Book Name:Sirat ul jinan jild 6

گناہوں  میں  مبتلا کرتے ہیں  اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اس سے کہ وہ شیطان میرے پاس آئیں۔(مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۷-۹۸ ،  ص۷۶۴-۷۶۵ ،  ملخصاً)

شیطان سے حفاظت انتہائی اہم چیز ہے:

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اگرچہ معصوم ہیں  لیکن چونکہ شیطان سے حفاظت انتہائی اہم چیز ہے ا س لئے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ دعا مانگنے کا حکم دیا گیا اور ا س سے مقصود سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو تعلیم دینا ہے کہ وہ شیطان اور اس کے وسوسوں  سے پناہ مانگتے رہا کریں ۔( صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ۴ / ۱۳۷۷)

{ وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ: اور اے میرے رب!میں  تیری پناہ مانگتا ہوں ۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شیطان کے وسوسوں  سے بھی محفوظ ہیں  اور حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ تک شیطان کی رسائی نہیں  کیونکہ  اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ دعا سکھائی اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ دعا مانگی جو کہ قبول ہوئی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑے سے بڑا آدمی بھی اپنے آپ کو شیطان سے محفوظ نہ سمجھے۔ جب نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شیطان سے پناہ مانگی تو ہم کیا چیز ہیں ۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: یہاں  تک کہ جب ان میں  کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہاں  تک کہ جب ان میں  کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے۔

{حَتّٰى: یہاں  تک کہ۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خبر دی کہ جو کفار مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار کر رہے ہیں  یہ اپنی موت کے وقت دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا سوال کریں  گے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کافر اپنی موت کے وقت تک تو اپنے کفر و سرکشی ،   اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرنے اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرنے پر ڈٹارہتا ہے اور جب ا س کی موت کا وقت آتا ہے اور جہنم میں  اس کا جو مقام ہے وہ اسے دکھایاجاتا ہے اور جنت کا وہ مقام بھی دکھایا جاتا ہے جو ایمان لانے کی صورت میں  اسے ملتا ،  تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  مجھے دنیا کی طرف واپس لوٹادے۔( خازن ،  المؤمنون ، تحت الآیۃ:۹۹ ،  ۳ / ۳۳۱ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ص۷۶۵ ،  جلالین ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ص۲۹۲)

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّاؕ-اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: شاید اب میں  کچھ بھلائی کماؤں  اس میں  جو چھوڑ آیا ہوں  ہِشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جس میں  اٹھائے جائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دنیا کو میں  نے چھوڑدیا ہے شاید اب میں  اس میں  کچھ نیک عمل کرلوں ۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے اس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں  گے۔

{لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا: شاید اب میں  کچھ نیک عمل کرلوں ۔} ارشاد فرمایا کہ کافر اپنی موت کے وقت عرض کرے گا کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  مجھے دنیا کی طرف واپس لوٹادے ، شاید اب میں  اس دنیا میں  کچھ نیک عمل کرلوں جسے میں  نے چھوڑدیا ہے اور نیک اعمال بجا لا کر اپنی غلطیوں  اورکوتاہیوں  کا تَدارُک کروں ۔ اس پر اس سے فرمایا جائے گا’’ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہے جو وہ حسرت و ندامت سے کہہ رہا ہے ،  یہ ہونے والی نہیں  اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ۔ مزید ارشاد فرمایا کہ ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں  دنیا کی طرف واپس ہونے سے مانع ہے اور وہ موت ہے کہ قانونِ الہٰی یہی ہے کہ جو مرگیا وہ دوبارہ دنیا میں  نہیں  لوٹایا جائے گا۔ یہاں  یہ بات ذہن میں  رہے کہ انبیاء و اَولیاء کا قدرت ِ الہٰی اور اِذنِ الہٰی سے مُردوں  کو زندہ کرنا اس آیت کے مُنافی نہیں  کہ آیت میں  عمومی قانون بیان کیا گیا ہے جبکہ انبیاء و اَولیاء کا زندہ کرنا قدرت ِ الہٰی کا اِظہار ہے۔

موت کے وقت دنیا میں  واپسی کا سوال مومن و کافر دونوں  کریں  گے:

            یاد رہے کہ جس طرح کافراپنی موت کے وقت ایمان لانے اورنیک اعمال کرنے کے لئے دوبارہ دنیا میں  لوٹا دئیے جانے کاسوال کریں  گے اسی طرح وہ مسلمان بھی دنیا میں  لوٹائے جانے کا سوا ل کریں  جنہوں  نے نیک اعمال کرنے  میں  کمی یا کوتاہی کی ہو گی ،  چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۹)وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰)وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَاؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‘‘(منافقون:۹۔۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاریاولاد تمہیں   اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گاتو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں  سے اس وقت سے پہلے پہلے کچھ ہماری راہ میں  خرچ کرلو کہ تم میں  کسی کو موت آئے تو کہنے لگے ،  اے میرے رب !تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں  مہلت نہ دی کہ میں  صدقہ دیتا اور صالحین میں  سے ہوجاتا۔اور ہرگز اللّٰہکسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللّٰہتمہارے کاموں  سے خبردار ہے۔

            ترمذی شریف میں  ہے ، حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا:جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ بَیْتُ  اللہ شریف کا حج کرنے پہنچ سکتا ہو یا اس پر زکوٰۃ فرض ہو ،  اس کے باوجود وہ حج نہ کرے یا زکوٰۃ نہ دے تو وہ مرتے وقت دنیا میں  واپسی کا سوال کرے گا۔ایک شخص نے کہا:اے عبد اللہ بن عباس! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا ،  آپ  اللہ تعالیٰ سے ڈریں  ،  



Total Pages: 235

Go To