Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: تو بہت بلندی والا ہے  اللہ سچا بادشاہ کوئی معبود نہیں  سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تووہ  اللہ بہت بلندی والا ہے جو سچا بادشاہ ہے ،  اس کے سواکوئی معبود نہیں  ،  وہ عزت والے عرش کا مالک ہے۔

{فَتَعٰلَى اللّٰهُ: تو  اللہ بہت بلندی والا ہے۔} یعنی  اللہ تعالیٰ اپنی ذات ، صفات اور اَفعال میں  مخلوق کی مُماثلَت سے پاک ہے ، وہی سچا بادشاہ ہے اور ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کی بادشاہی میں  داخل ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں  کیونکہ تمام چیزیں  اسی کی ملکیت ہیں  اور جو ملکیت ہو وہ معبود نہیں  ہو سکتی اور وہ اس عرش کا مالک ہے جو عزت والا ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ کے کرم و رحمت کا فیضان یہیں  سے تقسیم ہوتا ہے اور ہر مخلوق میں  اس کی رحمت و کرم کے آثار یہیں  سے بٹتے ہیں ۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۱۶ ،  ۶ / ۱۱۲)

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ-لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ-فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ(۱۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو  اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں  تو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں  ہے بیشک کافروں  کو چھٹکارا نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو  اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں  تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہی ہے ،  بیشک کافرفلاح نہیں  پائیں  گے۔

{وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ: اور جو  اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرے۔} ارشاد فرمایا کہ جو  اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرے جس کی عبادت کرنے پر اس کے پاس کوئی دلیل نہیں  تو اس کا حساب اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہی ہے اور وہی اسے اس عمل کی سز ادے گا ،  بیشک کافر حساب کی سختی اور عذاب سے چھٹکارا نہیں  پائیں  گے اور انہیں  کوئی سعادت نصیب نہ ہوگی۔(روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۱۷ ،  ۶ / ۱۱۲-۱۱۳ ،  جلالین ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۱۷ ،  ص۲۹۳ ،  ملتقطاً)

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠(۱۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم عرض کرو اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم عرض کرو ،  اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔

{وَ قُلْ: اور تم عرض کرو۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو استغفار کرنے کا حکم دیا تاکہ امت اس میں  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی کرے اوربعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ اس آیت میں  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واسطے سے آپ کی امت کو استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔( قرطبی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۱۸ ،  ۶ / ۱۱۷ ،  الجزء الثانی عشر)

استغفار کا سردار:

            حضرت شداد بن اوس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’استغفار کا سردار یہ ہے کہ تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ ،  لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ،  خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ ،  وَ اَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ،  اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ،  اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْئُ بِذَنْبِی ، فَاغْفِرْلِی ،  فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ‘‘ یعنی الہٰی تو میرا رب ہے ،  تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،  تو نے مجھے پیدا کیا ،  میں  تیرا بندہ ہوں  اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں  ،  میں  اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں  ،  تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں  اور اپنے گناہوں  کا اقراری ہوں  ،  مجھے بخش دے تیرے سوا گناہ کوئی نہیں  بخش سکتا۔حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ جو یقینِ قلبی کے ساتھ دن میں  یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقینِ دل کے ساتھ رات میں  یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۔( بخاری ،  کتاب الدعوات ،  باب افضل الاستغفار ،  ۴ / ۱۸۹ ،  الحدیث: ۶۳۰۶)

سورۂ نور

سورۂ نور کا تعارف

مقامِ نزول:

             سورۂ نور مدینہ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ النور ،  ۳ / ۳۳۳)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس میں  9ر کوع اور64 آیتیں  ہیں ۔

’’نور ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            اس سورت کی آیت نمبر35اور 40میں  بکثرت لفظ’’نور‘‘ ذکر کیا گیا ہے ،  اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ نور‘‘ کہتے ہیں ۔

سورۂ نور کے بارے میں  اَحادیث:

(1) … حضرت مجاہد رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم اپنے مَردوں  کو سورۂ مائدہ سکھاؤ اور اپنی عورتوں  کو سورۂ نور کی تعلیم دو۔( شعب الایمان ،  التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  فصل فی فضاءل السور والآیات ،  ۲ / ۴۶۹ ،  الحدیث: ۲۴۲۸)

(2) …حضرت ا بووائل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ـ: میں  نے اور میرے ایک ساتھی نے حج کیا اور حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا بھی حج کر رہے تھے ، ایک جگہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سورۂ نور پڑھنے لگے اور ا س کی تفسیر بیان کرنا شروع ہوئے تومیرے ساتھی نے کہا’’اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ،  تو ہر نقص و عیب سے پاک ہے ،  یہ شخص کتنا بہترین کلام کر رہا ہے اگر ا س کلام کو ترکی لوگ سن لیں  تو وہ ایمان لے آئیں ۔( مستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی  اللہ تعالی عنہم ،  ذکر مجلس ابن عباس ،  ۴ / ۶۹۳ ،  الحدیث: ۶۳۴۶)

 



Total Pages: 235

Go To