Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{قَالَ:کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں  جدا ہونے سے پہلے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان باتوں  کا اصل مطلب بتاؤں  گا جن پر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامصبر نہ کرسکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں  گا۔( مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ص۶۶۰ ،  جمل ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۴ / ۴۴۶ ،  ملتقطاً)

آیت’’ قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…اگر اپنا قریبی ساتھی یا ماتحت شخص کوئی ایسا کام کرے جس کی وجہ سے اسے خود سے دور کرنے کی صورت بنتی ہو تو فوراً اسے دور نہ کر دے بلکہ ایک یادو مرتبہ اسے معاف کر دیا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے اور ساتھ میں  مناسب تنبیہ بھی کر دی جائے تاکہ وہ اپنی کوتاہی یا غلطی پر آگاہ ہو جائے اور اگر وہ تیسری بار پھر وہی کام کرے تو اب چاہے تو اسےخود سے دور کر دے۔

(2)…اگر اپنے قریبی ساتھی کو خود سے دور کرے تو اسے دور کرنے کی وجہ بتا دے تاکہ اس کے پاس اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے۔

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا(۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں  کی تھی کہ دریا میں  کام کرتے تھے تو میں  نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں  اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو کشتی تھی تووہ کچھ مسکین لوگوں  کی تھی جو دریا میں  کام کرتے تھے تو میں  نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں  اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔

{اَمَّا السَّفِیْنَةُ:وہ جو کشتی تھی۔} حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں  نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا ،  اس سے میرا مقصد کشتی والوں  کو ڈبو دینا نہیں  تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں  کی تھی ،  ان میں  پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں  کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں  کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں  واپسی میں  اس کے پاس سے گزرنا تھا ،  کشتی والوں  کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں  نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں  کے لئے بچ جائے۔( تفسیرکبیر ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ۷ / ۴۹۰-۴۹۱ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ۳ / ۲۲۰-۲۲۱ ،  ملتقطاً)

آیت ’’ اَمَّا السَّفِیْنَةُ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…  اللہ تعالیٰ اپنے مسکین بندوں  پرخاص عنایت اور کرم نوازی فرماتا ہے اور ان پر آنے والے مَصائب اور آفات کو دور کرنے میں  کفایت فرماتا ہے۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مسکین لوگ امیروں  سے چالیس سال پہلے جنت میں  داخل ہوں  گے۔ اے عائشہ ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ،  مسکین (کے سوال )کو کبھی رد نہ کرنا اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو اور اے عائشہ ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ،  مسکینوں  سے محبت رکھنا اور انہیں  اپنے قریب کرنا (کہ ایسا کرنے سے)  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے اپنا قرب نصیب فرمائے گا۔(ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء انّ فقراء المہاجرین یدخلون الجنّۃ قبل اغنیائہم ،  ۴ / ۱۵۷ ،  الحدیث: ۲۳۵۹)

(2)…بڑے نقصان اور بڑی تکلیف سے بچنے کے لئے چھوٹے نقصان اور چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لینا بہتر ہے ،  جیسے یہاں  مسکینوں  نے چھوٹے نقصان یعنی کشتی کا تختہ اکھاڑ دئیے جانے کو برداشت کیا تو وہ بڑے نقصان یعنی پوری کشتی چھن جانے سے بچ گئے ۔

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ(۸۰) فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا(۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں  باپ مسلمان تھے تو ہمیں  ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے۔ تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں  کا رب اس سے بہتر ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں  قریب عطا کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو لڑکا تھا تواس کے ماں  باپ مسلمان تھے تو ہمیں  ڈر ہوا کہ وہ لڑکاانہیں  بھی سرکشی اور کفر میں  ڈال دے گا۔تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں  پاکیزگی میں  پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں  زیادہ مہربان عطا کردے۔

{وَ اَمَّا الْغُلٰمُ:اور وہ جو لڑکا تھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیانکرتے ہوئے حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ وہ لڑکا جسے میں  نے قتل کیا تھا ،  اس کے ماں  باپ مسلمان تھے تو ہمیں  ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں  بھی سرکشی اور کفر میں  ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں  دین سے پھر جائیں  اور گمراہ ہوجائیں  گے ،  اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب عَزَّوَجَلَّ اس لڑکے سے بہتر  ، گناہوں  اور نجاستوں  سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے ،  ان سے حسنِ سلوک کرے اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۰-۸۱ ،  ۵ / ۲۸۵ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۰-۸۱ ،  ۳ / ۲۲۱ ،  ملتقطاً)

            یاد رہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے خبر دینے کی وجہ سے اس لڑکے کے باطنی حال کو جانتے تھے۔( جمل ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ۴ / ۴۴۷)مسلم شریف میں حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس لڑکے کو حضرت خضر عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قتل کر دیا تھا وہ  کافر ہی پیدا ہوا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں  باپ کو کفر اور سرکشی میں  مبتلا کر دیتا۔( مسلم ،  کتاب القدر ،  باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ ،  ص۱۴۳۰ ،  الحدیث:



Total Pages: 235

Go To