کے لئے کسی گوشے میں  تشریف لے گئیں  ،  وہاں  آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کاہار ٹوٹ گیا تو آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا اس کی تلاش میں  مصروف ہوگئیں ۔ اُدھر قافلے والوں  نے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کا مَحمِل شریف اونٹ پر کَس دیا اور انہیں  یہی خیال رہا کہ اُمُّ  المؤمنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا اس میں  ہیں  ،  اس کے بعد قافلہ وہاں  سے کوچ کر گیا۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا واپس تشریف لائیں  تو قافلہ وہاں  سے جا چکا تھا۔ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا ا س خیال سے وہیں  قافلے کی جگہ پر بیٹھ گئیں  کہ میری تلاش میں  قافلہ ضرور واپس آئے گا۔ عام طور پر معمول یہ تھا کہ قافلے کے پیچھے گر ی پڑی چیز اُٹھانے کے لئے ایک صاحب رہا کرتے تھے ،  اس موقع پر حضرت صفوان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ اس کام پر مامور تھے۔ جب وہ اس جگہ پر آئے اور اُنہوں  نے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو بلند آواز سے ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پکارا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا نےکپڑے سے پردہ کرلیا۔ انہوں  نے اپنی اُونٹنی بٹھائی اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا اس پر سوار ہو کر لشکر میں  پہنچ گئیں ۔ اس وقت سیاہ باطن منافقین نے غلط باتیں  پھیلائیں  اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی شان میں  بدگوئی شروع کر دی ،  بعض مسلمان بھی اُن کے فریب میں  آگئے اور اُن کی زبان سے بھی کوئی بیجا کلمہ سرزد ہوا۔ اسی دوران اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا بیمار ہوگئی تھیں  اور ایک ماہ تک بیمار رہیں  ،  بیماری کے عرصے میں  انہیں  اطلاع نہ ہوئی کہ اُن کے بارے میں  منافقین کیا کہہ رہے ہیں ۔ ایک روز حضرت اُمِ مِسْطَح رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا سے انہیں  یہ خبر معلوم ہوئی۔ اس سے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کا مرض اور بڑھ گیا اور اس صدمے میں  اس طرح روئیں  کہ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ ایک لمحہ کے لئے نیند آتی تھی ،  اس حال میں  دو عالَم کے سردار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہوئی اور حضرتِ اُمُّ  المؤمنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی پاکی میں  یہ آیتیں  اُتریں  اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کا شرف و مرتبہ  اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑھایا کہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں  آپ کی طہارت و فضیلت بیان فرمائی۔ اس دوران میں  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی حضرت عائشہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کیلئے برسر ِمنبرخیر کے کلمات ہی ارشاد فرمائے ،  چنانچہ فرمایا: میں  اپنے اہل کے متعلق سوائے خیر کے کچھ نہیں  جانتا۔( بخاری ،  کتاب المغازی ،  باب حدیث الافک ،  ۳ / ۶۱ ،  الحدیث: ۴۱۴۱)

             حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ’’ منافقین یقینی طور پر جھوٹے ہیں  ،  اُمُّ  المؤمنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا یقینی طور پر پاک ہیں ۔  اللہ تعالیٰ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جسم پاک کو مکھی کے بیٹھنے سے محفوظ رکھا کہ وہ نجاستوں  پر بیٹھتی ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بدعورت کی صحبت سے محفوظ نہ رکھے۔

            حضرتِ عثمان غنی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے بھی اس طرح آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی طہارت بیان کی اور فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سایہ زمین پر نہ پڑنے دیا تاکہ اس سایہ پر کسی کا قدم نہ پڑے تو جو پروردگار عَزَّوَجَلَّ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سایہ کو محفوظ رکھتا ہے کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہل کو محفوظ نہ فرمائے۔

             حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ ایک جوں  کا خون لگنے سے پروردگارِ عالَم عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نعلین اتار دینے کا حکم دیا توجو پروردگار عَزَّوَجَلَّ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعلین شریف کی اتنی سی آلودگی کوگوارا نہ فرمائے توکیسے ہوسکتا ہے کہ وہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہل کی آلودگی گوارا کرے۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۷۷۲ ،  ملخصاً)

 



Total Pages: 235

Go To