Book Name:Sirat ul jinan jild 6

لوگ محراب کے پیچھے انتظار میں  تھے کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے لئے دروازہ کھولیں  تو وہ داخل ہوں  اور نماز پڑھیں   ،  جب حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام باہر آئے تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رنگ بدلا ہوا تھا اور آپ گفتگو نہیں  فرما سکتے تھے ۔یہ حال دیکھ کر لوگوں  نے دریافت کیا: کیا حال ہے؟ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں  اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو اور عادت کے مطابق فجر و عصر کی نمازیں  ادا کرتے رہو  ،  اب حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے کلام نہ کر سکنے سے جان لیا کہ آپ کی بیوی صاحبہ حاملہ ہو گئی ہیں۔(خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۳ / ۲۳۰ ،  جلالین ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۲۵۴ ،  ملتقطاً)

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍؕ-وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے بچپن ہی میں  نبوت دی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے یحیٰ ! کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں  حکمت عطافرما دی تھی۔

{یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ:اے یحیٰ !کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو ۔} حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کے بعد جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عمر دو سال ہوئی تو  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ اے یحیٰ ! کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور اس پر عمل کی بھرپور کوشش کرو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں  حکمت عطا فرما دی تھی جب کہ آپ کی عمر شریف تین سال کی تھی  ،  اس وقت میں   اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے آپ کو کا مل عقل عطا فرمائی اور آپ کی طرف وحی کی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں  فہم و فراست اور عقل و دانش کا کمال ،  خَوارقِ عادات (یعنی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات) میں  سے ہے اور جب  اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ حاصل ہو تو اس حال میں  نبوت ملنا کچھ بھی بعید نہیں  ،  لہٰذا اس آیت میں  حکم سے نبوت مراد ہے اور یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسرین نے اس سے حکمت یعنی توریت کا فہم اور دین میں  سمجھ بھی مراد لی ہے۔( جلالین ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۲۵۴ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۳ / ۲۳۰ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۶۶۹ ،  تفسیر کبیر ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۷ / ۵۱۶-۵۱۷ ،  ملتقطاً)

 ہماری پیدائش کا اصلی مقصد:

            حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ میرے بھائی حضرت یحیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر رحم فرمائے ،  جب انہیں  بچپن کی حالت میں  بچوں  نے کھیلنے کے لئے بلایا تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے (ان بچوں  سے) کہا: کیا ہم کھیل کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ؟ (ایسا نہیں  ہے ،  بلکہ ہمیں  عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی ہم سے مطلوب ہے۔ جب نابالغ بچہ اس طرح کہہ رہا ہے تو )اس بندے کا قول کیسا ہونا چاہئے جو بالغ ہو چکا ہے۔(ابن عساکر ،  حرف الیاء ،  ذکر من اسمہ یحی ،  یحی بن زکریا بن نشوی۔۔۔ الخ ،  ۶۴ / ۱۸۳)

                اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں  پیدا کئے جانے کا اصلی مقصد یہ نہیں  کہ ہم کھیل کود اور دُنْیَوی عیش و لذّت میں  اپنی زندگی بسر کریں  بلکہ ہماری پیدائش کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ہم  اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں  ۔اسی چیز کو قرآنِ مجید میں  اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ :

’’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘‘(مومنون:۱۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایااور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے؟

 اور ارشاد فرمایا کہ:

’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘ (ذاریات:۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

             اللہ تعالیٰ ہمیں  فضول اور بیکار کاموں  اور اُخروی تیاری سے غافل کر دینے والے اُمور سے بچنے اور ہمیں  اپنی اطاعت و عبادت میں  زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةًؕ-وَ كَانَ تَقِیًّاۙ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنی طرف سے مہربانی اور ستھرائی اور کمال ڈر والا تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنی طرف سے نرم دلی اورپاکیزگی دی اور وہ ( اللہ سے) بہت زیادہ ڈرنے والا تھا۔

{وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا:اور اپنی طرف سے نرم دلی دی۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی 3 صفات بیان فرمائی ہیں  ۔

(1)… اللہ تعالیٰ نے انہیں  اپنی طرف سے نرم دلی عطا کی اور ان کے دل میں  رِقَّت و رحمت رکھی تا کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں  پر مہربانی کریں  اور انہیں   اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی دعوت دیں ۔

(2)… اللہ تعالیٰ نے انہیں  پاکیزگی دی ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  کہ یہاں  پاکیزگی سے طاعت و اخلاص مراد ہے۔ اور حضرت قتادہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ پاکیزگی سے مراد عملِ صالح ہے۔( بغوی ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ۳ / ۱۵۹)

(3)… وہ  اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والا تھا۔ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ تعالیٰ کے خوف سے بہت گریہ و زاری کرتے تھے یہاں  تک کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رخسار مبارکہ پر آنسوؤں  سے نشان بن گئے تھے ۔

حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نرم دلی اور رحمت:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نرم دلی اور رحمت ان الفاظ ’’ وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا‘‘کے ساتھ بیان فرمائی  ، اور اپنے حبیبصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ



Total Pages: 235

Go To