Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک میرے بندوں  کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں  بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ تو تم نے انہیں  ٹھٹھا بنالیا یہاں  تک کہ انہیں  بنانے کے شغل میں  میری یاد بھول گئے اور تم ان سے ہنسا کرتے۔ بیشک آج میں  نے ان کے صبر کا انہیں  یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک میرے بندوں  کا ایک گروہ کہتا تھا: اے ہمارے رب!ہم ایمان لائے تو ہمیں  بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ تو تم نے انہیں  مذاق بنالیا یہاں  تک کہ ان لوگوں کا مذاق اڑانے نے تمہیں  میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔ بیشک آج میں  نے ان کے صبر کا انہیں  یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں ۔

{اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ: بیشک میرے بندوں  کا ایک گروہ کہتا تھا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! تمہارا حال یہ تھا کہ جب دنیا میں  میرے مومن بندوں  کا ایک گروہ کہتا تھا: اے ہمارے رب! ہم تجھ پر ایمان لائے اور ہم نے تیری اور جو کچھ تیری طرف سے آیا ا س کی تصدیق کی ،  توہمارے گناہوں  کو معاف فرما کر ہمیں  بخش دے اور ہم پر رحم فرما اورہمیں  جہنم سے نجات دے کر اور جنت میں  داخل فرما کر ہم پراپنا احسان فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے کیونکہ تیری رحمت ہی تمام رحمتوں  کا مَنبع ہے۔‘‘تو اے کافرو ، تم نے انہیں  مذاق بنالیا یہاں  تک کہ ان لوگوں کا مذاق اڑانے نے تمہیں  میری یاد بھلا دی اور تمہیں  میرے عذاب کا خوف نہ رہا اور تم ان سے ہنسا کرتے اور ان کا بہت مذاق اڑایا کرتے تھے۔بیشک آج میں  نے انہیں  تمہاری اَذِیَّتوں  اور مذاق اڑانے پر صبر کرنے کا یہ بدلہ دیا کہ وہی ہمیشہ کے لئے جنت کی نعمتیں  پا کر کامیاب ہیں ۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹-۱۱۱ ،  ۶ / ۱۰۹ ،  جلالین ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹-۱۱۱ ،  ص۲۹۳ ،  ملتقطاً)

            شانِ نزول : بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیتیں  ان کفارِ قریش کے بارے میں  نازل ہوئیں  جو حضرت بلال ،  حضرت عمار ، حضرت صہیب ،  حضرت خبّاب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ اوران جیسے دیگر فقراء صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ۳ / ۳۳۳)

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ(۱۱۲)قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْــٴَـلِ الْعَآدِّیْنَ(۱۱۳)قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا تم زمین میں  کتنا ٹھہرے برسوں  کی گنتی سے۔ بولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصہ تو گننے والوں  سے دریافت فرما۔ فرمایا تم نہ ٹھہرے مگر تھوڑا اگر تمہیں  علم ہوتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ فرمائے گا : تم زمین میں  سالوں  کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟وہ کہیں  گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں  تو گننے والوں  سے دریافت فرما۔ فرمائے گا: تم بہت تھوڑا ہی ٹھہرے ہو ،  اگرتم جانتے۔

{قٰلَ: فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دوآیات کاخلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے فرمائے گا کہ تم دنیا میں  اور قبر میں  سالوں  کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ کفار اس سوال کے جواب میں  کہیں  گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ۔ کفار یہ جواب اس وجہ سے دیں  گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب

کی ہَیبت سے انہیں  اپنے دنیا میں  رہنے کی مدت یاد نہ رہے گی اور انہیں  شک ہوجائے گا ،  اسی لئے کہیں  گے: اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ،  تواُن فرشتوں  سے دریافت فرما جنہیں  تو نے بندوں  کی عمریں  اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ہے۔  اللہ تعالیٰ کفار کو جواب دے گا کہ اگر تمہیں  دنیا میں  رہنے کی مدت معلوم ہوتی تو تم جان لیتے کہ آخرت کے مقابلے میں  دنیا میں  بہت ہی تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۱۲-۱۱۴ ،  ۳ / ۳۳۳)

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایا اور تمہیں  ہماری طرف پھرنا نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے؟

{اَفَحَسِبْتُمْ: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے کفار کو مزید سرزنش فرمائی کہ اے بد بختو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے ، ایسانہیں  بلکہ ہم نے تمہیں  عبادت کے لئے پیدا کیا تاکہ تم پر عبادت لازم کریں  اور آخرت میں  تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں  تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۱۵ ،  ص۷۶۷ ،  ملخصاً)

 اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غفلت دانشمندی نہیں :

            یاد رہے کہ ہماری زندگی کا اصلی مقصد  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے ، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘(الذاریات:۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

             اور یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں  بالکل آزاد نہیں  چھوڑا جائے گا کہ نہ ہم پر اَمرونَہی وغیرہ کے اَحکام ہوں  ،  نہ ہمیں  مرنے کے بعد اُٹھایا جائے نہ ہم سے اعمال کا حساب لیا جائے اور نہ ہمیں  آخرت میں  اعمال کی جزا دی جائے ،  ایسا نہیں  ہے ،  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى‘‘(القیامہ:۳۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں  ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔

            جب ہماری پیدائش کا اصل مقصد  اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور ہم شریعت کے احکام سے آزاد بھی نہیں  ہیں  اور ہمیں  قیامت کے دن اپنے ہر عمل کا حساب بھی بہر صورت دینا ہے تو  اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہو کر دنیا کے کام دھندوں  میں  ہی مصروف رہنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ(۱۱۶)

 



Total Pages: 235

Go To