Book Name:Sirat ul jinan jild 6

دنیا میں  واپسی کا سوال تو صرف کفار کریں  گے (اور آپ مسلمانوں  کے بارے میں  ایسا کہہ رہے ہیں ) حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا:میں  اس کے بارے میں  تمہارے سامنے قرآن مجید کی آیات پڑھتا ہوں  ،  چنانچہ آپ نے سورہِ منافقون کی ان تین آیات کی تلاوت فرمائی۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ المنافقین ،  ۵ / ۲۰۸ ،  الحدیث: ۳۳۲۷)

                 لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ادائیگی اور ا س کے اَحکام کی بجا آوری میں  ہر گز ہر گز غفلت سے کام نہ لے اور دنیا کی زندگی میں  زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کر لے تاکہ موت کے وقت ایسے حال کا سامنا کرنے سے محفوظ رہے۔

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۱۰۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں  رشتے رہیں  گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جب صُورمیں  پھونک ماری جائے گی تو نہ ان کے درمیان رشتے رہیں  گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں  گے۔

{ فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ: تو جب صُورمیں  پھونک ماری جائے گی۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اس سے مراد پہلی مرتبہ صور میں  پھونک مارنا ہے جسے پہلا نَفخہ کہتے ہیں  اورحضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ ا س سے مراد دوسری مرتبہ صور میں  پھونک مارنا ہے جسے دوسرا نفخہ کہتے ہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰۱ ،  ۳ / ۳۳۲)اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب صورمیں  پھونک ماری جائے گی تولوگوں  کے درمیان کوئی رشتے نہ رہیں  گے جن پر وہ دنیا میں  فخر کیا کرتے تھے اوران میں  آپس کے نسبی تعلقات منقطع ہوجائیں  گے اور رشتے داری کی محبتیں  باقی نہ رہیں  گی اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائیوں  ،  ماں  باپ ،  بیوی اور بیٹوں  سے بھاگے گا اوراس وقت نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں  گےجیسا کہ دنیا میں  پوچھتے تھے کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا ،  پھر دوسری بارصور پھونکا جائے گا اور حساب کے بعد لوگ ایک دوسرے کا حال دریافت کریں  گے۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰۱ ،  ۶ / ۱۰۶-۱۰۷)

رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نسب اس وقت بھی فائدہ دے گا جب رشتے مُنقطع ہو جائیں گے:

             یاد رہے کہ ا س حکم میں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نسب داخل نہیں  ،  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نسب قیامت کے دن مومن سادات کو کام آئے گا۔یہاں  اس سے متعلق 4اَحادیث ملاحظہ ہوں:

(1)…حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ قیامت کے دن میرے نسبی اور سسرالی رشتے کے علاوہ ہر نسبی اور سسرالی رشتہ منقطع ہو جائے گا۔(معجم الاوسط ،  باب العین ،  من اسمہ: علی ،  ۳ / ۱۴۵ ،  الحدیث: ۴۱۳۲)

(2)… حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لوگوں  کو جمع کیا اور منبر پر تشریف لے گئے اور ارشادفرمایا’’ ان لوگوں  کا کیا حال ہے جو یہ گمان کرتے ہیں  کہ میری قَرابت نفع نہ دے گی۔ ہر تعلق اوررشتہ قیامت میں  منقطع ہوجائے گا مگرمیرا رشتہ اور تعلق (منقطع نہ ہوگا) کیونکہ دنیا وآخرت میں  جڑا ہواہے۔( مجمع الزواءد ،  کتاب علامات النبوّۃ ،  باب فی کرامۃ اصلہ صلی  اللہ علیہ وسلم ،  ۸ / ۳۹۸ ،  الحدیث: ۱۳۸۲۷)

(3)… امیر المومنین مولیٰ علی کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بہن حضرت اُمِّ ہانی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا کی بالیاں  کسی وجہ سے ایک بار ظاہر ہوگئیں  (حالانکہ انہیں  چھپانے کا حکم ہے) اس پر ان سے کہا گیا:محمد مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں نہ بچائیں  گے۔وہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِاقدس میں  حاضر ہوئیں  اور حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ واقعہ عرض کیا ،  حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ ان لوگوں  کا کیاحال ہے جو یہ گمان کرتے ہیں  کہ میری شفاعت میرے اہلِ بیت کو نہ پہنچے گی؟ بے شک میری شفاعت ضرور ’’حَا‘‘ اور ’’حَکَمْ‘‘ (نامی یمن کے دو قبیلوں ) کو بھی شامل ہے۔( معجم الکبیر ،  عبد الرحمٰن بن ابی رافع عن امّ ہانیٔ ،  ۲۴ / ۴۳۴ ،  الحدیث: ۱۰۶۰)

(4)…حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے اہل ِبیت میں  سے جو شخص  اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت اور میری رسالت پر ایمان لائے گا ، اسے عذاب نہ فرمائے گا۔(مستدرک ، کتاب معرفۃالصحابۃ رضی  اللہ تعالی عنہم ، وعدنی ربّی فی اہل بیتی ان لایعذّبہم ، ۴ / ۱۳۲ ،  الحدیث: ۴۷۷۲)

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۲) وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جن کی تولیں  بھاری ہوئیں  وہی مراد کو پہنچے۔اور جن کی تولیں  ہلکی پڑیں  وہی ہیں  جنہوں  نے اپنی جانیں  گھاٹے میں  ڈالیں  ہمیشہ دوزخ میں  رہیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جن کے پلڑے بھاری ہوں  گے تو وہی کامیاب ہونے والے ہوں  گے۔اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں  گے تو یہ وہی ہوں  گے جنہوں  نے اپنی جانوں  کو نقصان میں  ڈالا ،  (وہ) ہمیشہ دوزخ میں  رہیں  گے۔

{ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ: تو جن کے پلڑے بھاری ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا معنی یہ ہے کہ جس کے عقائد درست اور اعمال نیک ہوں  گے تو اس کے اعمال کا  اللہ تعالیٰ کے نزدیک وزن ہو گا اور یہی لوگ اپنا مقصد ومطلوب کو پا کر کامیاب ہوں  گے اور جن کے عقائد غلط اور اعمال نیک نہ ہوں  گے ،  ان کے اعمال کا  اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی وزن نہ ہو گا اور ان سے مراد کفار ہیں  ،  انہوں  نے اپنی جانوں  کو نقصان میں  ڈالا اوروہ ہمیشہ دوزخ میں  رہیں  گے۔(ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰۲-۱۰۳ ،  ۴ / ۶۴-۶۵)

            نوٹ: اعمال کے وزن سے متعلق مزید تفصیل کے لئے سورۂ اَعراف آیت نمبر8اور 9کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ(۱۰۴)اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے منہ پر آگ لپٹ مارے گی اور وہ اس میں  منہ چڑائے ہوں  گے۔ کیا تم پر میری آیتیں  نہ پڑھی جاتی تھیں  تو تم انہیں  جھٹلاتے تھے۔

 



Total Pages: 239

Go To