Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کیا وہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بڑھ کر ہے کہ میثاق کے دن تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی محفل میں  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تذکرہ فرمایا ،  انسان کی تخلیق کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اسمِ گرامی کو اپنے نام کے ساتھ عرش کے پایوں  پر لکھ دیا اور ان کے اسمِ گرامی کے وسیلے سے جب حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی تو  اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرفِ قبولیَّت عطا فرمایا ،  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کے اپنی اولاد میں  ہونے کی دعا مانگی اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اسمِ مبارک بتا کر صدیوں  پہلے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دنیا میں  تشریف آوری کی بشارت دی اور یہ وہ مرتبۂ عُظمیٰ ہے جو  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سوا اور کسی کو عطا نہیں  فرمایا۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میرے لڑکا کہاں  سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں  بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں  سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں  بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں ۔

{قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ:عرض کی:اے میرے رب میرے لڑکا کہاں  سے ہوگا۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب بیٹے کی خوشخبری سنی تو عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میرے ہاں  لڑکا کس طرح ہوگا کیونکہ میری بیوی نے اپنی اور میری جوانی کے زمانے میں  بچہ نہیں  جنا تو اب بڑھاپے کی حالت میں  وہ کس طرح جنے گی اور میں  بھی بڑھاپے

کی وجہ سے خشک لکڑی کی طرح سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں ۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۵ / ۳۱۶-۳۱۷)

                یاد رہے کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اس طرح عرض کرنے میں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت پر کسی عدمِ یقین کا اظہار نہیں  تھا بلکہ معلوم یہ کرناتھا کہ بیٹاکس طرح عطا کیا جائے گا ،  کیا ہمیں  دوبارہ جوانی عطاکی جائے گی یااسی عمرمیں  بیٹا عطا کیا جائے گا۔

            نوٹ:حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ کلام سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 40 میں  بھی گزر چکا ہے۔

قَالَ كَذٰلِكَۚ-قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْــٴًـا(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں  نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہ تھا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: ایسا ہی ہے ۔تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے اوپر بہت آسان ہے اور میں  نے تو اس سے پہلے تجھے پیدا کیا حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔

{قَالَ كَذٰلِكَ: فرمایا ایسا ہی ہے۔} حضرت زکریاعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عرض کے جواب میں  یہاں  فرمایا گیا کہ بیٹا اسی حالت میں  دیا جائے گا اور یہ میرے اوپر بہت آسان ہے کہ میں  بڑھاپے کے عوارض دور کر کے آپ میں  جوانوں  کی سی قوت و توانائی پیدا کردوں  اور آپ کی بیوی کے مرض کو دور کر کے انہیں  صحت عطا کر دوں  کیونکہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے آپ کو اس وقت پیدا کر دیا جب آپ کچھ بھی نہ تھے تو جو رب تعالیٰ معدوم کو موجود کرنے پر قادر ہے وہ بڑھاپے میں  اولاد عطا فرمانے پر بھی یقینا قادر ہے ۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی اے میرے رب مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں  سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات دن لوگوں  سے کلام نہ کرسکو گے۔

{قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً:عرض کی: اے میرے رب!میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرمادے۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجب یہ بتا دیا گیا کہ اسی عمر میں  بیٹا عطا ہوگا تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید عرض کی :اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میری بیوی کے حاملہ ہونے کی کوئی نشانی بتادی جائے تاکہ میں  اس وقت سے تیری ا س عظیم نعمت کا شکرادا کرنے میں  مشغول ہو جاؤں ۔  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کے لئے آپ کی زوجہ کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ آپ صحیح سالم ہونے کے باوجود اور گونگا ہونے کے بغیرتین دن رات لوگوں  سے کلام نہ کرسکیں  گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان ایام میں  آپ لوگوں  سے کلام کرنے پر قادر نہ ہوئے  ،  البتہ جب  اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہتے تو زبان کھل جاتی تھی۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۵ / ۳۱۷-۳۱۸ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۳ / ۲۳۰ ،  ملتقطاً)

حقیقی مُؤثِّر  اللہ تعالٰی ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو گُنگ کی بیماری نہ ہوگی کیونکہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس بیماری سے محفوظ ہیں ۔ نیز یہ نشانی بھی بڑی دلچسپ تھی کہ ذِکْرُ اللہ کریں  تو بالکل آسانی سے ہوجائے اور لوگوں  سے کلام فرمانا چاہیں  تو نہ کرسکیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مُؤثِّرِ حقیقی  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور بقیہ اَشیاء صرف اَسبابِ ظاہری ہیں  ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو آگ سے پیاس بجھے اور پانی سے آگ لگے ۔ آگ کا جلانا اور پانی کا پیاس بجھانا سب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے کرنے سے ہے۔

فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں  اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:پس وہ اپنی قوم کی طرف مسجد سے باہر نکلے تو انہیں  اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو۔

{فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ:پس وہ اپنی قوم کی طرف مسجد سے باہر نکلے۔} ایک دن حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس جگہ سے باہر نکلے جہاں  وہ نماز ادا کیا کرتے تھے اور



Total Pages: 235

Go To