Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کہ ’’اگلے لوگوں  کو اس بات نے ہلاک کیا کہ اگر اُن میں  کوئی شریف چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے ،  خدا کی قسم ! اگر فاطمہ بنت ِمحمد صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چوری کرتی تو میں  اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔( بخاری ،  کتاب احادیث الانبیاء ،  ۵۶-باب ،  ۲ / ۴۶۸ ،  الحدیث: ۳۴۷۵)

             اس آیت اور روایات سے اِقتدار کی مَسنَدوں  پر فائز ان مسلمانوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ جو  اللہ تعالیٰ کی حدوں  کو قائم کرنے کی بجائے الٹا ان میں  تبدیلیاں  کرنے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقل ِسلیم عطا فرمائے۔

{وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ: اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں  کا ایک گروہ موجود ہو۔} یعنی جب زنا کرنے والوں  پر حد قائم کی جارہی ہو تو ا س وقت مسلمانوں  کا ایک گروہ وہاں  موجود ہو تاکہ زنا کی سزا دیکھ کر انہیں  عبرت حاصل ہو اور وہ اس برے فعل سے باز رہیں ۔

زنا کی مذمت:

            زنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآنِ مجیدمیں  ا س کی بہت شدید مذمت کی گئی ہے ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا‘‘(بنی اسراءیل:۳۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُرا راستہ ہے۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ(۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًا‘‘(فرقان:۶۸ ،  ۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ  کے ساتھ کسی دوسرے  معبود کی عبادت نہیں  کرتے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں  کرتے جسے  اللہ  نے حرام فرمایا ہے اور بدکاری نہیں  کرتے اور جو یہکام کرے گاوہ سزا پائے گا۔اس کے لئے قیامت کے دن عذاب بڑھادیا جائے گا اور ہمیشہ اس میں  ذلت سے رہے گا۔

            نیز کثیر اَحادیث میں  بھی زنا کی بڑی سخت مذمت و برائی بیان کی گئی ہے ،  یہاں  ان میں  سے6اَحادیث ملاحظہ ہوں:

 (1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب بندہ زنا کرتا ہے تو اُس سے ایمان نکل کر سر پر سائبان کی طرح ہوجاتا ہے اور جب اس فعل سے جدا ہوتا ہے تو اُس کی طرف ایمان لوٹ آتا ہے۔( ترمذی ،  کتاب الایمان ،  باب ما جاء لا یزنی الزانی وہو مؤمن ،  ۴ / ۲۸۳ ،  الحدیث: ۲۶۳۴)

(2)…حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس قوم میں  زنا ظاہر ہوگا ،  وہ قحط میں  گرفتار ہوگی اور جس قوم میں  رشوت کا ظہور ہوگا ،  وہ رعب میں  گرفتار ہوگی۔(مشکوۃ المصابیح ،  کتاب الحدود ،  الفصل الثالث ،  ۲ / ۶۵۶ ،  الحدیث: ۳۵۸۲)

(3)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشاد فرمایا’’جس بستی میں  زنا اور سود ظاہر ہوجائے تو انہوں  نے اپنے لیے  اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کرلیا۔( مستدرک ،  کتاب البیوع ،  اذا ظہر الزنا والربا فی قریۃ فقد احلّوا بانفسہم عذاب اللّٰہ ،  ۲ / ۳۳۹ ،  الحدیث: ۲۳۰۸)

(4)…حضرت عثمان بن ابو العاص رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ آدھی رات کے وقت آسمانوں  کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں  ، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے کہ ’’ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ا س کی دعا قبول کی جائے ،  ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے ، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت دور کی جائے۔اس وقت پیسے لے کر زنا کروانے والی عورت اور ظالمانہ ٹیکس لینے والے شخص کے علاوہ ہر دعا کرنے والے مسلمان کی دعا قبول کر لی جائے گی۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ ابراہیم ،  ۲ / ۱۳۳ ،  الحدیث: ۲۷۶۹)

(5)…حضرت مقداد بن اسود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا’’زنا کے بارے میں  تم کیا کہتے ہو؟ انہوں  نے عرض کی:زنا حرام ہے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُسے حرام کیا ہے اوروہ قیامت تک حرام رہے گا۔ رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دس عورتوں  کے ساتھ زنا کرنا اپنے پڑوسی کی عورت کے ساتھ زنا کرنے (کے گناہ) سے ہلکاہے۔( مسند امام احمد ،  مسند الانصار رضی  اللہ عنہم  ،  بقیۃ حدیث المقداد بن الاسود رضی  اللہ تعالٰی عنہ  ،  ۹ / ۲۲۶ ،  الحدیث: ۲۳۹۱۵)

(6)…حضرت عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو شخص اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے گا تو قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ ا س کی طرف نظر ِرحمت نہ فرمائے گا اور نہ ہی اسے پاک کرے گا اور اس سے فرمائے گا کہ جہنمیوں  کے ساتھ تم بھی جہنم میں  داخل ہو جاؤ۔( مسند الفردوس ،  باب الزای ،  ۲ / ۳۰۱ ،  الحدیث: ۳۳۷۱)

             اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو زنا جیسے بد ترین گندے اورانتہائی مذموم فعل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً٘-وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌۚ-وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں  پر حرام ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے گااور یہ ایمان والوں  پر حرام ہے۔

{اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً: زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرنا پسندکرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرنا پسندکرے گا کیونکہ خبیث کا میلان خبیث ہی کی طرف ہوتا ہے ،  نیکوں  کو خبیثوں  کی طرف رغبت نہیں  ہوتی۔ اس آیت کا



Total Pages: 235

Go To